ہم اللہ تعالیٰ کے نام اور اس کی صفات میں
توحید کے قائل کس طرح ہوں؟
نام اور صفات کی ضرورت:
کسی بھی ہستی یا چیز کا ایک نام ہوتا ہے، اور اس کی چند صفات
ہوتی ہیں، نام سے وہ ہستی جانی جاتی ہے
اور دوسروں سے ممتاز ہوجاتی ہے، اور صفات سے اس کا تعارف حاصل ہوتا ہے۔
نام کے بغیر کسی ہستی یا کسی چیز کو آپ دوسروں سے ممتاز نہیں
کر سکتے، ایک چیز یا ہستی کو دوسری چیزوں یا ہستیوں سے ممتاز کرنے کےلئے اس کا نام
ضروری ہے، اس اعتبار سے ’’اللہ ‘‘باری تعالیٰ کا ذاتی نام ہے، جب یہ نام بولا جاتا
ہے تو اللہ تعالیٰ کی ذات دوسرے موجودات سے ممتاز ہو کر سمجھ میں آجاتی ہے کہ اس
سے کون مراد لیا جا رہا ہے۔
وَلِلَّهِ
الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي
أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الأعراف:۱۸۰) اللَّهُ
لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى (طہ:۸) هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا
إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ
(۲۲) هُوَ
اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ
الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ
اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ (۲۳) هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ
الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔ (الحشر :۲۴)
صفات کے بغیر تعارف ممکن نہیں ہے:
اور کسی
بھی ہستی /یا چیز کا ادراک اور اس کا تعارف اس کی صفات سے ہوتا ہے، کسی بھی ہستی کی
مجرد ذات کو اس کی صفت سے علیحدہ کرکے نہ سمجھا جا سکتا ہے نہ سمجھایا جا سکتاہے،
مثلاً دودھ کو سمجھنا یا بیان کرنا ہے، تو اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ آپ اس کی
صفت بیان کریں، کہ جیسے: ایک سیال ، جو سفید رنگ کا ہوتا ہے، اور اس کو غذ ا کے
طور پر پیا جاتا ہے اس کو دودھ کہتے ہیں۔ یہ تینوں ہی باتیں دودھ کی صفت ہیں، یعنی
سیال ہونا، سفید ہونا، اور غذا کے طور پر پیا جانا ، ان صفات کے علاوہ مزید
سمجھانے کےلئے یا دودھ کو دوسرے سفید سیالوں سے ممتاز کرنے کےلئے اور بھی صفات کو
بڑھایا جا سکتا ہے، لیکن وہ سب باتیں دودھ کی صفات ہی شمار ہوں گی، مگر دودھ کو بغیر
صفات بیان کئے ہوئے مجرد سمجھا / یا سمجھایا نہیں جا سکتا، ایسے ہی دوسری کسی بھی
چیز کو سمجھانا ہے تو صفات کا بیان ضروری ہے۔
صفات سے مجرد ذات کا اثبات خارج میں ممکن نہیں ہوتا:
صفات سے مجرد ذات کا اثبات خارج میں ممکن نہیں ہے، بلکہ صفات سے مجرد ذات کے اثبات کے نتیجہ میں ہی
عقیدہ حلول پیدا ہوتا ہے جو نصاری کے شرک سے بھی بدتر اور صریح کفر ہے۔
فَإِنَّ
إِثْبَاتَ ذَاتٍ مُجَرَّدَةٍ عَنْ جَمِيعِ الصِّفَاتِ لَا يُتَصَوَّرُ لَهَا
وُجُودٌ فِي الْخَارِجِ، وَإِنَّمَا الذِّهْنُ قَدْ يَفْرِضُ الْمُحَالَ
وَيَتَخَيَّلُهُ، وَهَذَا غَايَةُ التَّعْطِيلِ. وَهَذَا الْقَوْلُ قَدْ أَفْضَى
بِقَوْمٍ إِلَى الْقَوْلِ بِالْحُلُولِ وَالِاتِّحَادِ، وَهُوَ أَقْبَحُ مِنْ
كُفْرِ النَّصَارَى، فَإِنَّ النَّصَارَى خَصُّوهُ بِالْمَسِيحِ، وَهَؤُلَاءِ
عَمُّوا جَمِيعَ الْمَخْلُوقَاتِ. (شرح
العقیدۃ الطحاویۃ:۱/۱۱)
تعطیل :
قرآن مجید
میں صفات باری تعالیٰ کا اثبات آخرت کے اثبات سے بھی زیادہ بیان کیا گیا ہے۔ اور
قرآن نے جو کچھ محکم طور پر بیان کیا ہے اس کو ماننا لاز م اور ضروری ہے۔
اللہ کی صفات کے انکار کرنے کو تعطیل کہتے ہیں ، یعنی اللہ
تعالیٰ کو صفات سے مجرد قرار دینا، یا
اللہ کی صفات میں سے کسی صفت کو کم کردینا یہ تعطیل ہے اور کفر ہے، اللہ تعالیٰ کی
صفات ہیں اور قرآن ان کے بیان سے بھرا ہوا ہے۔
وَلِلَّهِ
الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي
أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الأعراف :۱۸۰) معنى
الزيادة في الأسماء التشبيه والنقصان التعطيل فإن المشبهة وصفوه بما لم يأذن فيه
والمعطلة سلبوه ما اتصف به ولذلك قال أهل الحق : إن ديننا طريق بين طريقين لا
بتشبيه ولا بتعطيل( تفسیر القرطبی:۷/۲۸۵)وَمَنْ لَمْ يَتَوَقَّ النَّفْيَ وَالتَّشْبِيهَ زَلَّ وَلَمْ
يُصِبِ التَّنْزِيهَ(شرح العقیدۃ الطحاویۃ:۱/۶۰)وَقَالَ نُعَيْمُ بْنُ
حَمَّادٍ: مَنْ شَبَّهَ اللَّهَ بِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ فَقَدْ كَفَرَ، وَمَنْ
أَنْكَرَ مَا وَصَفَ اللَّهُ بِهِ نَفْسَهُ فَقَدْ كَفَرَ۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ:۱/۴۲)
اللہ کے خوبصورت نام :
جس طرح
اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں یکاّ و تنہاء ہے اسی طرح وہ اپنے اسماء و صفات میں بھی
منفرد ہے، اس کے جیسے نام اور صفات ہیں اُن میں کوئی بھی اُس کا شریک نہیں ہے، اور
اس کی صفات کے بیان کےلئے اس کے خوبصورت نام ہیں، جو اس نےخود اپنے کلام میں اور
اپنے رسولوں کے ذریعہ بتلائے ہیں۔
وَلِلَّهِ
الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي
أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الأعراف:۱۸۰) اللَّهُ
لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى۔ (طہ:۸)
صفات باری تعالیٰ تک انسانی گمان خود سے نہیں جا سکتا:
اللہ تعالیٰ
کا تعارف اس کی صفات سے ہی حاصل ہوتا ہے،
اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ادراک کہ اللہ تعالیٰ کیسے ہیں بندہ کا ذہن و خیال اس تک
نہیں جا سکتا، محققین نے اسی کے بارے میں کہا ہے: لَا
تَبْلُغُهُ الْأَوْهَامُ، وَلَا تُدْرِكُهُ الْأَفْهَامُ: یعنی نہ وہم و گمان ان کی حقیقت تک جا
سکتا ہے، اور نہ ہمارا ناقص فہم ان کا پوری طرح سے ادراک کرسکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ اپنی دعاؤں میں کہا کرتے تھے: لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك ۔ اور باری تعالیٰ
کا ارشاد ہے: وَلاَ يُحِيطُونَ بِهِ عِلْمًا۔ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَمَا أُوتِيتُم مِّن الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِيلاً۔ اللہ تعالیٰ کا اسم ذات یعنی ’’اللہ‘‘ اس معنی کر بھی ہے کہ :وہ ہستی جس کی کنہ
کا ادارک ممکن نہیں ہے اس کو اللہ کہتے ہیں، اس کا ذکر ہم آگے اسم ذات یعنی اللہ
کے تحت مستقل بھی کریں گے۔
اسماء و صفات الہٰی میں
فرق:
اللہ کے اسماء اس کی صفات پر بنے ہوئے نام ہیں، مثلاً اللہ کی
ایک صفت علم ہے،
جو
آیت : يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا
يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ (البقرۃ :۲۵۵)۔ میں بیان کی گئی ہے، اس صفت کا
اظہار مثلاً : اللہ کے اسم ’’العلیم‘‘ میں کیا گیا ہے۔
اسی طرح اللہ کی ایک صفت رزق دینا ہے، جو آیت : اللَّهُ لَطِيفٌ
بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ (الشوری:۱۹) ۔ میں بیان ہوئی ہے، اس صفت کا
اظہار مثلاً اللہ کے نام ’’الرزاق‘‘ میں
ہوا ہے۔
إِنَّهُ
هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (الشعراء:۲۲۰) إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ
ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ۔ (الذاریات:۵۸)
اللہ
تعالیٰ کی بعض صفات وہ ہیں جن سے بنے ہوئے اسماء اللہ تعالیٰ کےلئے قرآن و سنت میں
وارد ہوئے ہیں، اور بعض وہ صفات ہیں جو صفت کے طور پر تو اللہ کےلئے استعمال ہوئے
ہیں لیکن ان سے بنا ہوا کوئی اسم اللہ کے لئے استعمال نہیں ہوا ہے، مثلاً ارادہ
اور مشیت اللہ کی صفات ہیں، صنعت اللہ کی صفت ہے، اسی طرح محض ’’مقابلہ ‘‘ میں مکر
اور خداع بھی اللہ کے صفات فعلی میں استعمال ہوئے ہیں لیکن ان سے بنے اسماء اللہ
کےلئے قرآن و سنت میں کہیں استعمال نہیں ہوئے۔
فَمَنْ
يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلامِ (الأنعام:۱۲۵) وقال تعالٰى: {وَمَا
تَشَاءُونَ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (التكوير:
۲۹) صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ
أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ (البقرۃ:۱۳۸) صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي
أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ إِنَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَفْعَلُونَ (النمل:۸۸) يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ
خَادِعُهُم۔ (النساء: ۱۴۲)
اب اس کا حکم یہ
ہے کہ قرآن و سنت نے جو ثابت کیا ہے وہ اللہ کےلئے ثابت ہے، اور قرآن و سنت نے
اللہ کےلئے جو ثابت نہیں کیا ہے وہ ثابت نہیں ہے، اس لحاظ سے جن صفات پر کوئی نام
اللہ کےلئے قرآن و سنت میں آیا ہے وہ اللہ کے اسماء حسنی کا حصہ ہے، اور جن صفات
سے کوئی اسم اللہ کےلئے استعمال نہیں ہوا ہے اس میں محض صفت ثابت ہے ان کےلئے کوئی
اسم اپنی طرف سے نہیں بنایا جائے گا۔
وَمَنْ
أَنْكَرَ مَا وَصَفَ اللَّهُ بِهِ نَفْسَهُ فَقَدْ كَفَرَ، وَلَيْسَ فِيمَا
وَصَفَ اللَّهُ بِهِ نَفْسَهُ وَلَا رَسُولُهُ تَشْبِيهٌ. (شرح
العقیدۃ الطحاویۃ:۱/۴۲)
اسماءو صفات باری تعالیٰ توقیفی ہیں:
اللہ تعالیٰ
کی انہیں صفات کا اثبات کیا جائے گا جن کو قرآن و سنت نے بیان کیا ہے، اور ان
صفات کی نفی کی جائے گی جن کی قرآن و سنت میں نفی کی گئی ہے، اور ان باتوں کے
بارے میں سکوت اختیار کیا جائے گا جن کے بارے میں قرآن و سنت نے سکوت اختیار کیا
ہے۔
کیونکہ قرآن و سنت کی تنبیہ ہے کہ بندے اللہ کی صفات اوراس کے
نام خود سے وضع نہیں کر سکتے ، اگر وہ ایسا کریں گے تو اس میں صرف غلطی نہیں کریں
گے بلکہ اللہ کی شان میں گستاخی کے مرتکب بھی ہو سکتے ہیں، جیسا کہ دنیا کی دیگر
مشرک اقوام نے اس راستہ میں ٹھوکر کھائی ہے اور حق سے بہت دور جا پڑے ہیں۔ اس لئے
اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کے بارے میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اس کے متعلق جتنا
سکھایا گیا ہے اسی کے دائرہ میں رہیں، یہ توقیفی معاملہ ہیں۔
قال الإمام أحمد رحمہ الله: "لا
يوصف الله إلا بما وصف به نفسه أو وصفه به رسوله صلى الله عليه وسلم لا نتجاوز
القرآن والسنة" (معتقد
أهل السنة والجماعة في توحيد الأسماء والصفات:۱/۵۶)وقال
شيخ الإسلام ابن تيمية: "وطريقة سلف الأمة وأئمتها أنهم يصفون الله بما
وصف به نفسه، وبما وصفه به رسوله صلى الله عليه وسلم"۔
( منهاج السنة: ۲/۵۲۳) وأسماء الله عز و جل تؤخذ توقيفا ولا يجوز أخذها قياسا ۔
(اصول الدین: ۱/۱۰۸)
توقیفی امر کے معنی:
امر توقیفی اس بات کو کہتے ہیں کہ: اللہ اور اس کے رسول کی
جانب سے ایک بات مقرر کردی گئی، اور ساتھ ہی یہ بھی طے ہے کہ اس میں بندے اپنی
جانب سے کوئی حک و اضافہ اور کوئی تبدیلی نہیں کر سکتے۔چنانچہ بندے اللہ تعالیٰ کا
جتنا تعارف سمجھ سکتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خود اپنے کلام میں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیم میں دے
دیا ہےبندوں کو اسی کا پابند رہنا ہے۔
اسماء و صفات کے باب میں اجتہاد و قیاس آرائی کی قطعاً کوئی
گنجائش نہیں ہے۔اس باب میں قیاس آرائی انسان کو یقینی طور پر حق سے گمراہ کردیتی
ہے، باری تعالی کا ارشاد ہے :وَلِلَّهِ
الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ
سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ(الاعراف: ۱۸۰) -باری تعالی کے ناموں کے ساتھ الحاد کی تفسیر
میں مفسرین نے یہی لکھا ہے کہ اﷲ کے ایسے نام بتانا جو خود اﷲ سے ثابت نہیں ہیں۔
صفات باری تعالیٰ کو توقیفی کیوں رکھا گیا:
اس معاملہ
کو توقیفی اس لئے رکھا گیا ہے کیونکہ کسی بھی شے یا ہستی کا خود سے تعارف وہی دے
سکتا ہے جو اس سے پوری طرح واقفیت رکھتا ہو، اور جس کو مکمل تعارف نہ ہو اس سے غلطی
بھی ہوسکتی ہے۔
پھر انسان کی عقل ناقص اور اس کی ما فی الضمیر کی ادائیگی میں
نقص بھی اس میں رکاوٹ ہے ، اس لئے بھی کہا گیا کہ :اللہ تعالیٰ نے خود اپنی صفات
اور اپنا تعارف پیغمبروں کے ذریعہ دے دیاہے، اب اس میں کسی بھی دخل اندازی کی
ممانعت ہے۔
تمثیل و تشبیہ:
اللہ تعالیٰ کی صفات ثابت ہیں لیکن اسی طرح جیسا کہ خود اللہ
نے اپنے کلام میں بیان کیا ہے، اور پیغمبر ﷺ نے اللہ کے دئیے
ہوئے علم کے مطابق ان کی تشریح کی ہے، اثبات صفات میں اللہ اور اس کے رسول کی بیان
کردہ انہیں حدود میں رہنا ہے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، لیکن انسانی ذہن صفات کے
بارے میں کئی اعتبارات سے غلطی کرتا ہے، صفات کو ثابت کرنے میں قرآن نے ایک اور
تنبیہ یہ کی ہے کہ : ’’اللہ کی صفات ثابت ہیں، لیکن اس کا مثل کوئی نہیں ہے‘‘۔
اللہ تعالیٰ کے جیسا کوئی نہیں ہے، نہ ذات میں نہ صفات میں اور
نہ ہی افعال میں، چنانچہ اللہ تعالیٰ کی جو خصوصیات ہیں مخلوقات میں کسی کو اس سے
متصف نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی اللہ کی صفات میں سے کسی شے میں مخلوقات اس کے
مثل ہوسکتی ہیں، اللہ بندوں جیسا نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کے ارشادہے : لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۔جو لوگ غیر اللہ میں سے کسی کو اللہ
کا مثل اور اس کے مشابہ قرار دیتے ہیں اس میں ان پر صاف طور پر رد کردیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے بعض ناموں کے بارے میں عام انسان کے ذہن میں یہ
شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ شائد یہ صفات اللہ میں بندوں جیسی ہے، یا بندوں میں اس جیسی
صفات اللہ کے مثل ہیں، لیکن اس طرح کا عقیدہ رکھنا کفر ہے، اللہ کی صفات میں سے ایک
صفت خود یہ ہے کہ وہ سب سے جدا ہے، اور اس جیسا کوئی نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اس سے
بہت بلند و برتر ہے کہ کوئی اللہ کے مثل ہو، اللہ تعالیٰ اپنی ذات و صفات اور حقوق
میں سب سے یکتا ہے۔
صفات میں یہ بہت اہتمام سے جاننا ہے کہ:جس نے ’’اللہ‘‘ کو مخلوق کے مشابہ کردیا اس نے کفر کیا
ہے،اور جس نے ’’مخلوق‘‘ کو اللہ کے مشابہ کردیا
اس نے بھی کفر کیا ہے، کیونکہ باری تعالیٰ کے مثل کوئی نہیں ہے۔
فَاطِرُ
السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَمِنَ
الْأَنْعَامِ أَزْوَاجًا يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ
السَّمِيعُ الْبَصِيرُ (الشوری:۱۱)
لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ وَلِلَّهِ
الْمَثَلُ الْأَعْلَى (النحل:۶۰)
وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَى فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔ (الروم:۲۷)
وَقَالَ
نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ: مَنْ شَبَّهَ اللَّهَ بِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ فَقَدْ
كَفَرَ، وَمَنْ أَنْكَرَ مَا وَصَفَ اللَّهُ بِهِ نَفْسَهُ فَقَدْ كَفَرَ،
وَلَيْسَ فِيمَا وَصَفَ اللَّهُ بِهِ نَفْسَهُ وَلَا رَسُولُهُ تَشْبِيهٌ.وَقَالَ
إِسْحَاقُ بْنُ رَاهْوَيْهِ: مَنْ وَصَفَ اللَّهَ بشيء فَشَبَّهَ صِفَاتِهِ
بِصِفَاتِ أَحَدٍ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ فَهُوَ كَافِرٌ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ:۱/۴۲) وَمَنْ لَمْ يَتَوَقَّ النَّفْيَ وَالتَّشْبِيهَ زَلَّ وَلَمْ
يُصِبِ التَّنْزِيهَ۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ:۱/۶۰)
اسماء باری تعالیٰ میں الحاد:
اللہ
کے ناموں میں کسی بھی قسم کا تصرف کرنا یہ الحاد ہے، مثلاً اللہ کے ناموں کو بدل دینا جیسے، اللہ سے اس کی مؤنث ’’لات‘‘ بنانا، یا العزیز سے ’’عُزی‘‘ بنانا، اور منان سے
’’مناۃ ‘‘بنانا،
یہ اسماء باری تعالیٰ میں الحاد کرنا ہے اور ممنوع ہے۔
اسی طرح اللہ کے
نام و صفات میں اپنی عقل سے کچھ اضافہ کرنا یہی تشبیہ ہے، کیونکہ بندہ اضافہ وہی
کر سکتا ہے جو وہ سوچ سکتا ہے اور وہ اسی دائرہ میں سوچتا ہے جتنا اس کا مَبْلغِ
علم ہے، اس کا مَبْلغِ علم مخلوقات کا دائرہ ہے، اب وہ جو بھی اضافہ کرے گا اسی سے
اضافہ کرے گا، اور اس میں وہ لازما اللہ کو مخلوقات کے مشابہ کردے گا، مثلاً اللہ
کو باپ ماننا جیسے نصاری نے کیا ہے، یا اللہ کا جسم ماننا جیسے عام طور پر مشرکین
کرتے ہیں، آیت کی رو سے یہ سب الحاد میں شامل ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ایسا
نام بنانا یا کوئی ایسی صفت بیان کرنا جو خود اللہ تعالیٰ اور پیغمبر ﷺ کی تعلیمات میں نہیں ہے یہ کفر اور شرک
ہے۔
اور اللہ کی ثابت صفات میں کمی کردینا بھی الحاد ہے، اس کا ذکر
اوپر گذر چکا ہے کہ یہ تعطیل ہے۔
وَلِلَّهِ
الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي
أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الأعراف :۱۸۰) معنى الزيادة في الأسماء
التشبيه والنقصان التعطيل فإن المشبهة وصفوه بما لم يأذن فيه والمعطلة سلبوه ما اتصف
به ولذلك قال أهل الحق : إن ديننا طريق بين طريقين لا بتشبيه ولا بتعطيل۔
(تفسیر القرطبی: ۷/۲۸۵)
صفات باری تعالیٰ میں الحاد کا نتیجہ:
اسماء و صفات باری تعالیٰ کو وضع کرنے میں دخل اندازی نہ کرنے
کی اس تنبیہ کو اس اعتبار سے بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ بندے جب پیغمبرانہ تعلیمات
کی پرواہ نہ کرکے اپنے خالق و مالک اور اس کی صفات کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو اس
کے وقار ،تقدیس اور سبحانیت کو پیش نظر رکھ ہی نہیں سکتے، اور اس کی ایسی تصویر کشی
کرتے ہیں جس سے بجائے خالق و پروردگار کی تعریف ہونے کے الٹا توہین لازم آتی ہے،
مثلاً انسانوں نے خالق و مالک کی قدرت اور انعامات کو بیان کرنا چاہا تو اس کی ایک خیالی مورت بنا کر اس کو کئی سَر دئے دئیے،
اور اس کا خود ساختہ جسم بنا کر اس کو کئی ہاتھ دے دئیے، اور اِن ہاتھوں میں پتہ
نہیں کیا کچھ تھما دیا، اور اُن کے ساتھ خود ساختہ فلسفے جوڑ دئیے۔ قہاریت و جباریت
کے اظہار کےلئے بھیانک چہرے بنا دئیے، جانوروں کی تصویر کو خدا کی تصویر بتلایا،
اور کہیں جانوروں کو اس کی سواری بنایا، دنیا کی کوئی بھی قوم جو صفات باری تعالیٰ
کے بیان میں پیغمبروں کی تعلیمات تک پابند نہیں رہی ،ان میں سے ہر ایک ایسی کسی نہ
کسی بے راہ روی کا شکار رہی ہے۔
اس بارے میں انسانی ذہن کی اُپَچ کا اندازہ اس سے لگایا جا
سکتا ہے، کہ ہندو ’’گنیش‘‘کی تصویر سال بسال بناتے رہتے ہیں، اور ہر سال اپنے ذہن
سے اسکی قدرت کےاظہار کےلئے جو تنوع اختیار کرتے ہیں وہ انسانی ذہن کے نقص اور دیوالیہ
پن کو ظاہر کرنے کےلئے نہایت عبرت انگیز ہے،
سر گنیش کا رکھتے ہوئے وہ کہیں اس کا دھڑ رام کا بناتے ہیں، تو کہیں کرشن
کا، اور کہیں شیو کا ،تو کہیں کسی پہلوان کے کسرتی بدن پر اس کا سر جوڑ دیتے ہیں،
اور اس سے انسان سمجھتا ہے کہ اس نے خدا کی طاقت کا اظہار کردیا، انسانی ذہن کی یہی
سب کچھ کارستانیاں اور محدودیت ہوتی ہے، ہر مشرک قوم میں یہ بے ہودگیاں پائی جاتی
ہیں، جو خالق کائنات کی تقدیس و سبحانیت کے بالکل برخلاف اور اہانت آمیز طریقہ
ہے، اس لئے انسان کو اس بات سے منع کیا گیا کہ وہ صفات باری تعالیٰ کا بیان اس کی
تقدیس اور سبحانیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے نہیں
کر سکتا ، بس وہ اسی دائرہ میں محدود رہے جو پیغمبروں کی تعلیمات میں کھینچ
دیا گیا ہے۔
تعطیل اور تمثیل و تشبیہ سے اجتناب:
ہم اللہ
تعالیٰ کی صفات کے معاملہ میں تعطیل سے بھی بچتے ہیں، یعنی صفات کا انکار نہیں
کرتے، اور تمثیل اور تشبیہ سے بھی بچتے ہیں، اور اللہ کی صفات کو بندوں کی صفات جیسا
قرار نہیں دیتے، اور کیفیت سے بھی بچتے ہیں، یعنی جن صفات کی کیفیات کو اپنی جانب
سے بیان کرنے میں بظاہر تمثیل اور تشبیہ لازم آتی ہے ان کی کیفیت کو اللہ کے
حوالہ کرتے ہیں کہ وہ ان کی حقیقت جانتا ہے، باقی چونکہ اللہ نے ان کو بیان کیا ہے
اس لئے ان کو ویسے ہی حقیقی مانتے ہیں جیسا کہ اللہ نے بیان کیا ہے۔
اللہ کے کلمات کی کوئی انتہاء نہیں ہے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: إن لله تسعة وتسعين اسما مائة إلا واحدا من أحصاها دخل الجنة (صحیح
بخاری، باب إن لله مائة اسم إلا واحدا، کتاب التوحید) اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں
جو ان پر کاربند ہوجائے یعنی ان کے مطابق علم و عمل بنائے وہ گویا جنت میں
داخل ہو گیا۔اس حدیث کے ظاہر متن سے یہ
غلط فہمی نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے نام اور صفات بس ۹۹
ہی ہیں، کیونکہ افعال اور صفات باری تعالیٰ کی کوئی انتہا نہیں ہے، اس لئے ان کا
احصاء و شمار محال اور نا ممکن ہے، بندہ کی یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ تمام صفات و
افعالِ باری تعالی کا احاطہ کرلے، اسی لئے باری تعالیٰ نے اپنے کلام میں واضح طور
پر فرمادیا: قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا
لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي
وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا (کہف:۱۰۹) اسی
طرح قرآن مجید میں اس حقیقت کاذکر ایک اور جگہ اس انداز سے فرمایاگیا ہے: وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ
وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ
اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (لقمان:۲۷)
البتہ اﷲ تعالی
نے اپنا اس حد تک تعارف جس کا تحمل اس کے بندے بآسانی کرسکتے ہیں ، اور وہ ان کی
لازمی ضرورت بھی ہے اپنے کلام میں تفصیل کے ساتھ کرایا ہے۔ اور اپنے اسماء و صفات
کو کھول کھول کر بیان فرمایا ہے ، اور اگر یہ کہا جائے کہ کُل قرآن تعارفِ اِلٰہ اور تعارفِ توحید پر ہی مشتمل ہے تو قطعاً
مبالغہ نہیں ہوگا ، قرآن میں یا تو یہ ہے کہ اﷲ
کیا ہے(اسماء و صفات)یا اس بات کا ذکر ہے کہ اﷲ تعالیٰ کیاکرتے ہیں(ربوبیت)، یا اس
بات کا ذکر ہے کہ اﷲ کیا چاہتے ہیں(توحید قصد و طلب /الوہیت)، یا پھر اس بات کا
ذکر ہے کہ خالق و مالک اور رب ذو الجلا ل کے ماننےوالے کون ہیں اور ان کی جزاء کیا ہے، یا اس بات کا ذکر
ہے کہ ُاس سے انحراف اور اعراض کرنے والے کون ہیں اور ان کی سزاء کیا ہے۔
پھر اللہ کے بہت سے نام صرف اللہ کے علم میں ہیں:اہل سنت و
الجماعت اللہ تبارک و تعالیٰ کے ان تمام اسماء و صفات پر تفصیلی ایمان لاتے ہیں جو
اللہ تعالیٰ نے اور اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں سکھائے ہیں، اور ان ناموں اور
صفات پر بھی اس طرح اجمالی ایمان لاتے ہیں جو اللہ نے اپنے علم غیب میں رکھے ہیں
کہ وہ ہیں۔
۹۹ ناموں کی تعداد
صرف اسماء حسنی سے متعلق ہے، معلوم صفات بھی جن سے اسماء بنے ہوئے نہیں وہ بھی کسی
تعداد میں محصور و محدود نہیں ہیں، بلکہ ان کو قرآن و سنت میں دی گئی تفصیلات میں
گننا بھی ممکن نہیں ہے۔
حدیث پاک میں ما ئۃ الا واحدۃ کا مطلب کیا ہے؟
علماء اہل سنت و
الجماعت نے اس بارے میں متفقہ طور پر کہا ہے کہ حدیث میں اس عدد کے ذکر سے یہ بیان
کرنا مقصد نہیں ہے کہ اسماء الہٰی کی تعداد کیا ہے ، کہ ان ۹۹کے علاوہ اﷲ کے اسماء ہیں ہی نہیں ،بلکہ
اصل مقصود ان اسماء کی فضیلت بیان کرنا ہے، کہ جو شخص ان ۹۹اسماء کو یاد کرکے، ان کے مطابق اپنا ایمان
اور عمل بنائے تو یہ تعداد بھی اﷲ کے تعارف کےلئے بہت ہے اور ان کے ذریعہ اﷲ کی
بابت بننے والا صحیح ایمان اور صحیح عقیدہ مکلف کی نجات اور دخول جنت کےلئے کفایت
کرجائے گا، وہ تمام اسماء الہٰی جن کو ہمارے سامنے ذکر نہیں کیا گیا ہے ان کا
احاطہ ضروری نہیں ہے۔
اس بات کی تائید کہ اسماء حسنٰی اس تعداد میں محصور نہیں ہیں
حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں انھوں نے
آپ ﷺکی
ایک دعا نقل فرمائی ہے، جس میں ایسے اسماء کا ذکر بھی ہے جو بندوں کو بتلائے بھی
نہیں گئے آپ ﷺنے
ایک مرتبہ دعاء کرتے ہوئے فرمایا :أسألک بکل اسم ھو لک
سمیت بہ نفسک ، أو أنزلتہ فی کتابک أو علّمتہ أحدا من خلقک، أو استأثرت بہ فی
علم الغیب عندک۔ (ائے
اﷲمیں آپ سے آپ کے ہر اس نام کے واسطے سے دعاء کرتا ہوں جو آپ نے اپنے لئے بیان
کیا ہے، یا اپنی کتاب میں اس کو نازل کیا ہے، یا اپنی مخلوقات میں سے کسی کو سکھلایا
ہے، یا آپ نے اس کو اپنے علم غیب میں ہی رکھا ہے )امام احمد نے مسند میں اس روایت
کی تخریج کی ہے، اور ابن حبان نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے، اس روایت سے معلوم
ہوتا ہے کہ بعض اسماء ایسے بھی ہیں کہ اﷲ نے اپنی کسی مصلحت و حکمت سے بندوں کو ان
کا علم نہیں دیا ہے۔اسی طرح کی ایک دعا ء امام مالک نے کعب أحبار سے بھی نقل کی
ہے اس سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ اسماء الہٰی ۹۹عدد میں محصور نہیں ہیں، حاصل یہ کہ جس حدیث
میں ۹۹کا ذکر ہے ، اس میں اسماء حسنٰی کی تعداد
بتلانا غرض نہیں ہے بلکہ خاص ۹۹اسماء
کی فضیلت بتلانا مقصود ہے۔وہ دعا جو امام مالک نے نقل کی ہے وہ یہ ہے:و أسألک
بأسمائک الحسنٰی ما علمتُ منھا و ما لا أعلم۔ (ائے اﷲ میں آپ کے اسماء حسنیٰ جن
کو میں جانتا ہوں اور جن کو میں نہیں جانتا ان کے واسطہ سے مانگتا ہوں)طبری نے بھی
اس کو قتادہ سے نقل کیا ہے۔اور حضرت عائشہ سے بھی ثابت ہے کہ اسی طرح کی دعا ء وہ
آپ ﷺکی موجودگی میں کیا
کرتی تھیں ۔ (بیہقی:
ص۱۲۔۱۴)
قال
الإمام البيهقي بعد أن ساق عدة روايات في هذا الباب وفيها: "من أحصاها دخل
الجنة"، قال رحمه الله: وليس في قوله عليه الصلاة والسلام: "إن لله تسعة
وتسعين اسماً" نفي غيرها، وإنما وقع التخصيص بذكرها لأنها أشهر الأسماء
وأبينها معاني. وفيها ورد الخبر أن من أحصاها دخل الجنة.(الاسماء و الصفات:۱/۱۱)عن عبد
الله بن مسعود قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « ما أصاب مسلما قط هم ولا حزن
فقال : اللهم إني عبدك وابن عبدك وابن أمتك ، ناصيتي بيدك ، ماض في حكمك ، عدل في
قضاؤك ، أسألك بكل اسم هو لك سميت به نفسك أو أنزلته في كتابك أو علمته
أحدا من خلقك أو استأثرت به في علم الغيب عندك أن تجعل القرآن ربيع قلبي
وجلاء حزني ، وذهاب همي وغمي ، إلا أذهب الله عنه همه وأبدله مكان همه فرحا » ،
قالوا : يا رسول الله ألا نتعلم هذه الكلمات ؟ قال : « بلى ينبغي لمن سمعهن أن
يتعلمهن۔ (الاسماء و الصفات:۱/۱۲)
اسماء حسنی کی تعیین :
اللہ تعالیٰ
کے اسماء حسنی قرآن و حدیث میں بیان کئے گئے ہیں۔ لیکن کسی ایک ہی جگہ یا ایک ہی
حدیث میں یہ پورے ۹۹
نام گنوائے گئے ہیں یا نہیں؟ اس بارے میں تفصیل ہے:اوپر مذکور حدیث ہی سنن ترمذی
اور سنن ابن ماجہ میں منقول ہے جس میں یہ ۹۹
نام موجود ہیں۔
ھو اﷲ الذی لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم الملک
القدوس السلام المؤمن المھیمن العزیز الجبار المتکبر الخالق الباریئ المصور
الغفار القھار الوھاب الرزاق الفتاح العلیم القابض الباسط الخافض الرافع المعز
المذل السمیع البصیر الحکم العدل اللطیف الخبیر الحلیم العظیم الغفور الشکور العلی
الکبیر الحفیظ المقیت الحسیب الجلیل الکریم الرقیب المجیب الواسع الحکیم الودود
المجید الباعث الشھید الحق الوکیل القوی المتین الولی الحمید المحصی المبدیئ المعید
المحیی الممیت الحیی القیوم الواجد الماجد الواحد الصمد القادر المقتدر المقدم المؤخر
الأول الآخر الظاھر الباطن الوالی المتعالی البر التواب المنتقم العفو الرؤوف
مالک الملک ذو الجلال و الاکرام المقسط الجامع الغنی المغنی الضار النافع النور
الھادی البدیع الباقی الوارث الرشید الصبور۔ (سنن ترمذی)۔
الله
الواحد الصمد الأول الآخر الظاهر الباطن الخالق البارء المصور الملك الحق السلام
المؤمن المهيمن العزيز الجبار المتكبر الرحمن الرحيم اللطيف الخبير السميع البصير
العليم العظيم البار المتعال الجليل الجميل الحي القيوم القادر القاهر العلي
الحكيم القريب المجيب الغني الوهاب الودود الشكور الماجد الواجد الوالي الراشد
العفو الغفور الحلم الكريم التواب الرب المجيد الولي الشهيد المبين البرهان الرءوف
الرحيم المبدئ المعيد الباعث الوارث القوي الشديد الضار النافع الباقي الواقي
الخافض الرافع القابض الباسط المعز المذل المقسط الرزاق ذو القوة المتين القأئم
الدائم الحافظ الوكيل الفاطر السامع المعطي المحي المميت المانع الجامع الهادي
الكافي الأبد العالم الصادق النور المنير التام القديم الوتر الأحد الصمد الذي
لم يلد ولم يكن له كفوا أحد۔ (سنن
ابن ماجة)
اس کے
بارے میں چند محققین کی رائے یہ ہے کہ یہ ۹۹
نام نبی ﷺ
کے گنائے ہوئے نہیں ہیں، بلکہ آپ کے ارشاد پر راویوں کی جانب سے قرآن سے نکالے
ہوئے ہیں، اور حدیث میں ان کا اِدْراج ہوا ہے، جس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ
سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں بیان کئے ہوئے اوپر مذکورہ بالا اسماء اور ان کی
ترتیب میں فرق ہے، نیز ان میں کئی ایسے اسماء ہیں جو قرآن و حدیث میں اسم کی شکل
میں وارد نہیں ہوئے ہیں، بلکہ انہیں صفات فعلیہ سے اخذ کرکے اسم بنایا گیا ہے، جیسے
المعز المذل (یہ تعز من تشاءو تذل من تشاء سے مأخوذ ہیں)، اسی
طرح الباسط اور
القابض ( یقبض و یبصط سے مأخوذ ہیں)، اور المبدیٔ اور
المعید ہے (
یہ إنہ ھو یبدیٔ و یعید سے مأخوذ ہیں)وغیرہ۔
یہ بات
متفق علیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ۹۹
نام قرآن میں ہیں، حافظ ابن حجر عسقلانی نے محققین کی قرآن سے ان ناموں کے
استخراج کے بارے میں غیر معمولی تحقیق پیش کی ہے اور اخیر میں قرآن سے نکالے ہوئے
ان اسماء و صفات کو ذکر کیا ہے۔
ﷲ الرحمن
الرحیم الملک القدوس السلام المؤمن المھیمن العزیز الجبار المتکبر الخالق الباریئ
المصور الغفار القھار التواب الوھاب الخلاق الرزاق الفتاح العلیم الحلیم العظیم
الواسع الحکیم الحیی القیوم السمیع البصیر اللطیف الخبیر العلی الکبیر المحیط القدیر
المولی النصیر الکریم الرقیب القریب المجیب الوکیل الحسیب الحفیظ المقیت الودود
المجید الوارث الشھید الولی الحمید الحق المبین القوی المتین الغنی المالک الشدید
القادر المقتدر القاھر الکافی الشاکر المستعان الفاطر البدیع الغافر الأول الآخر
الظاھر الباطن الکفیل الغالب الحکم العالم الرفیع الحافظ المنتقم القائم المحیی
الجامع الملیک المتعالی النور الھادی الغفور الشکور العفو الرؤوف الأکرم الأعلی
البر الحفی الرب الالہ الواحد الأحد الصمد الذی لم یلد و لم یولدو لم یکن لہ کفوا
أحد۔
http://www.anwar-e-islam.org/node/2658#.Vntxzk9ayZg
No comments:
Post a Comment