صبح
کی نماز کے بعد سونا بے برکتی کا ذریعہ ہے‘‘
اور صبح کی نماز کے بعد سونا یہ انتہائی نقصان دہ ہے بزرگوں نے
لکھا ہے کہ صبح کی نماز کے بعد کا
وقت انتہائی برکات والا ہے ،دعائوں والا ہے ،خالی
ذہن ہوتا ہے جو پڑھیں گے دل و دماغ میں بیٹھ جائے گا۔
مغرب
کو دیکھ کر ہمارا معمول بن گیا ہےکہ
رات دیر سے سوکر صبح نماز کے لیے اٹھتے ہی نہیں اورکوئی
اس طرف ہماری توجہ دلائے توہمارے پاس اس
سے جان چھڑانے کے لئے کہ کہیں یہ اور کچھ
نصیحتیں شروع نہ کردے ہمارے پاس دیر سے سونے کےحوالے سے بے شمار بہانے ہوتے ہیں اور شومئی قسمت سے صبح
سویرے اٹھنے وا لوں میں اکثریت بچوں کی ہوتی ہے۔ ورنہ تو کیا بچے کیا، بڑے سب ہی پڑے سوتے رہتے ہیں ، سورج طلوع ہو رہا ہے ،نمازیں قضا ہو رہی
ہیں ،تلاوت اور ذکر اور مطالعہ کا اہم
وقت جا رہا ہے ہمیں کوئی فکر ہی نہیں ہوتی ہے۔
اس بات کا خیال کریں اور اس سے بچیں اللہ تعالیٰ
ہم سب کو ا س کا خیال کرنے کی
توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
’’والدین کی اہم ذمہ داری‘‘
والدین کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک اہم بات اولاد کے ساتھ محبت
اور شفقت سے پیش آنا ہے ،بعض
والدین حد سے زیادہ سختی کرتے ہیں اور بچے پریشانی
کی وجہ سے ذہنی مریض بن جاتے ہیں، اور والدین گھر میں غصے میں رہتے ہیں یہ طریقہ انتہائی غلط ہے اور بعض
والدین اس قدر نرمی کرتے ہیں کہ بچوں کو
والدین کا ڈر ہی ختم ہو جاتا ہے وہ الٹی سیدھی حرکات میں مبتلا رہتے ہیں ان کووالدین کا کوئی ڈر نہیں رہتا ،لاڈ
پیا ر اتنا ہے کہ ان کی غلط حرکتیں دیکھ
کر بھی والدین روکتے نہیں ہیں اگر کہا جائے تو کہتے ہیں کہ نادان ہیں بچے ہیں ،ارے! بچے نادان ہیں تم تو
نادان نہیں ہو ،بچے نادان ہیں والدین تو نادان
نہیں ہیں اس لیے چاہیے کہ والدین معتدل انداز سے بچوں کے ساتھ پیار محبت بھی کریں تاکہ بچے والدین سے اپنی
خواہش کا اظہار کر سکیں ،بچے اپنے والدین
کے ساتھ دل لگی ،ہلکی پھلکی خوش طبعی بھی کریں ،ہاں مگر یہ نرمی اور یہ محبت اصلاح سے مانع نہ ہو، اگر کوئی
غلط حرکت یا عادت بچوں میں دیکھیں تو
فوراً والدین اس پر روک ٹوک کریں۔
حدیث
پاک میں آتا ہے:کہ تمہاری لاٹھی ہر
وقت گھر میں لہراتی رہنی چاہیے، مارو نہ ہر وقت، بس ڈر رہنا چاہیے بچےکو کہ اگر
میں بے وقت گھر جاؤں گا ،اگر میں کسی غلط دوست کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا پکڑا گیا تو میرے والد سختی کریں
گے ،بیٹی کو خطرہ ہو کہ اگر میں کسی
آوارہ لڑکی کے ساتھ تعلق اور علیک سلیک کروں گی تو میری والدہ گرفت کریں گی اس قدر والدین کا ڈر رہنا ضروری
ہے باقی محبت اور شفقت سے پیش آئیں
۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نواسے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو پیار کر رہے تھے تو ایک صحابی نے عرض
کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
میرے تو دس بچے ہیں میں نے تو کبھی پیار نہیں کیا ،تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اگر اللہ
تعالیٰ نے تیرے دل سے محبت اور رحم ختم کر دیا ہے تو میں کیا کروں ؟
پیار
بھی کرنا چاہیے لیکن یہ پیار ان کی اصلاح
سے مانع نہ ہو ۔
’’نبی
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز تربیت‘‘ (۱)حضرت عمرو بن ابی سلمہ رضی
اللہ عنہ بچے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم
کی پرورش میں تھے، دستر خوان لگا ہوا تھا، جس پر ان کا ہاتھ اِدھر اُدھر گھوم رہا تھا تو اللہ کے نبی صلی
اللہ علیہ وسلم نے فوراً تربیت کی غر ض سے فرمایاکہ کھانا اپنے سامنے سے کھاؤ ۔ (۲)حضرت حسن رضی اللہ عنہ جو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے تھے، صدقے
کی کھجور منہ میں ڈال لی اللہ کے نبی صلی اللہ علہ وسلم نے فرمایا :خبردار باہر پھینک دو کیونکہ ہم بنو
ہاشم صدقہ نہیں کھاتے‘‘ اپنے بچے کی تربیت
کر دی ۔
والدین کا فرض ہے کہ خود بھی حلال حرام کاخیال کریں اور اولاد کو
بھی حلال حرام کی تمیز سکھائیں،
والدین کے فرائض میں سے اہم فریضہ اولاد کو حلال
حرام کی تمیز سکھانا ہے اور سب سے بڑی بات اور سب سے اہم بات حلال رزق کا انتظام کرنا ہے ،حلال کھانا اپنی اور
اولاد کی دینداری میں بڑا مؤثر ہے
،اگر ہم بچوں کوحرام کھلائیں گے تو میرے بھائیو!کیسے توقع رکھ سکتے ہیں کہ بچے دیندار بنیں گے ؟
اگر
مال ہے اور اس کی زکوٰۃ کا حساب کر کے والدین نہیں
دیتے سونا ،چاندی ،گندم، چاول ہو ،اگر کوئی زمیندار ہے جو عشر نہ دیتا ہو ،میرے بھائیو! خیال کرو ناپ تول میں ہم ڈنڈی مار جاتے
ہیں۔
’’حرام خوراک کا اثر‘‘اگر آمدن ٹھیک نہیں ہو گی اور وہ آمدن
خوراک میں جائے گی تو یاد رکھو !جو
حرام کھائیں گے ان کی آنکھیں حرام دیکھیں گی ،کانوں سے حرام سنیں گے ،زبان سے حرام بولیں گے ،ہاتھ حرام
کی طرف جائیں گے ،اگر اولاد کو دیندار
بنانا چاہتے ہیں تو والدین کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری یہ ہے کہ اپنے روزگار پر نظر
رکھیں،حلال مال ہو ،شبہ کے مال سے بچیں ۔
’’حلال خوراک کا اثر‘‘ امام
بخاری رحمہ اللہ کے والد حضرت اسماعیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بیٹے محمد بخاری کی خوراک
میں شبہے کا ایک پیسہ بھی نہیں آنے دیا
،حرام کی بات نہیں بلکہ شبہ کا پیسہ بھی اپنے بیٹے کی خوارک میں نہ آنے دیا،تو جس باپ نے اپنے بیٹے کی
پرورش کے دوران خوراک میں ایک پیسہ بھی شبہے
کا نہیں آنے دیا وہ بیٹا امام بخاری بنا ہے، ایسے تھوڑاہی امام بخاری بناتو میں ذکر کررہاتھاکہ حلال
مال کا اولاد کے نیک ہونے میں بڑا اثر ہے
۔
’’تقویٰ
سے اللہ تعالیٰ یوں عزت دیتے ہیں‘‘ حضرت
عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے نانا کا واقعہ کیا ہے؟سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ رات کے وقت گشت کر
رہے تھے،ایک گھر میں ماں بیٹی سے کہہ
رہی تھی کہ دودھ میں پانی ملا دو ،بیٹی نے کہا کہ:اماں جان امیرالمؤمنین نے منع
کیا ہے ،تو ماں نے کہا کہ:امیر المؤمنین کو کیا پتا؟تو بیٹی نے کہا :امیر المؤمنین کا اللہ تو
دیکھ رہا ہے ،یہ خوف خدا دیکھ کر فاروق
اعظم رضی اللہ عنہ نے صبح اپنے بیٹے عاصم کے لیے رشتہ مانگ لیا، بائیس لاکھ مربع میل میں جس کی خلافت کا
پرچم لہراتا ہے آج رشتے کے لیے آیا
کھڑا ہے ہم کہتے ہیں کہ رشتے نہیں ہوتے ،پریشانیاں ہیں ،میرے بھائی! پیسوں سے رشتے نہیں ہوتے بلکہ اللہ
تعالیٰ سے تعلق ہونا چاہیے ۔ تو
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ رشتے کے لیے گئے، اب بیٹے عاصم کے لیے رشتہ مل گیا اس سے جو بیٹی پیدا
ہوئی اس کا آگے جو بیٹا ہے ان کا نام عمر
بن عبد العزیز ہے ۔تو عرض کر رہا تھا کہ حلال غذا کا اولاد کے نیک ہونے میں بڑا اثر ہو تا ہے ۔
’’والدین کی تیرہویں ذمہ داری‘‘ ایک
خاص بات یہ ہے کہ اولاد کو بری صحبت سے بچائیں ،بچوں بچیوں کی سوسائٹی کیسی ہے؟اس بات کا بہت زیادہ
لحاظ کرنا ہو گا ،حدیث پاک میں آتا ہے: ابو داؤد ،ترمذی شریف ترجمہ :ہر شخص اپنے دوست کے دین پر ہے۔ ہم بھی دیکھا کریں کہ ہماری دوستی کن سے
ہے؟
تو
میرے بھائیو! ساری گفتگو کا خلاصہ
یہ ہے کہ اگر ہم دو تین باتوں کو زیادہ اہمیت دیں تو یہ ساری باتیں ہی اہم ہیں ایک بات بڑی اہم
ہے وہ یہ کہ غذا حلال ہو اور ایک یہ بات
بڑی اہم ہے کہ بچوں کی سوسائٹی پر نظر رکھیں خاص طور پر آٹھ، نو سال سے لے کر اٹھارہ ،بیس سال لڑکی اور لڑکے
کی یہ ساری زندگی کے بگاڑ اور سنوار
کا مدار ہے لیکن اچھے والدین تو وہ ہیں جو شروع سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔
’’بچی کو پردہ کب کروانا چاہیے؟‘‘ بزرگ کہتے ہیں سات سال کی بچی ہو تو اس
کے سر پر دوپٹہ اوڑھا دو۔جب بچی
بالغ ہونے کے قریب ہوتو اس کے چہرے کا بھی پردہ کروا دیں، اب غیر محرم کے سامنے اس کا چہر ہ ننگا نہ ہو ۔
’’پردے
کی اہمیت‘‘ یہ مغرب کی گندی تہذیب
اور گندا کلچر ہے، ہم ذہنی غلام بن گئے ہیں، اگر
کہیں بچی دین پڑھنے چلی جائے، بچہ دین پڑھنے چلا جائے اور گھر کا ماحول دینی نہ بنائیں اور اس کی ماں کا ڈوپٹہ
گلے میں ہو ،بال کٹے ہوں ،بازاروںمیں
شاپنگ سنٹرزپر جائے تووہ بیٹی کیسے دیندار بنے گی ؟
ہماری
دن رات پتا نہیں کتنی قوت صرف ہوتی
ہے بہت سے والدین بچوں کو دین پڑھاتے ہیں لیکن
گھر کا ماحول دینی نہیں بناتے ،گھر سے ٹی وی، کیبل وغیرہ کو نہیں نکالتے گھر میں شرعی پردے کا ماحول نہیں
بناتے اور ان کا کزنوں سے میل جول ختم
نہیں کرتے اور بازار میں بے حجاب اور بے نقاب ماں کے ساتھ جانا بند نہیں کرتے ۔
عالمہ
حافظہ بننا فرض نہیں لیکن دین دار بننا فرض عین ہے ۔ خدا را! رسمی دین دار ہم نہ بنیں ان
باتوں کا خیال کریں بچوں کی سوسائٹی
کا خیال کریں بچے کا کن دوستوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے اس پر نظر رکھیں کہ اپنے سے بڑوں کے ساتھ تو نہیں
کھیل رہا ہے بچہ کہاں جاتا ہے؟کہاں سے
آتا ہے؟ کہیں بیلیئرڈ تو نہیں کھیلتا ؟آوارہ گردی تو نہیں کرتا؟
بچی ہے تو اس کا اٹھنا بیٹھنا کن کے ساتھ ہے
والدین کی یہ اہم ترین ذمہ داری ہے لیکن
والدین عام طور پر غافل ہیں ۔
میرے بھائیو! والدین کاایک اور فریضہ اولاد کی اخلاقی خرابیوں کے اسباب پر بھی نظر رکھناہے،یعنی وہ کون
سے اسباب ہیں جن کی وجہ سے بچوں کےاخلاق خراب ہوتے ہیں مثلا بچوں کو غلط ساتھیوں
سے ملنے دینا یہ اخلاقی برائیوںکا
سبب ہے ۲؎ بچوں کی نگرانی نہ کرنا ۳؎ بچوں سے باز پرس
نہ کرنا ۴؎ ان کو آزاد چھوڑ
دینا ۵؎ اسی طرح بچوں کا زیادہ وقت
کھیل کود میں لگ جائے اس سے بھی
بچوں کے اخلاق تباہ ہوجاتے ہیں ۶؎ بچوں کو فلمیں دیکھنے سے نہ روکنا۔
’’موبائل کا زہر‘‘ آج
کل موبائل جس پڑھنے والے بچے اور بچی کے ہاتھ میں آگیا تو سمجھ جائیں کہ پچاس فیصد تو وہ تباہ
ہوگیاموبائل فون ایک نعمت ہے لیکن ہر ایک کی ضرورت
نہیں کوئی کاروباری ہے گھر کا سربراہ ہے گھر کا ذمہ دار ہے اس کی ضرورت ہے پڑھنے والے بچے بچی کی ہر گز
ضرورت نہیں ہے۔
خدا
را! ان دو باتوں سے بچوں کو
بچائیں، ایک موبائل کا استعمال اوردوسرا غلط دوستی سے اپنے بچوں کو بچائیں، اولادیں سنور جائیں گی پیسے
کا گُم ہوجانا بڑا نقصان نہیں ہے اللہ
کی قسم جتنا بڑا نقصان اولاد کا گم ہوجانا، نسل کا گم ہوجانا ہے، آج پیسے کے گم ہوجانے پر ہمیں نقصان کا
احساس ہوتا ہے لیکن اولاد کے گم ہوجانے اور
ضائع ہوجانے پر احساس نہیں۔
بیٹی
گھر سے نکلتی ہے موبائل اس کے ہاتھ میں ہوتا ہے،بیٹا ابھی میٹرک پاس نہیں کرپاتاموبائل اس کے ہاتھ میں پکڑا
دیتےہیں، اس موبائل پر نظر رکھیں بے ہودہ رسالہ کتابچہ وغیرہ ان چیزوں پر نظررکھیں،ایسی
چیزیں گھر میں نہ آنے پائیں ۔
ایک اور والدین کی ذمہ داری بچوں کو بولنے کی تمیز دیناہے،اس بات
پر توجہ دیں کہ آپ کا بچہ بولتا
کیسے ہے ؟بڑوں سے ،چھوٹوں سے، ماں سے ،باپ سے،
بہن سے ،بھائیوں سے۔ اکثر بچوں کی گفتگو میں، تو ،تم ،تو،تم یہ بد تمیزی ہے بد تہذیبی ہے فوراً روکیں اور
ٹوکیں تو ،تو کی بجائے آپ کا لفط استعمال
کریں امی جان، ابو جان ،اسی طرح بھائی بہنوں کو بھائی جان، باجی جان کہنا ہے، جب گفتگو کرنی ہے تو آپ
کا لفظ استعمال کرنا ہے تو اور تم کا لفظ
استعمال نہیں کرنا اس پر نظر رکھی جائے۔
میرے
بھائیو! اولاد کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور سنتوں پر عمل کرنے کی تر غیب دی جائے،
میرے بھائیو !والدین کی ذمہ داری ہے کہ
روزانہ تھوڑی دیر بچے کے سامنے جنت دوزخ کے تذکرے کیے جائیں، خود نہ بیان کر سکیں تو بزرگوں کی کتابیں لے
لیں’’حیات صحابہ‘‘ ہے اسلامی تہذیب کی بہت
سی باتیں ملیں گی، ’’موت کا منظر ،تعلیم الدین ،حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ کے مواعظ، تسہیل المواعظ ،فضائل
اعمال ،پیارے نبی ﷺ کی پیاری سنتیں،عشق رسول ﷺ اور اُسکے تقاضے،توبہ قربِ الٰہی کا
ذریعہ‘‘چند کتابیں جو آسان بھی
ہیں بتلا دی ہیں۔ اسی طرح’’ اسوہ حسنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ایک کتاب ہے پانچ ،دس منٹ یہ پڑھ
کر سنادیں۔
مجھے یاد ہے کہ میرابھتیجا ہے ،جب وہ چھوٹاتھا،گھر میں ٹی وی
تھا،ماں باپ نے کہا کہ بچے دائیں
بائیں کسی کے گھرمیں جاتے ہیں اس لئے ہم کہتے ہیں کہ اپنے گھر میں ہی ٹی وی رکھ لیں،میں
جب ہفتے کے بعد گھر جاتا تو ان کے سامنے
جہنم کا تذکرہ کرتا کہ اس میں سانپ ہوں گے، بچھوہوں گے، آگ ہوگی ،ایسے
ایسے خطر ناک عذاب ہوں گے وہ سانپ اور بچھو ان لوگوں کو کاٹیں گے جو گانے گاتے ہیں، نمازیں چھوڑتے ہیں،یوں
ڈراتا ان بچوں کو۔
پھر جنت کا تذکرہ کرتا، تاکہ جنت میں ایسے ایسے پھل ہوں گے، ایسے ایسے
میوے ہوں گے، اللہ پاک کا دیدار ہوگا،کھلا
میدان ہوگا ،خوب کھیلنے کا سامان ہوگا،نماز پڑھنے کی ڈیوٹی نہیں ہوگی ،وہ ملے گی کیسے ؟اس کے لئے
نماز پڑھنی ہوگی ،قرآن پڑھنا ہوگا، ماں
باپ کا ادب کرنا ہوگا،اس طرح کی باتیں کریں ذکر پر بھی بچوں کولگائیں خاص طور پر
جنت دوزخ کا تذکرہ کریں۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کا معمول بنائیں،بچہ سو کر اٹھے تو دیکھیں دعا
پڑھ رہا ہے کہ نہیں ؟ بیت الخلاء میں جارہا
ہے تو دعا پڑھ رہا ہے کہ نہیں پڑھ رہا؟ کھانا کھا رہا ہے تو ہاتھ دھو رہا ہے کہ نہیں دھو رہا؟ شروع میں آخر
میں دعائیں پڑ ھ رہا ہے کہ نہیں ؟چوبیس
سنتیں ہیں کھانا کھانے کی ، چلو میں سوال نہیں کرتاآپ کی عزت کا خیال کرتا ہوں اب جن کے بچے بچیاں ہمارے
پاس پڑھتے ہیں ان کے والدین سارے بھی نہیں
آئے، کون ہے جو روزانہ اپنے بچوں کی ان حرکات پر نظر رکھتا ہے؟ اگر میں سوال کروں تو ابھی رزلٹ صفر نکلے
گا۔
والدین کی ذمہ داری ہے کہ روزانہ اپنے بچوں کی ان چیزوں پر نظررکھیں
بچے آخر بچے ہیں وہ بھولیں گے ان کو یاد دلائیں بلکہ وہ اچھا عمل کر رہے ہوں تو تھوڑا سا انعام دے دیا کریں
اوراگر گڑ بڑ کر رہیں ہوں تو تھوڑا سا
ناراضگی کا اظہا ر کر دیا کریں ،اچھے اچھے بچوں کے ان کو تذکرے سنایا کریں برُے بچوں کی صحبت سے بچنے کے لئے
ان کو ترغیب دیا کریں ،یہ چنداہم باتیں
ہیں اگر ان کا لحاظ کریں گے تو نتیجہ اچھا ہوگاانشاء اللہ ۔
ایک
خاص بات کہ ہم سب اپنی اولاد کو گھر میں وقت نہیں دیتے، زیادہ تر والدین کی غلطی ہے کہ گھر میں وقت نہیں
دیتے، والد اپنی جگہ مصروف ہے، والد
ہ اپنی جگہ مصروف ہے ،بچوں کو کوئی ٹائم نہیں دیتے روزانہ کچھ نہ کچھ وقت بچوں کو دینا چاہیے، آدھا پونا
گھنٹہ اپنے بچوں میں گزاریں، ان کو وقت دیں،
ان سے دل لگی کریں، خوش طبعی کریں تاکہ ان کی اچھی بری حرکات وعادات سامنے آئیں،بچے سے پوچھیں آج تم نے سکول میں
کیاکیا؟ آج مدرسے میں تم نے کیاکیا؟بچی ہے تواس سے پوچھیں کہ آج تمہیں مدرسے میں
کون کون سی بچیاںملیں؟بیٹا ہے تو
اس سے پوچھیں کہ تمہیں آج کون سے بچے ملے؟ جب تم گئے تو استاد تھے کہ نہیں؟استادوں نے تمہیں
کیا کہا؟ مدرسے والوں نے تمہیں کیا کہا؟
یہاں روزانہ عصر میں پانچ، سات منٹ درس حدیث
ہوتا ہے ،کون سے والدین ہیں جو
روزانہ پوچھتے ہیں کہ آج عصر میں دین کی کیا بات ہوئی ؟ ہم آئے دن ان کو پکڑتے رہتے ہیں،آپ والدین ہیں کیا
آپ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ پانچ سات
منٹ تو اس سے پوچھتے کہ جمعہ کے دن بیان کیا ہواہے ؟ عصر میں کیا بات ہوئی تھی؟بیٹا گر اچھی بات سنائے تو
فوراً اسے انعام دیں اگلی دفعہ وہ کان کھول
کر سنے گا کہ انعام ملتا ہے، میں خود کبھی کبھی اپنے بچوں سے پوچھتا ہوں کہ آج کیا بات کہی گئی تھی؟
اگر میں کسی بزرگ کی مجلس میں لے جاتا ہوں یا
یہاں وقتاً فوقتاًعلماء آتے رہتے
ہیں الحمد للہ ثم الحمد للہ اورآپ کو اس بات پر
شکر گزار ہونا چاہیے اگر کسی علاقہ میں اچھے اچھے ڈاکٹروں کو بلا کر ہمارا چیک اپ کروایاجاتا ہے تو شکرکریں گے
یا نہیں؟آپ لوگ اگر چند سال پیچھے
چلے جائیں تو اس جگہ پر، اس کرسی پر آپ گننا شروع ہوجائیں ملک بھر کے چوٹی کے علماء، اللہ والے ،کتنے اکابر
آئے کتنوں کے بیان ہوئے ،کتنوں کی صحبت
ملی ۔ آپ کی ذمہ داری اتنی تو ہے
کہ آپ آئیں اور دعائیں کریں،نہیں تو کم ازکم
اپنے بچوں سے پوچھ لیں کہ آج جو بزرگ آئے تھے انہوں نے کیا کہا تھا؟ اس پوچھنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ بچے ان
باتوں کو یاد کریں گے لہٰذا آپ بچوں کوٹائم دیں اور معمول بنائیں تھوڑاسا پوچھنا
جاری رکھیں۔
’’مال کمانے میں نیت کیا ہو؟‘‘
والدین گھر میں وقت نہیں دیتے ،ابا سمجھتا ہے کہ کما کر بچوں کو
دینا میرا فرض ہے بھائی! کمانا ایک
درجہ میں ضروری ہے لیکن سب کچھ کماناہی نہیں ہے
،اگر حلال کماتا ہے تو ایک حدیث میں آیا ہے کہ کمانے میں نیت یہ ہو کہ بچوں کی ضرورت پوری ہوجائے، ہمسایوں سے
اچھا سلوک ہو کسی کے سامنے بھیک نہ مانگنی
پڑے تو قیامت کے دن اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوگا۔
اورجو
والدین حلال کمائیں لیکن نیت یہ ہو کہ واہ واہ ہوجائے ،خاندان میں بلے بلے ہوجائے، شان و شوکت ہوجائے
،توایسے والدین اس حال میں ہوں گے کہ
اللہ ان سے ناراض ہوگا۔
تو
میں عرض کررہاتھاکہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ اولاد
کو وقت دیں۔ کچھ بچوں کی عادت ہوتی
ہے کہ گھر میں پیٹ کے بل لیٹتے ہیں چھوٹے بچوں کی
اکثر عادت ہے کہ جب لیٹتے ہیں تو الٹے لیٹتے ہیں،الٹا لیٹنا شیطان کی عادت ہے دائیں کروٹ لیٹنا حضور صلی اللہ
علیہ وسلم کا طریقہ ہے ،سیدھا لیٹنا
انبیاء کا طریقہ ہے بچوں کو الٹا لیٹنے سے بچائیں ان کی عادت کوسنواریں۔
والدین کی ایک اورذمہ داری یہ ہے کہ اولاد کے لباس پر نظر رکھیں، بچوں کو چھوٹی عمر میں ہی لباس سنت کے
مطابق پہنائیں،پینٹ شرٹ نہ ہوبلکہ پینٹ
شرٹ سے نفرت دلائیں کیونکہ انسان کے ظاہر کا باطن پر اثر ہوتا ہے، بچوں بچیوں کے لباس میں فرق ہواور بچی کو
پردے کی اہمیت اور عظمت سنائیں،میں نے پہلے
بھی عرض کیا کہ اگربیٹی سات سال کی ہوجائے تو چادر اس کے سر پر دے دیں اور جب بالغ ہونے کے قریب آجائے
توپورے چہرے کو بھی ڈھانپے ۔
اسی طرح والدین کی ایک اور ذمہ داری یہ ہے کہ بچوں کی صفائی کا خوب خیال رکھیں،حالانکہ میں استاد نہیں ہوںپڑھاتا
نہیں ہوںہمارے استادوں سے پوچھئے!
آئے دن میں پکڑ رہا ہوتا ہوں، کسی دن اچانک چھاپہ مارتا ہوں، ان کے دانت چیک کررہا ہوتا ہوں،ان کے بال
چیک کر رہا ہوتا ہوں تو بھائیو! یہ ہماری
ذمہ داری ہے کیا آپ کی کوئی ذمہ داری نہیں
ہے؟ اس لئے گزارش ہے کہ بچوں
کے دانت روزانہ چیک کریں ان کے کپڑے چیک کرتے رہیں گرمیوں میں کوشش کیا کریں کہ روزانہ صبح شام نہایا کریں،
نہیں تو ایک دفعہ تو ضرور روزانہ غسل کریں میں نے سب کو کل کھڑا کردیاکہ جو آج غسل کر کے آئیں ہیں وہ چھٹی
کرلیں اور جنہوں نے نہیں کیا ان کو تھوڑی دیر کے لئے روکا ،تو صفائی
ستھرائی کا لحاظ کریں مسواک کی
عادت ڈالیں، بچوں کی مسواکیں چیک کیا کریں اور رات کو برش کر کے سلایا کریں،کھانے کے بعد صبح
برش کریں،حدیث پاک میں آتا ہے: مشکوٰۃ
ص۳۸ ترجمہ: ’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘ سچی
بات ہے کہ بعض بچے اتنے پر اگندہ حال ہوتے ہیں اور انکے ناخن خستہ حال ہوتے ہیں کہ جیسے ان کے والدین نے
سمجھا ہی نہیں کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔
’’مجلس کا خلاصہ‘‘
تو میرے بھائیو!یہ مجلس منعقد کرنے کا مقصدیہ ہے کہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہوجائے ،توجو والدین ان
باتوں کا لحاظ کر رہے ہیں ہماری دعا ہے
کہ اللہ پاک ان کو مزید استقامت عطا فرمائے اور جو والدین کوتاہی برت رہے ہیں
وہ پچھلی کوتاہی پر توبہ کریں
اورآج نئے عزم کے ساتھ ان باتوں کا لحاظ کریں،مزید علماء سے بزرگوں سے مشورہ کریں کبھی مجھ سے ضرورت ہو تو
پوچھ لیں۔ ایک بات یاد رکھیں میں
نے کہا کہ چار طرح کے لوگ ہیں جس طرح گاڑی کے چار
پہیے (ٹائر)ہوتے ہیں اگر ایک ٹائر ناکام ہوجائے تو گاڑی نہیں چلے گی تو بچے کی تربیت کے لئے چار طرح کے لوگوں
کو متحرک ہونا ضروری ہے۔
نمبر۱: بچہ خود سمجھ دار
ہو، بچہ محنت کرے آوارہ گردی نہ کیا کرے بچوں کو احساس
دلائیں۔
نمبر۲:بچوں کے والدین دل چسپی لیں
متحرک ہوں۔
نمبر ۳: بچوں کا استادفکر مند ہو۔
نمبر۴:جس ادارہ میں بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں
وہاں کی انتظامیہ متحرک
ہو۔
سارے اللہ سے مانگیں تو ناکامی کی کوئی وجہ نہیں
اللہ پاک نے ساری صلاحتیں رکھی ہیں لیکن کہیں نہ کہیں ہم سارے ہی کوتاہی کر
رہے ہوتے ہیں
یا ہم میں سے کوئی ایک فریق کوتاہی کر رہا ہوتا ہے جس کی وجہ سے
ہمیں نتیجہ صحیح نہیں ملتا ۔
’’اولاد کی اصلاح کے لیے ایک اہم وظیفہ‘‘
اولاد
کی اصلاح کے لئے آخرمیں ایک وظیفہ بتاتا ہوں
انیسویں پارے سورۃ الفرقان
میں ایک دعا ہے : {رَبَّنَا
ھَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا} پارہ ۱۹،سورہ الفرقان آیت ۷۴ اس
دعا کو معمول بنالیں بلا ناغہ جو والدین یہ دعا مانگتے رہیں
گے حکیم الامت حضرت
مولانا شاہ محمد اشرف علی صاحب تھانوی نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں
کہ کتنے ہی بچے بگڑے ہوئے ہوں ایک نہ ایک دن بچوں کی زندگی میں فرق آ کر ہی رہے گا۔
اور ایک کام اس کے ساتھ یہ بھی کریں کہ کبھی کبھی خود بچوں کو بھی اللہ والوں،دین والوں کے ماحول میں
جوڑا کریں اورخود بھی جڑا کریں۔والدہ ہیں
تو لڑکیوں کے مدرسے میں آئیں،کوئی شکایت ہے تو وہاں بتلائیں
والد مجھ سے کبھی
کبھی مل لیا کریں اس سے بھی بچے کا حال سامنے آئے گا اگر آپ کو اپنے ایک بچے کی فکر نہیں اور اس کے حوالے سے ملنے کا احساس نہیں تو قوم کے کتنے بچے ہیں ان سارے بچوںمیں سے اس ایک بچے کی میں کتنی فکر کروں گا
؟تھوڑا ساآپ
بھی تو ملتے رہیں اس سے انشاء اللہ بہتری ہوگی ۔
تو جن بچوں اور بچیوں نے حفظ کر لیا ہے وہ حافظ بننے کے بعد بھی
سکول میں جائیں ڈاکٹر بنیں، انجینئر بنیں، تاجر بنیں ہم منع نہیں
کرتے لیکن خدا را! دین
دار بنیں قرآن کو پڑ ھتے رہیں،دینی ماحول سے جڑ تے رہیں،وقتاً فوقتاً علماء، اللہ والوں سے ملتے رہیں،جڑے
رہیں تاکہ دین زندگیوںمیں محفوظ رہے۔
’’اصل منزل آخرت ہے‘‘ہماری منزل صرف مرنے تک کا سوچنا نہیں ہے اصل
منزل مرنے کے بعد قبر اور آخرت
ہے، حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ کا ارشاد پھر دہراتاہوںکہ والدین یہ سوچتے ہیں کہ ہمارے مرنے کے بعد
ہمارے بچوں کا کیا بنے گا؟
ارے
یہ سوچا کرو کہ جب یہ مریں گے تو
ان کا کیا بنے گا؟
یہ
بچے امانت ہیں اگر بچے سنور گئے تو
میرے بھائیو! دنیا آخرت کی راحت ہے ۔ ایک
بزرگ نے بڑی عجیب بات کہی کہ اگر والدین نے پوری زندگی کوشش کی پھر بھی بچہ بگڑ گیاتووالدین عند اللہ
سرخرو ہوں گے اور اگر والدین نے غفلت برتی
لیکن بچہ اللہ کی طرف سے ہدایت پر آگیاتو تب بھی والدین سے کٹہرےمیں سوال ہوگاکہ
تم نے اپنے فریضہ میں غفلت کیوں
کی؟
اللہ پاک جل شانہ ہم سب کو اپنے فریضے کا احساس
نصیب فرمائے ۔
’’اللہ کیسے ملتا ہے؟‘‘ اللہ
والوں کی صحبت سے اللہ ملتا ہے
: ہر کہ خواہد ہم
نشینی با خدا گو نشینند در حضور
اولیاء
جو چاہتا ہے کہ میں اللہ والا بن جاؤںوہ کسی اللہ والے پاس بیٹھا کرے کیونکہ اچھوں کی صحبت انسان کو اچھا
بنا دیتی ہے اور ان کی صحبت میں بیٹھیں
کبھی کبھی زبان سے کوئی ایسی بات نکلتی ہے جو دل پر اثر کر جاتی ہے، کوئی خاص گھڑی ہوتی ہے جس میں اللہ کی
خصوصی رحمت ہوتی ہے، ویسے ہمارے ہاں جو
میں نے ابھی آپ سے باتیں کی ہیں ہر جمعرات کو آدھا گھنٹہ اسی طرح مجلس ہوتی ہے اور اس میں اصلاح کی باتیں ہوتی
ہیں آپ وقتاً فوقتاً آجایاکریں،جمعہ میں آجایا کریں، عصر میں آجایا کریں تاکہ
ملاقات ہو جائے اور بچے کا حال ا
حوال بھی ہوجائے۔ اللہ پاک ہم سب
کوجو کہا اور سنا گیا اس پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ اٰمیں ثم اٰمین۔
بشکریہ سنڈے میگرین روزنامہ دنیا
http://mag.dunya.com.pk/index.php/deen-o-dunya/1346/2014-02-16

No comments:
Post a Comment