کہیں ہم اللہ کی عبادت کے خاص طریقوں میں کسی کو شریک تو نہیں کر
رہے ہیں؟
حقیقت اور
جائزہ))
غیر اللہ کےلئے رکوع و سجدہ شرک ہے:
اللہ
کےعلاوہ کسی اور کو پرستش کےلئے سجدہ کرنا شرک ہے، خواہ زندوں کو خواہ مردوں کو،
خواہ بتوں کو خواہ قبروں کو سب شرک ہے، اور الہ مانے بغیر محض تعظیم میں غیر اللہ
کےلئے جھکنا اور غیر اللہ کو سجدہ کرنا بھی حرام ہے۔
أَفَرَأَيْتُمُ
اللَّاتَ وَالْعُزَّى، وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى، أَلَكُمُ الذَّكَرُ
وَلَهُ الْأُنثَى، تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى، إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاء
سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ
إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ وَلَقَدْ جَاءهُم
مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَى۔ (النجم: ۱۹-۲۳)
عبادت کے طور پر قنوت و قیام شرک ہے:
نماز کے
جملہ اعمال عبادت کا جز٫ ہیں ہاں اس میں نیت کا بھی دخل ہے، اگر قیام و قنوت غیر
اللہ کی پرستش کےلئے ہو جیسا کہ نماز میں اللہ کےلئے ہوتا ہے تو وہ بلاشبہ شرک ہے۔
حَافِظُوا
عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ۔ (البقرۃ:۲۳۸)
دعاء ، استعانت اور استغاثہ:
دعاء ،
استعانت اور استغاثہ صرف اللہ کا حق ہے، اور اللہ کی عبادت کا لازمی جزء ہے کہ
بندہ صرف اللہ سے مانگے، اللہ کے علاوہ کسی اور سے دعاء نہ کرے، اللہ کے علاوہ کسی
اور سے استعانت اور استغاثہ ، اور دعا٫کرنا شرک ہے۔
اللَّهُ
الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ
فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ ذَلِكُمُ اللَّهُ
رَبُّكُمْ فَتَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (۶۴) هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَهَ
إِلَّا هُوَ فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ
الْعَالَمِينَ (۶۵) قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ
اللَّهِ لَمَّا جَاءَنِيَ الْبَيِّنَاتُ مِنْ رَبِّي وَأُمِرْتُ أَنْ أُسْلِمَ
لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (غافر:۶۶)قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ (۱) مَلِكِ النَّاسِ (۲) إِلَهِ النَّاسِ (۳) مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ (۴) الَّذِي
يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ (۵) مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ (۶) الناس
قبروں کی تعظیم اور مدفون اولیاءسے مانگنا:
اولیاء
اور صالحین کی قبروں پر جا کر ان سے اپنی ضرورتیں اور مرادیں مانگنا ، اور ان سے
منتیں ماننا سب مراسم شرک ہیں، نبی ﷺمرض الوفات میں اس سے بچنے کی خاص وصیت
فرماتے رہے، اور قبروں کو سجدہ گا بنانے سے سختی سے منع فرمایا، اور ہر ایسے طریقہ
کو ختم فرمایا جس سے قبروں کے معاملہ میں غلو ہو سکے، مثلاً ان کو روغن کرنا، قبریں پختہ اور اونچی
بنانا، وغیرہ، صحابہ کرام کو مأمور فرمایا کہ جہاں کہیں ایسا دیکھو ان کو زمین کے
برابر کردو، اور آپ خود دعا٫ فرماتے کہ : اللہم لا تجعل قبری وثناً یعبد۔(رواہ
مالک و احمد)۔
عن
عائشة رضي اللّه عنها قالت : « لما نُزلَ برسول اللّه صلى الله عليه وسلم طفق يطرح
خميصة له عن وجهه . فإذا أَغتم بها كشفها . فقال وهو كذلك : لعنة الله على اليهود
والنصارى اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد . يحذر ما صنعوا ، ولولا ذلك أبرز قبره غير
أنه خشي أن يتخذ مسجدا(متفق علیہ) وقال صلى الله عليه وسلم : « ألا وإن من كان
قبلكم كانوا يتخذون قبور أنبيائهم مساجد . ألا فلا تتخذوا القبور مساجد . فإني
أنهاكم عن ذلك(رواہ مسلم)لا تطروني كما أطرت النصارى ابن مريم . إنما أنا عبد
فقولوا : عبد اللّه ورسوله (رواہ البخاری)ألا أبعثك على ما بعثني عليه رسول
اللّه صلى الله عليه وسلم أن لا تدع تمثالا إلا طمسته . ولا قبرا مشرفا إلا سويته
» (رواہ مسلم) .عن جابر رضي اللّه عنه قال : « نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم
عن تجصيص القبر . وأن يقعد عليه . وأن يبنى عليه بناء۔(رواہ مسلم)
أَفَرَأَيْتُمُ
اللَّاتَ وَالْعُزَّى، وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى، أَلَكُمُ الذَّكَرُ
وَلَهُ الْأُنثَى، تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى، إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاء
سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ
إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ وَلَقَدْ جَاءهُم
مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَى۔(النجم: ۱۹-۲۳)
عَنْ
عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى مَرَضِهِ
الَّذِى لَمْ يَقُمْ مِنْهُ « لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا
قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ».(صحیح مسلم:۱۲۱۲) وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ
قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ أَلاَ فَلاَ تَتَّخِذُوا
الْقُبُورَ مَسَاجِدَ إِنِّى أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ»(صحیح مسلم:۱۲۱۶)
قبروں کے ساتھ مشروع عمل:
احادیث میں
زیارت قبور کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ موت یاد آئے اور آخرت کی تیاری کی طرف توجہ
ہو، اور ساتھ ہی صاحبِ قبر کےلئے دعاءِ استغفار اور دعاءِ رحم سکھلائی گئی ہے، یہ
نہیں کہ صاحب قبر سے کچھ مانگا جائے جبکہ ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔
قَالَ
رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ
فَزُورُوهَا .(صحیح مسلم:۲۳۰۵)وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ
أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ أَلاَ فَلاَ تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ
مَسَاجِدَ إِنِّى أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ».(صحیح مسلم:۱۲۱۶)روى مالك في "الموطأ"
أن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال: "اللهم لا تجعل قبري
وثناً يُعبد، اشتد غضب الله على قوم اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد ".(۲/۳۷)
درختوں او پتھروں سے تبرک حاصل کرنا :
درختوں
اور پتھروں سے عقیدت رکھنا جیسا کہ مشرکین اور ہندوں کا طرز ہے، اور ان درختوں یا
پتھروں کے پاس جانا، ان پر منتوں کے دھاگے باندھنا اور یہ گمان رکھنا کہ اس سے ان
کے کام نکل جائیں گے حرام اور شرک ہے۔
أَفَرَأَيْتُمُ
اللَّاتَ وَالْعُزَّى، وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى، أَلَكُمُ الذَّكَرُ
وَلَهُ الْأُنثَى، تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى، إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاء
سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ
إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ وَلَقَدْ جَاءهُم
مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَى۔(النجم: ۱۹-۲۳)
عن
أبي واقد الليثي قال: خرجنا مع رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- إلى
حُنَين ونحن حُدَثاء عهد بكفر وللمشركين سِدْرة يعكُفون عندها ويَنُوطُون بها
أسلحتهم يقال لها: ذات أنواط. فمررنا بسِدْرة فقلنا يا رسول الله، اجعل لنا ذاتَ
أنواط كما لهم ذاتُ أنواط. فقال رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-:
"الله أكبر -إنها السُّنَن- قلتم والذي نفسي بيده كما قالت بنو إسرائيل
لموسى: {اجْعَل لَّنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ
تَجْهَلُونَ(الأعراف: ۱۳۸) لتركبُن سَنَنَ من كان قبلكم"۔(رواه الترمذي وصححه).
سحر:
وہ عمل جس
میں نتائج کے اسباب عام نظروں سے پوشیدہ ہوں، اور جن میں غیر اللہ سے استمداد لی
جاتی ہے، مثلاً جن و شیاطین سےاستمداد وغیرہ ، ساحر جن و شیاطین کو خوش کرکے ان کی
صلاحیتوں اور طاقتوں کو حاصل کرتا ہے اور اپنے مقصد کےلئے استعمال کرتا ہے اور دلوں
اور اجسام پر اثر انداز ہوتا ہے، یا مسحور کو مرض میں مبتلا کرتا ہے یا دیگر اور
نقصان پہنچاتا ہے، ان اعمال میں استمداد بغیر اللہ ہوتا ہے جو شرک اکبر ہے ، جس کا
مرتکب ملت اسلامیہ سے خارج ہوجاتا ہے۔ اور اگر استمداد بغیر اللہ نہ بھی ہو تب بھی
یہ کفر ہے کیونکہ اس سے منع کیا گیا ہے اور اس کو قرآن نے کفر سے تعبیر کیا ہے،
اور حدیث میں اس کو سات ہلاک کردینے والی چیزوں میں شمار کیا گیا ہے۔
وَلَكِنَّ
الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ … وَلَقَدْ عَلِمُوا
لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ۔(البقرة : ۱۰۲)
قال
النبي صلى الله عليه وسلم : اجتنبوا السبع الموبقات . قالوا : وما هي ؟ قال : الإشراك
باللّه والسحر۔( رواہ البخاری)
سحر طاغوت ہے:
سحر (جادو)طاغوت ہے،
جس سے اللہ اور رسول نے منع کیا ہے، سحر میں استمداد بغیر اللہ ہوتا ہے، جیسے جنوں
اور شیاطین سے مدد لی جاتی ہے، اور استمداد بغیر اللہ شرک ہے، اس لئے سحر کفر و
شرک ہے۔
وَاتَّبَعُوا
مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ
وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ
عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ
أَحَدٍ حَتَّى يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ
فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ
وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ
وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ
اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ
أَنْفُسَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
(البقرۃ
:۱۰۲)
وَلَقَدْ
بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا
الطَّاغُوتَ فَمِنْهُمْ مَنْ هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُمْ مَنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ
الضَّلَالَةُ فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ
الْمُكَذِّبِينَ۔(النحل:۳۶)
السحر
حرام بلا خلاف بين أهل العلم واعتقاد إباحته كفر
وعن أصحابنا ومالك وأحمد يكفر الساحر بتعلمه وفعله سواء اعتقد الحرمة أو
لا ويقتل وفيه حديث مرفوع حد الساحر ضربة بالسيف يعني القتل(شامی:۴/۲۴۰)أن في
الأحاديث دليلاً على كفر الكاهن والساحر لأنهما يدعيان علم الغيب وذلك كفر ،
ولأنهما لا يتوصلان إلى مقصودهما إلا بخدمة الجن وعبادتهم من دون الله ، وذلك كفر
بالله وشرك به سبحانه ، والمصدق لهم بدعواهم على الغيب ويعتقد بذلك يكون مثلهم ،
وكل من تلقى هذه الأمور عمن يتعاطاها فقد برء منه رسول الله صلى الله عليه وسلم۔(حکم
السحر والکہانۃ بن باز:۱/۲)
کیا توسل شرک ہے؟
توسل اس
معنی میں کہ جن کو وسیلہ بنایا جا رہا ہے اللہ نے نفع و نقصان پہنچانے کی طاقت انہیں
ہی دے دی ہے، اس لئے ان سے مدد مانگی جا رہی ہو ،اور اللہ کا نام محض تبرک کے طور
پر لیا جا رہا ہے تو یہ عقیدہ بلا شبہ شرک ہے۔
اسی طرح
توسل اس معنی میں کہ نفع و نقصان پہنچانے کی طاقت اللہ تعالیٰ کے پاس بھی ہے، اور
جس کو وسیلہ بنایا جا رہا ہے ان کو بھی اللہ نے نفع و نقصان کی طاقت دی ہے اس لئے
ان سے استعانت کی جائے تو یہ بھی شرک ہے، اور ایسا کرنا قطعاً حرام ہے۔
توسل اس
معنی کر کہ کوئی اللہ کا نیک اور مقبول بندہ ہے ،اس سے اس غرض سے رجوع کرنا کہ وہ
ہمارے حق میں اللہ سے دعا٫ کرے تو یہ صرف زندوں کے ساتھ روا ہے مردوں کے ساتھ یہ جائز نہیں ہے۔
اعمال کو
وسیلہ بنانا شرک نہیں ہے، بلکہ مستحب ہے، اسی طرح نبی ﷺ سے محبت کے عمل
کو وسیلہ بنانا دعا٫ کی قبولیت کو مضبوط کرنے کا ایک سبب ہے، علامہ ابن تیمیہ نے
اس کو اسباب استیجاب میں قوی ترین سبب بتایا ہے
غیر اللہ کےلئے نذر و نیاز شرک ہے:
نذر و نیاز
اور منت ماننا کہ ائے اللہ میرا فلاں کام کردیجئے، یا صحت دے دیجئے، میں آپ کےلئے اتنا مال صدقہ کروں گا، یا اتنے
لوگوں کو کھلاؤں گا، یا کنواں کھدواؤں گا، یا دواخانہ بناؤں گا وغیرہ یہ نذور
صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے، غیر اللہ کےلئے منت ماننا جیسے پیران پیر یا کسی اور کی منت ماننا شرک
ہے۔
وأما النذر
الذي ينذره أكثر العوام - على ما هو مشاهد - كأن يكون لإنسان غائب ، أو مريض ،
أو له حاجة ضرورية ؛ فيأتي بعض قبور الصلحاء فيجعل ستره على رأسه ؛ فيقول : يا
سيدي فلان !إن رد غائبي ، أو عوفي مريضي ، أو قضيت حاجتي ؛ فلك من الذهب كذا ،
ومن الفضة كذا ، ومن الطعام كذا ، ومن الماء كذا ، ومن الشمع كذا ، ومن الزيت كذا :فهذا
النذر باطل بالإجماع۔(جهود علماء الحنفية في إبطال عقائد القبورية:۱/۴۴۹)
صرح كثير من
العلماء الحنفية في الرد على القبورية بأن النذر لغير الله تعالى حرام ، بل هو
شرك ؛ لأنه نوع من أعظم أنواع العبادة ، وعبادة غير الله شرك ، ولأنه متضمن
أنواعاً أخرى للشرك بالله تعالى ، فإن الذي ينذر شيئاً للميت لابد من أن يعتقد
فيه عدة عقائد شركية :1 - أن يعتقد أنه يعلم حال هذا الناذر .2 - أن يعتقد أنه
يتصرف في الأمور ، من شفاء المريض وغناء الفقير ، وإغاثة الملهوف ونحو ذلك .3 - أنه
يسمع نداء الناذر واستغاثته به .وهذه العقائد كلها شركية وثنية۔. (جهود علماء
الحنفية في إبطال عقائد القبورية:۱/۱۵۴۹)
غیر اللہ کےلئے قربانی شرک ہے:
قربانی
صرف اللہ کا حق ہے، غیر اللہ کےلئے قربانی دینا ، یا غیر اللہ کےلئے جانور ذبح
کرنا خواہ اس پر اللہ ہی کا نام پڑھا جائے ، مثلاً پیران پیر کےلئے جانور ذبح کرنا
، اور کسی صاحب قبر کےلئے جانور ذبح کرنا شرک ہے۔
وقول
الله تعالى: قُلْ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّهِ رَبِّ
الْعَالَمِينَ، لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَاْ أَوَّلُ
الْمُسْلِمِينَ۔ (الأنعام: ۱۶۲، ۱۶۳)
عن
علي بن أبي طالب -رضي الله عنه- قال: حدثني رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ- بأربع كلمات: "لعن الله من ذبح لغير الله، ولعن الله من لعن
والديه، ولعن الله من آوى مُحْدِثاً، ولعن الله من غير منار الأرض"(۱) رواه مسلم.وعن
طارق بن شهاب: أن رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قال: "دخل
الجنة رجل في ذباب، ودخل النار رجل في ذباب" قالوا: وكيف ذلك يا رسول الله؟
قال: "مر رجلان على قوم لهم صنم لا يجاوزه أحد حتى يقرِّب له شيئاً. قالوا
لأحدهما: قَرِّب. قال: ليس عندي شيء أُقرِّب. قالوا: قرب ولو ذباباً. فقرَّب
ذباباً فخلّوا سبيله فدخل النار، وقالوا للآخر: قرب. قال: ما كنت لأقرب لأحد
شيئاً دون الله عز وجل فضربوا عنقه فدخل الجنة"(۱). رواه أحمد.وَلِكُلِّ
أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ
مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا
وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ۔(الحج:۳۴)
کہانت:
کہانت
طاغوت ہے، کاہن جن و شیاطین سے غیب کی باتیں معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور ان
سے جو معلومات حاصل ہوتی ہیں ان میں بڑھا چڑھا کر ان سے رجوع کرنے والوں سے ذکر
کرتے ہیں، ان غیب کی باتیں بتا نے کا دعوی کرنے والوں پر یقین رکھنا، اور نفع کے
حصول اور نقصان سے بچنے کےلئے ان کی تدبیروں کو ماننا شرک ہے، اس کا تعلق صفات باری
تعالیٰ سے بھی اور حقوق باری تعالیٰ سے بھی ہے، اللہ کے علاوہ کسی اور کو غیب کی
باتیں بتانے والا مان کر اس کے کہے کہ مطابق کرنا ، اور سمجھناکہ اس کے کہے ہوئے
طریقہ سے اس کا مستقبل سنورے گا یا روزی ملے گی، یا کچھ اور حاصل ہوگا، یا نقصان
سے بچے گا یہ سب ماننا شرک ہے۔
أن
الكاهن من يدعي معرفة الغيب بأسباب وهي مختلفة فلذا انقسم إلى أنواع متعددة
كالعراف والرمال والمنجم وهو الذي يخبر عن المستقبل بطلوع النجم وغروبه والذي يضرب
الحصى والذي يدعي أن له صاحبا من الجن يخبره عما سيكون والكل مذموم شرعا محكوم
عليهم وعلى مصدقهم بالكفر . وفي البزازية يكفر بادعاء علم الغيب وبإتيان الكاهن
وتصديقه وفي التتارخانية يكفر بقوله أنا
أعلم المسروقات أو أنا أخبر عن إخبار الجن إياي۔(شامی:۴/۲۴۲)
عراف کو ماننا:
یہ کہانت
کی ہی ایک قسم ہے، اور غیب کی بات کا دعوی کرنا ہے، مثلاً ہاتھ دیکھ کر مستقبل
بتانا وغیرہ اس طرح کا دعوی کرنا باری تعالیٰ کی صفت’’علم‘‘ میں شرک کرنا ہے ،اور
ایسے دعوی کرنے والی کی تصدیق کرنا اور اس پر بھروسہ کرنا الوہیت میں شرک کرنا ہے۔
من
أتى كاهنا فصدقه بما يقول فقد كفر بما أنزل على محمد صلى الله عليه وسلم۔(رواہ
ابو داؤد)
أن
الكاهن من يدعي معرفة الغيب بأسباب وهي مختلفة فلذا انقسم إلى أنواع متعددة
كالعراف والرمال والمنجم وهو الذي يخبر عن المستقبل بطلوع النجم وغروبه والذي يضرب
الحصى والذي يدعي أن له صاحبا من الجن يخبره عما سيكون والكل مذموم شرعا محكوم
عليهم وعلى مصدقهم بالكفر . وفي البزازية يكفر بادعاء علم الغيب وبإتيان الكاهن
وتصديقه وفي التتارخانية يكفر بقوله أنا
أعلم المسروقات أو أنا أخبر عن إخبار الجن إياي۔(شامی:۴/۲۴۲)
تطیر:
بد فالی لینا،
اور چیزوں میں نحوست سمجھنا شرک ہے، اور پرندوں ، یا کسی اور طریقہ سے کسی کام کو
کرنے میں خیر و شر ہونے کو معلوم کرنا یہ بھی شرک ہے اور حرام ہے۔
عَنْ
أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ
عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَلاَ صَفَرَ وَلاَ هَامَةَ ».(صحیح البخاری:۵۷۰۷،صحیح مسلم:۵۹۲۰، سنن أبی داؤد:۳۹۱۳،) عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله
عليه وسلم- قَالَ « لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَيُعْجِبُنِى الْفَأْلُ
الصَّالِحُ وَالْفَأْلُ الصَّالِحُ الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ ».\(صحیح البخاری:۵۷۵۶، صحیح
مسلم:۵۹۳۳،سنن أبی
داؤد:۳۹۱۸،سنن
الترمذی:۱۷۱۳)
تنجیم /استسقاء بالأنواء:
ستاروں کو
مؤثر ماننا اور نجومیوں کے کہے پر عمل کرنا بھی شرک ہے، ستارے اللہ کی مخلوق ہیں
، اور اللہ کے آگے مقہور ہیں، انہیں نحوست و سعادت میں مؤثر ہونے کا کوئی اختیار
حاصل نہیں ہے، ستاروں میں اختیار و تصرف کو ماننا اور بارش کے ہونے نہ ہونے میں ان
کے مؤثر ہونے کا عقیدہ رکھنا شرک ہے۔
عَنْ
أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ
عَدْوَى وَلاَ هَامَةَ وَلاَ نَوْءَ وَلاَ صَفَرَ ».(صحیح مسلم:۵۹۲۶، سنن أبی
داؤد:۳۹۱۳)
عَنْ
زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِىِّ أَنَّهُ قَالَ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى
الله عليه وسلم- صَلاَةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِى إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ
مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ « هَلْ
تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ». قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ
« قَالَ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِى مُؤْمِنٌ بِى وَكَافِرٌ فَأَمَّا مَنْ قَالَ
مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِى كَافِرٌ
بِالْكَوْكَبِ وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ
كَافِرٌ بِى مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ ».
(صحیح
البخاری:۸۴۶، صحیح مسلم:۲۴۰، سنن ابی داؤد:۳۹۰۸، سنن النسائی :۱۵۳۶)
محبت اور خوف:
ہر طرح کی
نعمتوں کو اللہ کی عطاء مان کر اللہ ہی سے
امید رکھنا، اور اسی سے محبت کرنا اور ہر نفع و ضرر کا مالک اللہ کو مان کر اس کی
مخالفت سے ڈرنا اور اس کا خوف رکھنا بھی صرف اللہ کا حق ہے، غیر اللہ سے اللہ جیسی
محبت رکھنا، اور غیر اللہ سے امید باندھنا کہ وہ حاجات پوری کر سکتے ہیں، یا تکلیفیں
اور مصیبتیں دور کر سکتے ہیں، جیسا کہ اولیاء اور صالحین کی قبور کے ساتھ معاملہ کیا
جاتا ہے، اسی طرح غیر اللہ سے اللہ کی طرح خوف و خشیت رکھنا جیسے جنوں کا خوف کہ
وہ نفع و ضرر کے مالک ہیں، یا مرض دے دیں گے وغیرہ یہ سب گمان رکھنا حرام اور شرک
ہے۔
إِنَّمَا
ذَلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءهُ فَلاَ تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن
كُنتُم مُّؤْمِنِينَ)(۸۱). وقوله: (إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّهِ مَنْ آمَنَ بِاللّهِ
وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاَةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلاَّ
اللّهَ)أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ
أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ إِنَّ
عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًا(الإسراء:۵۷)وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللهِ
أَندَاداً يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللهِ وَالَّذِينَ آمَنُواْ أَشَدُّ حُبًّا
لِّلّهِ وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُواْ إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ
الْقُوَّةَ لِلّهِ جَمِيعاً وَأَنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ۔(البقرة: ۱۶۵)
توکلہر
طرح کی قدرت صرف اللہ کو حاصل ہے، کہ اللہ ہی ہر چیز کےلئے کافی ہیں، اس لئے صرف
اللہ پر توکل اور بھروسہ کرنا یہ اللہ کا حق ہے، مؤمن صرف اللہ پر بھروسہ کرتا
ہے، غیر اللہ پر توکل اور بھروسہ رکھنا کہ وہ بھی کچھ کر سکتے ہیں یہ عقیدہ حرام
اور شرک ہے۔
وَعَلَى
اللّهِ فَتَوَكَّلُواْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (المائدۃ:۲۳) . يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ
حَسْبُكَ اللّهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ (الأنفال:۶۴) وَمَن يَتَوَكَّلْ
عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ(الطلاق:۳)كَذَلِكَ أَرْسَلْنَاكَ فِي أُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَا
أُمَمٌ لِتَتْلُوَ عَلَيْهِمُ الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُونَ
بِالرَّحْمَنِ قُلْ هُوَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ
وَإِلَيْهِ مَتَابِ (الرعد:۳۰)اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ
الْمُؤْمِنُونَ (التغابن:۱۳)رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ
وَكِيلًا (المزمل:۹)فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ
عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ۔(التوبۃ:۱۲۹)
گھروں میں
،سواریوں اور جانوروں پر پلیتےاور چُنرِیاں باندھنا شرکیہ عمل ہے:
نظر ِبد
سے بچانے کے لئے گھروں میں پلیتے باندھنا، اور گاڑیوں اور جانوروں پر چُنرِیاں لٹکانا
اگر ان کو بالذات نفع و نقصان پہنچانے والا سمجھے تو یہ شرک اکبر ہے جو ملت اسلامیہ
سے خارج کردیتا ہے، اور اگر ان کو اسباب شمار کرے تو وہ شرک اصغر ہے کیونکہ اللہ
نے انہیں دفع ِمضرت اور نفع کے حصول کےلئے سبب نہیں بنایا ہے۔
من
تعلَّقَ تميمةً فلا أتمَّ الله له. ومن تعلق وَدْعَة فلا وَدَعَ الله له"(مسند
احمد) وفي رواية: "من تعلق تميمة فقد أشرك"(مسند احمد)ولابن أبي حاتم
عن حذيفة: "أنه رأى رجلاً في يده خيطٌ من الحمَّى فقطعَه، وتلا قوله: وَمَا
يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلاَّ وَهُم مُّشْرِكُونَ۔(يوسف: ۱۰۶)
عن
أبي بَشِير الأنصاري رضي الله عنه أنه كان مع رسول الله - صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- في بعض أسفاره فأرسل رسولاً: "أن لا يَبْقَيَنَّ في
رقبةِ بعيرٍ قِلادةٌ من وَتَر أو قلادةٌ إلا قُطِعَتْ"(صحیح بخاری)وعن ابن
مسعود -رضي الله عنه- قال: سمعت رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يقول:
"إن الرُّقى والتمائم والتِّوَلة شرك"
رواه أحمد وأبو داود۔(مسند احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ، مستدرک حاکم)
دفع بلاء کےلئے انگھوٹی پہننا اور دھاگے باندھنا:
دفع بلاء کےلئے انگھوٹی
پہننا اور دھاگے باندھنا اگر ان کو بالذات نفع پہنچانے والا یا نقصان سے بچانے
والا سمجھے تو صریح شرک اکبر ہے،اور اگر
ان کو سبب سمجھے تو گو یہ عمل ملت اسلامیہ سے خارج کرنے والا نہیں ہے لیکن یہ بھی
شرک اصغر ہے، اللہ اور اس کے رسول نے اس سے روکا ہے۔
قُلْ
أَفَرَأَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللهِ إِنْ أَرَادَنِيَ اللهُ بِضُرٍّ
هَلْ هُنَّ كَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أَوْ أَرَادَنِي بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ
مُمْسِكَاتُ رَحْمَتِهِ قُلْ حَسْبِيَ اللهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ
الْمُتَوَكِّلُونَ} [الزمر: ۳۸) عن عمران بن حصين: أن رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -
رأى رجلاً في يده حلقة من صُفْر، فقال: "ما هذه؟" قال: مِن الواهِنة. فقال:
"انزعها فإنها لا تزيدك إلا وهْناً، فإنك لو مت وهي عليك ما أفلحت أبداً"(مسند
احمد)
قَالَ
رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنِ اكْتَوَى أَوِ اسْتَرْقَى فَقَدْ
بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ ».(سنن الترمذی:۲۱۹۴)
قرآنی آیات میں سے کسی آیت
سے بلاؤں کا دفعیہ یا برکت حاصل کرنا:
بلاؤں کو
دفع کرنے یا کسی نفع کو حاصل کرنے کےلئے اصل اور افضل دعا٫ ہے، البتہ کسی آیت سے
تبرک حاصل کرنا یا اس کو کسی مصیبت کو ٹالنے میں ذریعہ و سبب سمجھنا اگر اس کی اصل
موجود ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، مثلاً سورہ فاتحہ ، معوذتین ،اور آیت الکرسی
ہے۔ لیکن اصل چیز دعا٫ ہی ہے، اور آیات با برکات سے ہٹ کر ایسے تعویذ گنڈے جن میں
شرکیہ الفاظ و اعمال ہوتے ہوں ان کو اختیار کرنا شرک اور حرام ہے۔
عَنْ
أَبِى سَعِيدٍ - رضى الله عنه - قَالَ انْطَلَقَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ
النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - فِى سَفْرَةٍ سَافَرُوهَا حَتَّى نَزَلُوا
عَلَى حَىٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَاسْتَضَافُوهُمْ ، فَأَبَوْا أَنْ
يُضَيِّفُوهُمْ ، فَلُدِغَ سَيِّدُ ذَلِكَ الْحَىِّ ، فَسَعَوْا لَهُ بِكُلِّ
شَىْءٍ لاَ يَنْفَعُهُ شَىْءٌ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَوْ أَتَيْتُمْ هَؤُلاَءِ
الرَّهْطَ الَّذِينَ نَزَلُوا لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَ بَعْضِهِمْ شَىْءٌ ،
فَأَتَوْهُمْ ، فَقَالُوا يَا أَيُّهَا الرَّهْطُ ، إِنَّ سَيِّدَنَا لُدِغَ ،
وَسَعَيْنَا لَهُ بِكُلِّ شَىْءٍ لاَ يَنْفَعُهُ ، فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ
مِنْ شَىْءٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ نَعَمْ وَاللَّهِ إِنِّى لأَرْقِى ، وَلَكِنْ
وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَلَمْ تُضِيِّفُونَا ، فَمَا أَنَا بِرَاقٍ
لَكُمْ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلاً . فَصَالَحُوهُمْ عَلَى قَطِيعٍ مِنَ
الْغَنَمِ ، فَانْطَلَقَ يَتْفِلُ عَلَيْهِ وَيَقْرَأُ ( الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ
الْعَالَمِينَ ) فَكَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ ، فَانْطَلَقَ يَمْشِى وَمَا
بِهِ قَلَبَةٌ ، قَالَ فَأَوْفَوْهُمْ جُعْلَهُمُ الَّذِى صَالَحُوهُمْ عَلَيْهِ
، فَقَالَ بَعْضُهُمُ اقْسِمُوا . فَقَالَ الَّذِى رَقَى لاَ تَفْعَلُوا ، حَتَّى
نَأْتِىَ النَّبِىَّ - صلى الله عليه وسلم - فَنَذْكُرَ لَهُ الَّذِى كَانَ ،
فَنَنْظُرَ مَا يَأْمُرُنَا . فَقَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه
وسلم - فَذَكَرُوا لَهُ ، فَقَالَ « وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ - ثُمَّ
قَالَ - قَدْ أَصَبْتُمُ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِى مَعَكُمْ سَهْمًا » . فَضَحِكَ
رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - .(صحیح البخاری:۲۲۷۶) عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله
عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - إِذَا أَوَى إِلَى
فِرَاشِهِ نَفَثَ فِى كَفَّيْهِ بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
وَبِالْمُعَوِّذَتَيْنِ جَمِيعًا ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ ، وَمَا
بَلَغَتْ يَدَاهُ مِنْ جَسَدِهِ . قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمَّا اشْتَكَى كَانَ
يَأْمُرُنِى أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ بِهِ . قَالَ يُونُسُ كُنْتُ أَرَى ابْنَ
شِهَابٍ يَصْنَعُ ذَلِكَ إِذَا أَتَى إِلَى فِرَاشِهِ . (صحیح البخاری:۵۷۴۸)
أَنَّ
أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ وَلَدَ جَعْفَرٍ
تُسْرِعُ إِلَيْهِمُ الْعَيْنُ أَفَأَسْتَرْقِى لَهُمْ فَقَالَ « نَعَمْ
فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ شَىْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ ».(سنن
الترمذی:۲۱۹۹) عَنْ أَبِى
نَضْرَةَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَتَعَوَّذُ
مِنَ الْجَانِّ وَعَيْنِ الإِنْسَانِ حَتَّى نَزَلَتِ الْمُعَوِّذَتَانِ فَلَمَّا
نَزَلَتَا أَخَذَ بِهِمَا وَتَرَكَ مَا سِوَاهُمَا. (سنن الترمذی:۲۱۹۸) حَدَّثَنَا
ثَابِتٌ الْبُنَانِىُّ قَالَ قَالَ لِى يَا مُحَمَّدُ إِذَا اشْتَكَيْتَ فَضَعْ
يَدَكَ حَيْثُ تَشْتَكِى وَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ
وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ مِنْ وَجَعِى هَذَا ثُمَّ ارْفَعْ يَدَكَ
ثُمَّ أَعِدْ ذَلِكَ وِتْرًا فَإِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَنِى أَنَّ
رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَدَّثَهُ بِذَلِكَ.(سنن الترمذی:۳۹۳۷)
توحید الوہیت کے دو اہم اصول:
توحید الوہیت کے دو اصول ہیں، (۱)۲)الوہیت کے جملہ حقوق صرف
اللہ کے لئے ماننا۔
طاغوت کا انکار:
ان دونوں
اصولوں میں غیر اللہ سے الوہیت کی نفی کرنا پہلا کام ہے، جب تک غیر اللہ سے الوہیت
کی نفی نہیں ہوگی، الوہیت میں توحید مکمل نہیں ہوگی۔ کسی بھی زمانہ کے مشرکین الہٰ
اعظم کے منکر نہیں رہے ہیں، بلکہ دنیا کے سبھی مشرکین الہٰ اعظم کو ماننے والے ہیں،
ان کا جرم یہی ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ دیگر الہٰوں کو بھی پوجتے ہیں ، اور اللہ کو
الہ اعظم مانتے ہیں، اور یہی خلاف توحید ہے، انبیا٫ نے واضح فرمایا کہ اللہ کے
علاوہ کوئی الہٰ ہے ہی نہیں ، بس وہی ایک الہ ہے، اس کے علاوہ کسی کو نہ الہ مانا
جائے اور نہ ہی اس کے علاوہ کسی اورکےلئے الوہیت کے تقاضوں کو پورا کیا جائے ،
الہٰ کے معنی اور الوہیت کے تقاضوں کا بیان آگے آرہا ہے۔
غیر اللہ
سے الوہیت کی نفی کرنے میں ہر طرح کے طاغوت کا انکار کرنا شامل ہے، اللہ کے علاوہ
کسی اور کو عبادت کا مستحق ماننا، ساحروں اور کاہنوں کو ماننا، غیر اللہ میں تحلیل
و تحریم یعنی تشریع کا اختیار ماننا (غیر اللہ کےلئے مقننہ کے حقوق تسلیم کرنا)یہ
سب طاغوت کو ماننا ہے، اور ان کو نہ ماننا طاغوت کا انکار کرنا ہے، توحیدکو خالص
کرنے اور شرک سے بچنے کےلئے تمام طواغیت کا انکار لازم ہے۔
طاغوت سے برأت کا اظہار:
علماء نے
نبی ﷺ کی توحید کی تعلیمات
اور آپ کے طرز عمل کی بنیاد پر یہ بیان کیا ہے کہ : موحد ہونے کےلئے لازم ہے کہ غیر
اللہ کی الوہیت سے برأت کا اعلان کیا جائے، اسی طرح عیسائی اسلام قبول کرے تو اس
کے لئے لازم ہے کہ اللہ کی الوہیت کے اثبات کے ساتھ اقرار کرے کہ حضرت عیسی اللہ
کے بندہ ہیں، اور جو انہیں اللہ کا بیٹا
قرار دیتے ہیں ان سے برأت کا اظہار کرے، یہودی اسلام قبول کرے تو وہ اقرار کرے کہ
تشریع کا حق صرف اللہ کا ہے، اور غیر اللہ میں حق تشریع ماننے والوں سے برأت کا
اظہار کرے، مشرک بت پرست اسلام قبول کرے تو وہ اس اقرار کے ساتھ کہ صرف اللہ ہی
عبادت کے لائق ہے غیر اللہ کے عبادت کے لائق ہونے سے برأت کا اظہار کرے۔
وَإِذْ
قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاء مِّمَّا تَعْبُدُونَ،
إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ(الزخرف: ۲۶، ۲۷)عن النبي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أنه
قال: "من قال لا إله إلا الله وكَفَر بما يُعبد من دون الله حرُم ماله ودمه
وحسابُه على الله عز وجل"(صحیح مسلم)
أن
معنى: لا إله إلا الله هو الكفر بما يعبد من دون الله من الأصنام والقبور وغيرها.
أن مجرد التلفظ بلا إله إلا الله مع عدم الكفر بما يُعبد من دون الله لا يحرِّم
الدم والمال ولو عرَف معناها وعمل به. ما لم يضف إلى ذلك الكفر بما يعبد من دون
الله.عن عبادة بن الصامت -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله - صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "من شهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأن
محمداً عبده ورسوله، وأن عيسى عبد الله ورسوله وكلمته ألقاها إلى مريم وروح منه،
والجنة حق والنار حق، أدخله الله الجنة على ما كان من العمل". (أخرجاه الشیخین)
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللّهَ
وَاجْتَنِبُواْ الطَّاغُوتَ (سورة النحل:۳۶)فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن
بِاللّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىَ لاَ انفِصَامَ لَهَا
وَاللّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ(سورة البقرة:۲۵۶)أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ
أَنَّهُمْ آمَنُواْ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ
يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُواْ إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُواْ أَن
يَكْفُرُواْ بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلاَلاً بَعِيدًا(سورة
النساء:۶۰)أَمْ
لَهُمْ شُرَكَاء شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ(سورة
الشورى:۲۱)اتَّخَذُواْ
أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ
مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُواْ إِلاَّ لِيَعْبُدُواْ إِلَهًا وَاحِدًا لاَّ إِلَهَ
إِلاَّ هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ(سورة التوبة :۳۱)فسرها النبي صلى الله عليه وسلم
بقولهِ: " ألم يحلوا لكم الحرام , ويحرموا عليكم الحلال فأتبعتومُهم فتلك
عبادتهم .
حلف بغیر اللہ:
اللہ کے
علاوہ دوسروں کے نام پر حلف اٹھانا یہ شرک اصغر ہے، جو کسی مسلمان کو ملت اسلامیہ
سے خارج تو نہیں کرتا لیکن شرک اکبر تک پہنچا سکتا ہے۔رسول اللہ من حلف بغير اللّه
فقد كفر وأشرك۔
عَنْ
سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ رَجُلاً يَقُولُ وَالْكَعْبَةِ. فَقَالَ
لاَ تَحْلِفْ بِغَيْرِ اللَّهِ فَإِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه
وسلم- يَقُولُ « مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ كَفَرَ وَأَشْرَكَ ».(مسند
احمد:۶۲۱۵)
’’جو اللہ اور اس کا رسول چاہے ‘‘کہنا:
جو اللہ چاہے اور جو
اللہ کا رسول چاہے کہنا یہ بھی شرک اصغر ہے، اس کا مرتکب ملت اسلامیہ سے خارج تو
نہیں ہوتا، لیکن اس طرح کی لاپرواہی شرک اکبر تک پہنچا سکتی ہے، جو کچھ ہوتا ہے
صرف اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے، اس لئےزبان سے صرف اسی کے حق کا اقرار ضروری ہے، نبی
ﷺ
کے سامنے ایک شخص نے کہا: ما شاء الله وشئت . آپ نے فرمایا: أجعلتني للّه ندّا ؟!
کیا تم نے مجھے اللہ کا مد مقابل بنادیا؟ قل : ما شاء اللّه وحده تم صرف اتنا کہو :
کہ جو اللہ چاہے صرف وہی ہوتا ہے۔
وَمَا
تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ ( التكوير : ۲۹).عن بن عباس
قال رجل للنبي صلى الله عليه و سلم : ما شاء الله وشئت قال جعلت لله ندا ما شاء
الله وحده۔(الأدب المفرد:۱/۲۷۴)
ہواء نفس کو الہ بنانا:
خواہشات کی
پیروی نفس کا ایک رذیلہ ہے، لیکن اس میں بہتے ہوئے انسان
ایک وقت خواہشات نفس کو اپنا معبود بنا لیتا ہے، نفس جو کہتا وہ کرتا ہے، اور جو
سجھاتا ہے اسی کی پیروی کرتا ہے، جب یہ کیفیت اللہ کے حکم کے مقابلہ میں راسخ
ہوجائے تو اگر نفس کو بالذات مطاع سمجھا جانے لگے کہ میرا نفس بھی ہے جس کی پیروی
ہونی چاہئے تو یہ یقیناً شرک اکبر ہے جو ملت اسلامیہ سے خارج کردیتا ہے، لیکن یہ
صرف اہمال اور لا پرواہی کے درجہ میں ہوتب بھی شرک اصغر ہے جس سے بچنا لازمی ہے۔
أَرَأَيْتَ
مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ أَفَأَنْتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا (الفرقان:۴۳)أَفَرَأَيْتَ
مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَى عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَى
سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَى بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَنْ يَهْدِيهِ مِنْ
بَعْدِ اللَّهِ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ۔(الجاثیۃ:۲۳)
ریاء:
ارادہ اور
نیت میں پوشیدہ شرک ہے، اس شرک کا مرتکب گو ملت اسلامیہ سے خارج نہیں ہوتا، لیکن
جب یہ شرک اعمال کے ساتھ ملتا ہے تو ان کو برباد کردیتا ہے، مثلاً نماز جو اللہ کے
لئے پڑھی جاتی ہے اگر لوگوں کو دکھلانے کےلئے پڑھی جائے تو اس کا کوئی ثواب نہیں
بلکہ پکڑ کا باعث ہے۔
فَمَنْ
كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ
بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا۔(الكهف : ۱۱۰)
أخوف
ما أخاف عليكم الشرك الأصغر" فسئل عنه فقال: "الرياء"(مسند احمد)
مادہ پرستی:
ظاہر اور
اسباب پر انحصار کی ایک کیفیت اس درجہ کو پہنچ جاتی ہے کہ ظاہری اسباب اورمال و
دولت کو انسان الہٰ بنا لیتا ہے، اور اپنا پورا بھروسہ مال سے جوڑدیتا ہے، اسی سے
محبت کرتا ہے اور اسی پر توکل کرتا ہے، بالعموم یہ بالذات نہیں ہوتا اگر مادہ کو
بالذات نفع و نقصان کا مالک سمجھے اور بالذات مال و دولت کی پرستش ہو جیسے ہندوں
کے یہاں دولت کی دیوی ’’لکشمی‘‘ کی پوجا کی جاتی ہے تو یہ ملت اسلامیہ سے خارج کردینے
والا شرک اکبر ہے، اور اگر ایسا نہ ہولیکن مال و دولت ہی زندگی کا محور بن جائیں
اور اسی کو سب کام بنانے والا سمجھا جانے لگے تب بھی وہ شرک اصغر ہے، جس سے بچنا
ضروری ہے۔
وَأُحِيطَ
بِثَمَرِهِ فَأَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ عَلَى مَا أَنْفَقَ فِيهَا وَهِيَ
خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي
أَحَدًا (الکھف:۴۲) قال النبي صلى الله عليه وسلم : « تعس عبد الدينار ، تعس عبد الدرهم ،
تعس عبد الخميصة ، تعس عبد الخميلة إن أُعطي رضي وإن لم يعط سخط۔(رواہ البخاری)
http://www.anwar-e-islam.org/node/24479#.Vnt4RE9ayZg
No comments:
Post a Comment