Featured Post

اسماء الحسنیٰ ۔ انسان کی تمام پریشانیوں اور مصیبتوں، تکالیف اور بیماریوں کا شافی علاج

اسماء الحسنیٰ  انسان کی تمام پریشانیوں اور مصیبتوں، تکالیف اور بیماریوں کا شافی علاج بسم اللہ الرحمن الرحیم دنیا کبھ...

Thursday, December 24, 2015

اسماء الحسنیٰ ۔ انسان کی تمام پریشانیوں اور مصیبتوں، تکالیف اور بیماریوں کا شافی علاج

اسماء الحسنیٰ
 انسان کی تمام پریشانیوں اور مصیبتوں، تکالیف اور بیماریوں کا شافی علاج




بسم اللہ الرحمن الرحیم
دنیا کبھی بھی امن و سکون کا گہوارہ نہیں رہی‘ انسان اشرف لمخلوقات ہوتے ہوئے نت نئی پریشانیوں‘ آلام و مصائب کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے‘ اس کی وجہ شایدکے انسان کی حد سے بڑھی ہوئی خواہشات ہیں۔ تاہم وہ تصور یہی کرتا ہے کہ یہ تمام مشکلات منجانب اللہ ہیں حالانکہ اپنی کوتاہیوں اور بداعمالیوں کو یکسر فراموش کرتے ہوئے یہ بھی بھول جاتا ہے کہ اس کا رب‘ اس کا پروردگار‘ اس کا خالق ‘ مالک‘رحمن‘رحیم‘اور رؤف ہے‘ اسے پریشانی میں گھرا دیکھ نہیں سکتا‘ پریشانیاں پیدا کیوں کرے گا؟یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ شکست‘ مجبوری اور ناکامی کی صورت میں خدا کو موردالزام ٹھہراتا ہے  (نعوذ باللہ ) جبکہ کامیابی‘ کامرانی اور خوشیوں کے حصول کو اپنی اہلیت‘ صلاحیت اور کوشش کامرہون منت گردانتا ہے۔
سورۂ شوریٰ آیت 30 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَۃٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ۝

اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے فعلوں سے اور وہ بہت سے گناہ تو معاف ہی کردیتا ہے 
 اس طرح سورۂ آل عمران  آیت 165میں ہے۔
قُلْتُمْ اَنّٰى ہٰذَا       ۭ قُلْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ      ۭ اِنَّ اللہَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۝

 ان پرجب بھی کوئی مصیبت آتی ہے‘ تو کہتے ہیں یہ کیسے آ گئی‘ اس کا ذمے دار کون ہے؟ ان سے کہہ دو کہ یہ خود تمہاری اپنی لائی ہوئی ہیں۔ اس کے ذمے دار کوئی نہیں خود تم ہو۔
انسان کی دنیا اور آخرت میں کامیابی کا دارومدار جس طرح اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل اور سنت نبوی ﷺ پر عمل کرنے میں ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنیٰ بھی انسانی مصائب اور مشکلات کو دور کرنے اور زندگی میں کامیابی کی راہیں کھولنے کے لئے اکسیر کا درجہ رکھتے ہیں۔
رب کائنات کے اسمائے مبارک میں پوشیدہ فضیلتیں ، فوائد اور حکمتیں کوزے میں دریا اور بند سیپ میں موتی کی مانند ہیں جن کے اسرار و رموز کو پوری طرح جاننا عقل انسانی کے لئے ممکن نہیں ہے۔ حواس اور عقول خدا کا ادراک نہیں کر سکتیں۔
بچہ جب تک ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے ، وہ یہی سمجھتا ہے کہ کل دنیا بس یہی ہے۔ جس میں گہری تاریکی ہے اور وہ اس دنیا کا واحد مکین ہے، اس کے سوا اس دنیا میں کوئی اور نہیں رہتا۔ لیکن جب باہر آتا ہے تو اسے بہت سے انسان نظر آتے ہیں ارد گرد بہت سی چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔ زمین آسمان، چاند، سورج ، ستارے، افق سے افق تک پھیلی ہوئی دنیا۔ وہ ہر چیز کو اپنی قوت بصارت سے دیکھتا ہے اور عطا کی ہوئی عقل سے سمجھتا ہے۔ ظاہر ہے وہ اپنی محدود قوت بینائی اور دائرہ عقل کی حد تک ہی چیزوں کو دیکھ اور سمجھ سکتا ہے۔ اس سے آگے نہ وہ کچھ دیکھ سکتا ہے اور نہ کچھ سمجھ سکتا ہے۔ چیزوں کو سمجھنے کی استطاعت میں اضافے کے لئے حواس خمسہ اس کے معاون و مددگار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسروں کے تجربات و مشاہدات اس کے علم میں اضافہ کرتے ہیں۔ یہ تمام تجربات و مشاہدات اور علوم ، محدود بصارت اور محدود عقل کے باعث فی نفسہی محدود ہوتے ہیں۔ چیزوں کو جاننے اور سمجھنے کی اہلیت انسانی عقل و علم کے دائرہ پرواز سے آگے نہیں جا سکتی۔ لہذا وہ چیزیں اسی حد تک سمجھی جا سکتی ہیں جہاں تک علم و عقل کے وسائل کی سرحد ہوتی ہے۔
گویا شکم مادر کی طرح یہ دنیا بھی معنی کی وسعت کے ساتھ محدود ہے جہاں چیزوں کو محدود عقل وعلم کے وسائل کے ذریعے ہی سمجھا جا سکتا ہے۔
لیکن اگر جاننے اور سمجھنے کا معاملہ خود ایسی ہستی کا ہو جو تمام چیزوں کی خالق ہو، عقل شعور عطا کرنے والی ذات ہو اور انہیں استعمال کرنے والے انسان کی خالق ہو تو مخلوق کے لئے خالق کو سمجھنا اس کے احاطہ خیال سے باہر کی بات ہے۔ مخلوق اپنے خالق کو بس اتنا ہی سمجھ سکتی ہے جتنا خالق چاہے۔ خالق نے شکم مادر کی طرح کائنات کی سرحدیں بھی اتنی ہی مقرر کی ہیں جتنی مخلوق کو درکار ہیں۔ اس سے آگے جانے کی نہ تو انسان کے پاس قوت ہے اور نہ اس کی اجازت ۔ یہاں اس امر کا اعادہ کرنا بھی ضروری ہے کہ تمام مخلوقات میں انسان ہی اشرف و افضل ہے۔ زمین پر اللہ کا نائب اور خلیفہ ہے۔لہٰذا س منصب کے طفیل دیگر مخلوقات کے مقابلے میں حضرت انسان علم و دانائی میں بھی سبقت رکھتا ہے۔ قرآن حکیم  سورہ بقرہ آیات 30 تا 33میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَۃِ اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَۃً       ۭ قَالُوْٓا اَتَجْعَلُ فِيْہَا مَنْ يُّفْسِدُ فِيْہَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاۗءَ     ۚ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ      ۭ قَالَ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۝ وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاۗءَ كُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلَي الْمَلٰۗىِٕكَۃِ       ۙ فَقَالَ اَنْۢبِــُٔـوْنِىْ بِاَسْمَاۗءِ ھٰٓؤُلَاۗءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۝  قَالُوْا سُبْحٰــنَكَ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا      ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ۝   قَالَ يٰٓاٰدَمُ اَنْۢبِئْـھُمْ بِاَسْمَاۗىِٕہِمْ     ۚ فَلَمَّآ اَنْۢبَاَھُمْ بِاَسْمَاۗىِٕہِمْ    ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ     ۙ وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ۝ 
اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں (اپنا) نائب بنانے والا ہوں۔ انہوں نے کہا۔ کیا تُو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت وخون کرتا پھرے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح وتقدیس کرتے رہتے ہیں۔ (خدا نے) فرمایا میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔  اور اس نے آدم کو سب (چیزوں کے) نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ  ۔ انہوں نے کہا، تو پاک ہے۔ جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے، اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ بے شک تو دانا (اور) حکمت والا ہے ۔  (تب) خدا نے (آدم کو) حکم دیا کہ آدم! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ۔ جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو (فرشتوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جاتنا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو (سب) مجھ کو معلوم ہے ۔
اس آیت مبارکہ میں انسان کی حقیقت اور کائنات میں اس کی اصل حیثیت بیان کی گئی ہے کہ وہ زمین کا خلیفہ ہے۔ ذرا تصور کریں اس وقت کا جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں نائب بنانے والا ہوں تو انہوں نے عرض کیا خدایا وہ تو زمین کے نظام کو بگاڑ دے گا اور خون خرابہ کرے گا۔حمدو ثنا ، تقدس کا جہاں تک تعلق ہے وہ تو ہم کر ہی رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ضرورت اور مصلحت کو میں ہی جانتا ہوں تمہیں اس کا علم نہیں ہے۔
پھر اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور اشیاء کے حقائق و خواص معلوم کرنے کی استعداد اس کی فطرت میں ودیعت فرما کر تمام اشیاء کا علم انہیں دے دیا۔ پھر انہیں فرشتوں کے روبرو پیش کیا اور کہا گیا اگر تم سچے ہو تو ذرا ان چیزوں کے نام تو بتاؤ۔
فرشتوں نے عرض کیا خدا وند ! نقص اور عیب سے پاک تو تیری ہی ذات ہے۔ ہم عاجز ہیں ہمیں جتنی استعداد تونے عطا کی ہے۔ اس کے علاوہ ہم کچھ نہیں جانتے۔ حقیقت میں سب کچھ جاننے اور سمجھنے والا تیرے سوا کوئی نہیں۔
گویا اللہ تعالیٰ نے انسان کو علم کی بنیاد پر فرشتوں سے افضل قرار دیا۔ چیزوں کے اسماء اور خصوصیات کا یہی علم انسان کی نیابت اور خلافت کی دلیل بنا۔ اشیائے کائنات کی حقیقت کو کھوج لگانے ، انہیں سمجھنے اور تسخیر کرنے کا میدان انسان کے لئے کھلا چھوڑ دیا گیا۔ چاند ستاروں پر انسان کی کمند، سمندر کی   اتھاہ گہرائیوں تک رسائی، ذرہ کا جگر توڑ کر توانائی کا حصول یہ سب انسانی علم کی ترقی کے مظاہر ہیں۔
انسان کے علم اور تسخیر کا یہ سفر کتنی ہی بلندی پر کیوں نہ پہنچ جائے، انسان کے محدود علم و عقل کے دائرے میں ہی مقید رہے گا۔ کیونکہ اشیائے کائنات کی حقیقت کے بہت سے سربستہ راز ایسے ہیں جو صرف خدائے علیم و خبیر کے لامحدود علم میں ہوں گے۔ کائنات کا خالق ہی اس کی اصل حقیقت و ماہیت کو جانتا ہے۔
فطرت خداوندی اور کاروبار کائنات کو دیکھیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ خدا اپنی نعمتیں پانی‘ ہوا‘ ز ندگی اور بقاء کے وسائل کو عام تقسیم فرماتے ہیں‘ سب کو یہ سہولیات بلا تخصیص ملتی جاتی ہیں‘ یہ یقین بڑا ضروری ہے کہ بنیادی وسائل میں حصہ پانے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ ہمارے ذاتی معاملات مثلاً ترقی‘ خوشحالی‘ کشادہ دستی‘ اولاد ان کی بہتر ضروریات زندگی کی فراہمی‘ ان کی شادی بیاہ کی انجام دہی‘ صحت اور ملازمت سب کا بندوبست اللہ وقت مقررہ پر فرما دیتا ہے’ ہمارا رب ہماری کسی ضرورت سے غافل اور بے پروا نہیں‘ اس یقین کے ساتھ ہمارا تعلق اپنے رب سے قوی ہو جاتا ہے اور ہم مصیبتوں سے نکل کر کامیالی کی حدود میں داخل ہونے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات سے ہی انسانی حیات کے اوصاف میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔
زندگی، مسلسل جدوجہد اور تگ دو سے عبارت ہے۔ ہر شخص کچھ نہ کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کسان بہتر سے بہتر فصل حاصل کرنے کی جستجو میں ہے۔ ملازم اپنی ملازمت میں ترقی کا خواہشمند ہے۔ کاروبار کرنے والا اپنے کاروبار کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتا ہے۔ طالبعلم امتحان میں کامیابی کا متمنی ہے۔ دولتمند ، مزید دولت مزید عزت اور سرفرازی کے لئے کوشاں ہے۔ اگر کوئی کسی مشکل میں ہے تو اس مشکل سے نکلنا اس کا سب سے بڑا مقصد ہے۔ بیمار کا بیماری سے نجات حاصل کرنا اس کی سب سے بڑی راحت ہے اسی طرح سالک کی سب سے بڑی تمنا اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے۔ غرضیکہ ہر شخص کسی نہ کسی مقصد کے لئے کوشاں ہے۔ مقصد میں کامیابی کی شرط کوشش ہے لیکن یہ کوشش کامیابی کی ضمانت ہرگز نہیں۔ کسی بھی نیک مقصد مین کامیابی کی ضمانت اگر کہیں سے مل سکتی ہے تو وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
مشکل کو آسانی، ناکامی کو کامیابی اور ناممکن کو ممکن بنانے والی وہی ہستی ہے۔ سورہ بقرہ کی آیت 117 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ      ۭ وَاِذَا قَضٰٓى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَہٗ كُنْ فَيَكُوْنُ۝
(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والاہے۔ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اس کو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے .
سورہ سبا کی آیت 3 میں ہے۔
لَا يَعْزُبُ عَنْہُ مِثْـقَالُ ذَرَّۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَلَآ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْبَرُ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ۝
ذرہ بھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں (نہ) آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور کوئی چیز ذرے سے چھوٹی یا بڑی ایسی نہیں مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے
اشیاء کی مادی حقیقت کے علاوہ ان کی ایک باطنی اور معنوی حقیقت بھی ہوتی ہے۔ جسے حواس خمسہ کے ذریعے نہیں جانا جا سکتا ہے۔ بلکہ اسے سمجھنے اور جاننے کے لیے ایک خاص روحانی کیفیت اور ماورائی قوت درکار ہوتی ہے۔ مثلاً سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ چاند کے گھٹنے بڑھنے سے انسانی جذبات متاثر ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ہمارے پاس اسے ناپنے کا کوئی سائنسی آلہ نہیں ۔ قرآنی آیات سے کینسر جیسی بیماریوں تک کا شافی علاج ہوا ہے۔ کلام الٰہی سے آنکھوں کی بینائی بحال ہوئی ہے اس کا ثبوت ایسے جیتے جاگتے لوگوں کا ہمارے درمیان موجود ہونا ہے۔ ان لوگوں کی شفایابی اس باطنی ، معنوی اور روحانی حقیقت کی واضح تصدیق کرتی ہے۔
لیکن سائنسی طریقہ کار اور مادی parameters کے تحت ان معاملات کا تجزیہ ممکن نہیں۔ انسان کی مشکل یہ ہے کہ وہ مشاہدے میں آنے والی چیزوں پر ہی اعتبار کرتا ہے۔ ٹھوس مادی حقیقت کی روشنی میں اپنے یقین کی کھڑکی کھولتا ہے۔ جبکہ کھلی آنکھوں سے نظر نہ آنے والی حقیقت کو فوری طور پر تسلیم نہیں کرتا۔ بلکہ کسی ایسے تجربے سے گزرنے کے بعد ہی بتدریج اعتبار کرتا ہے۔ ہم ایسے ذہنوں کے لئے جو منطقی دلیل اور سائنسی انداز سے چیزوں کو قبول کرتے ہیں۔ لفظوں کے اثرات اور نتائج کے حوالے سے ہم ایک تھیوری پیش کرتے ہیں۔ تاکہ انہیں بات سمجھنے میں آسانی رہے۔
اہل روحانیت کے ہاں ہر حرف کا ایک مخصوص رنگ ہوتا ہے۔ اور یہ ایک مادی ذرے کی طرح کچھ توانائی اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتا ہے۔ محققین نے حروف کو روحانیت کی آنکھ سے دیکھا تو انہیں الف کا رنگ سرخ، ب کا نیلا، د کا سبز اور س کا رنگ زرد نظر آیا۔ مختلف رنگوں اور توانائیوں کے حروف سے مل کر جب کوئی لفظ بنتا ہے۔ یعنی ایسے حروف کی ایک خاص ترتیب کے ذریعے جو لفظ تشکیل ہوتا ہے۔ وہ خاص اثرات کا حامل ہو جاتا ہے۔ اس لفظ کی ادائیگی کا اسلوب ، خلوص، وقت ، تعداد اور پڑھنے والی شخصیت کا روحانی مقام یہ سب مل کر مطلوبہ اثرات کے اظہار میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ صاحبان روحانیت نے ان لفظوں کے اثرات کا جائزہ لیا تو معلوم ہو ا کہ بعض الفاظ کے پڑھنے سے بیماریاں جاتی ر ہیں۔ بعض سے بچھوکے ڈنک کی تکلیف غائب ہو گئی اور بعض سے سانپ تک پکڑ لئے گئے۔ اور جب معاملہ ہو اسمائے الٰہی کے اثرات کا تو سبحان اللہ کیا کہنے ہماری ناقص عقل خالق و مالک کائنات کے مبارک ناموں کے ا ثرات و خصوصیات کو کیا سمجھے گی۔ بس یہی جاننا کافی ہے کہ ہم کمزوروں کا سہار ا یہی نام ہیں۔ ہمارے نجات دہندہ یہی نام ہیں اور یہی ہمارے مشکل کشا ہیں۔
ہُوَاللہُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَہُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى      ۭ يُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ    ۚ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝
وہی خدا (تمام مخلوقات کا) خالق۔ ایجاد واختراع کرنے والا صورتیں بنانے والا اس کے سب اچھے سے اچھے نام ہیں۔ جتنی چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اس کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے

ہم دنیا کی تاریکی میں نوروکامرانی کے حصول کے لیے آپ کو اللہ تعالیٰ کی عظمت‘ برکت اور انعام والے اسماء الحسنیٰ سے فیض پانے کا مشورہ دیتے ہیں‘ جو اندھیری رات میں روشنی کی‘ امید کی کرن قرار پاتے ہیں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں سے ہمیں روشناس فرمایا‘جن کو اگر مسلمان حرز جا بنا لیں‘ حفظ کر لیں تو وہ جنت وحسنات ہوں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسماء الحسنیٰ کی تعداد صرف ننانوے ہی ہے؟ تو اس سلسلے میں میری تحقیق یہ ہے کہ نام تو اللہ تعالیٰ کے ہزاروں کی تعداد میں ہیں تاہم‘ ننانوے اسماء الحسنیٰ پر علمائے دین اور مققین متفق ہیں۔میری ناقص رائے میں دنیا کو کوئی پریشانی مصیبت اور تکلیف ایسی نہیں کہ جس سے نجات کے لیے بزرگان دین اور صوفیاء کرام نے اللہ تعالیٰ کے ناموں کی برکات سے ہمیں باخبر نہ کیا ہو‘ ہمیں ان کی خصوصیات سے آگاہ نہ کیا ہو۔

 









اسمائے حسنیٰ کے انوکھے کمالات
اسماءحسنیٰ کا انوکھا کمال کسی مرد صالح کا بیان ہے کہ ایک با رمیرے پیر میں ہڈی گھس گئی اس کی وجہ سے میں نہایت سخت بے چینی میں مبتلا ہوا ۔
پھر ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کے اسماءحسنیٰ کے ذریعہ سے گریہ زاری کرنے لگا ‘ اسی اثناءمیں مجھ پر خواب کا غلبہ ہوا اور میں سو گیا۔
خواب میں دیکھتا کیا ہوں کہ ایک سانپ میرے پیر کو چوس رہا ہے اور خون اور پیپ نگلتا جاتا ہے اور اس نے ہڈی بھی نکال لی اس کے بعد جب میں بیدار ہوا تو دیکھا کہ خون اور پیپ اور ہڈی میں سے ہر شئے زمین پر پڑی ہے۔
 اسماءحسنیٰ کی انوکھی فضیلت
 اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے ہزار سر ہیں اور ہر سر میں ہزار چہرے ہیں اور ہر چہرے میں ہزار منہ ہیں اور ہر منہ میں ہزار زبانیں ہیں اور سب زبانوں سے وہ اللہ کی تسبیح کیا کرتا ہے ۔ ایک دن اس فرشتے نے اللہ سے کہا اے رب کیا آپ نے مجھ سے بھی زیادہ عبادت کرنے والا کسی کو پیدا کیا ہے۔
ارشا د ہوا ہاں میں نے ایک آدمی پیدا کیا ہے اس نے اس کی زیارت کی اجازت چاہی اجازت مل گئی اور اس نے آکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ فرض سے زیادہ عبادت نہ کرتا تھا ‘ اس نے پوچھا کہ اس کے سوا اور بھی کوئی عمل کرتے ہو اس نے جواب دیا ہاں نماز صبح کے بعد روزانہ دس بار اللہ تعالیٰ کے اسماءحسنیٰ پڑھا کرتا ہوں۔
گھر سے نکلتے وقت کا انمول عمل
حضرت عتمی رحمتہ اللہ علیہ نے منافع القرآن میں بیان کیا ہے کہ جو سفر کیلئے اپنے گھر سے نکلتے وقت اپنے دروازہ پر 3بار وَاللّٰہُ مِن وَرَائِکُم مُحِیط (الایة )پڑھے تو اس گھر میں جتنے افراد ہوں آفت سے محفوظ رہیں گے ۔
دعا کے ہاتھ خالی نہیں لوٹتے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بارہ رکعت رات کو یا دن کو پڑھو اور ہر دو رکعت پر تشہد پڑھتے جاؤ اور جب آخر رکعت کا تشہد پڑھ چکو تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناءکرو اور حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو اور حالت سجدہ میں سات بار سورہ فاتحہ اور سات بار آیت الکرسی اور دس بار
 لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحدَہ لَا شَرِیکَ لَہ لَہُ المُلکُ وَلَہُ الحَمدُ یُحیِی وَیُمِیتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیئٍ قَدِیر
(ترجمہ: اللہ جل شانہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق اسی کا ملک ہے اور اسی کیلئے حمد ہے وہی زندہ کرتا ہے وہی مارتا ہے اور وہ ہر شئے پر قدرت رکھنے والا ہے)
اس کے بعدپڑھیں
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسئَلُکَ بِمَعَا قِدِ العِزِّ مِن عَرشِکِ وَمُنتَھِی الرَّحمَةِ مِن کِتَابِکَ وَ اِسمِکَ الاَعظَمِ وَ جَدِّکَ الاَعلٰی وَ کَلِمَاتِکَ التَّامَّةِ
(ترجمہ: اے اللہ میں آپ کے معاقدعز اور آپ کی کتاب کے منتہائے رحمت اور آپ کے اسم اعظم اور آپ کی عظمت برتر اور آپ کے کلمات تامہ کے طفیل سے درخواست کرتا ہوں)
کہہ کر اپنی حاجت مانگو پھر اپنا سر اٹھا کر داہنے بائیں سلام پھیرو۔
لیکن یہ خیال رہے کہ یہ طریقہ بیوقوفوں کو نہ سکھا ؤ ورنہ وہ موقع بے موقع دعا کر بیٹھا کرینگے اور مقبول ہو جائے گی ۔
 ہر آفت سے نجات
 جب حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ حجاج سے بھاگے تو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ میں روپوش رہے ۔ ان کونماز کے اوقات صرف ایک قسم کی گونج سے معلوم ہوا کرتے تھے جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر سے سنائی دیتی تھی پھر چند روز کے بعد آواز آئی جس میں یہ ارشاد تھا کہ ابن مسیب پڑھ
 اَللّٰھُمَّ اَنتَ المَلِکُ وَاَنتَ عَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیر وَ مَا تَشَآئُ مِن اَمرٍ یَکُونُ
(ترجمہ: اے اللہ آپ بادشاہ ہیں اور آپ ہر شئے پر قادر ہیں جو بات آپ چاہتے ہیں ہو جاتی ہے)

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اس دعا کو جس مصیبت میں پڑھا اس سے مجھے نجات اور چھٹکارہ مل گیا ۔






ہم بلا خوف تردید یہ کہہ سکتے ہیں کہ چودہ سوسال گزر جانے کے باوجود آج بھی حضور اکرم صلی للہ علیہ وسلم کے بیان کردہ ننانوے اسماء الحسنیٰ فوائد فوائد کبیرہ کا ذریعہ ہیں‘ ان ناموں کی لفظی اور تحقیقی خصوصیات سے چونکہ عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں اس لیے علمی انداز کے بجائے آسان عوامی انداز میں اس  پربات  کرنےکی کوشش کی ہے تاکہ کہ ایک عام پڑھا لکھا شخص بھی اس اسمائے ربانی سے واقفیت حاصل کر کے اپنی زندگی کو مشکلات کو جلد از جلد دور کر لے اور ماضی کی بجائے اپنے حال اور مستقبل کو بہتر بنا لے‘ اس  سے فیضیاب ہونے کا آسان طریقہ کار یہ ہے کہ آپ اسماء الحسنیٰ کی خصوصیات پڑھیں‘ اپنی مشکلات کے لیے مناسب اسم انتخاب کریں اور پھر اس یقین کے ساتھ اس کا باقاعدگی سے ورد کیجئے کہ آپ نے اللہ کو اس کے پسندیدہ اور برگزیدہ ناموں سے پکارہ ہے‘ وہ نہ صرف آپ کی فریاد سنے گا بلکہ ایسی داد رسی بھی فرمائے گا کہ آپ دنگ رہ جائیں گے۔ اسماء الحسنیٰ کے ذریعے بندے کا اپنے رب سے جو مثالی رابطہ پیدا ہوتا ہے آپ کے بند مقدر کی کنجی بن جاتا ہے۔ خدا آپ کو اسماء الحسنیٰ سے فیضیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
اگر آپ اپنے مسائل کے حوالے سے ہماری رہنمائی  کے خواہشمند ہیں تو بذریعہ ای میل ہم سے رابطہ کیجئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور ہم سب کے ساتھ عافیت و سلامتی کا معاملہ فرمائے۔  اورہم سب کو اپنے اسماء الحسنیٰ کے اسرار سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
دعاگو  ۔   ایم اے قریشی

No comments:

Post a Comment