ہمارے جسم
میں پِتےکا کیا کردار ہے؟
ڈاکٹر نعیم تاج لیپروسکوپک
سرجن ہیں اور پچھلے آٹھ سالوں سے کیپیٹل ہسپتال اسلام آباد میں خدمات سر انجام
دے رہے ہیں ۔انہوں نے پتے کے کئی کامیاب آپریشن کیئے جن میں 107سالہ بزرگ ترین
خاتوں کے علاوہ کم عمر ترین مریض بھی شامل ہے ۔ انہوں نے پتے میں سے5568 پتھریاں
نکالنے کا ریکارڈ قائم کیا اور تقریباً2500
کے قریب کامیاب آپریشن کر چکے ہیں۔سب سے لمبا گال بلیڈرجس کا حجم 25.5سینٹی میٹر
تھا،نکالنے پر ان کا نام گنیزبک آف ولڈ ریکارڈ میں موجود ہے جو پاکستان کے لیے اعزاز اور فخر کی بات
ہے ۔اس ماہ وہ شفانیوز کے قارئین کو پتے
کے مسائل پر آگاہی فراہم کر رہے ہیں
۔ (انٹرویو: ثنا ظفر)
یہ بتائیں
کہ ہمارے جسم میں پِتےکا کیا کردار ہے؟
٭٭ پتہ پانی
کی ٹینکی کی طرح ہوتا ہے جو جگر کے ساتھ چپکا ہوتا ہے۔ چربی کو ہضم کرنے کے لیے
سبزی مائل مائع جسے بائل (bile)کہتے ہیں، جگر کی نالی کے ذریعے
پتے میں جمع ہو جاتا ہے۔ضرورت کے مطابق پتے میں جمع شدہ بائل آنتوں میں جاتا ہے
اورجسم میں پائی جانے والی چربی کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
٭اگر پتہ
ناکارہ ہو جائے اور اسے نکالنا پڑ جائے تو کیا پھر بھی انسان زندہ رہ سکتا ہے ؟
٭٭پتے کا
کام بائل کواپنے اندر جمع کرناہے۔ پانی کی ٹینکی اگر کسی وجہ سے خراب ہو جائے تو
اسے ہٹا دیا جاتا ہے اور پانی کی سپلائی متبادل طریقے سے بحال کر دی جاتی ہے۔ اسی
طرح اگر انسانی جسم سے پتا نکال بھی دیا جائے تو بائل سیدھا آنتوںمیں چلا جائے
گا۔ ایسے میں فرد ناکارہ پتے کی نسبت زیادہ
بہتر زندگی گزار سکتا ہے۔
٭ایسی کون سی
بیماریاں ہیں جو پتے کو متاثر کر سکتی ہیں ؟
٭٭پتے کو سب
سے زیادہ نقصان پتھریوں سے ہوتا ہے۔اس سے بائل کی کارکردگی متاثر ہو تی ہے جس سے کولیسٹرول
لیول میں فرق آتا ہے۔ پتھریاں بننے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر
کچھ لوگوں میںخون کے سرخ خلیے جلد مر جاتے ہیںیا ختم ہونے لگتے ہیںجس سے خون میں کالے
رنگ کے پتھر بن جاتے ہیں۔ بعض بچوں میں پتھریاںپیدائشی بھی ہوتی ہیں۔ اگر وقت پر
علاج نہ کروایا جائے تویہ پتے میں سوزش پیدا کر دیتی ہیںجس سے پیپ بن سکتی ہے۔ زیادہ
عرصے تک ان کی موجودگی پتے کے کینسرکا سبب بھی بن سکتی ہے۔
٭آپ کے پاس
زیادہ ترلوگ پتے کے کن مسائل کے ساتھ آتے ہیں؟
٭٭میرے پاس
آنے والے اکثر مریض اسے معدے کا دردسمجھ رہے ہوتے ہیںاور اس کی ہی ادویات کھا رہے
ہوتے ہیںلیکن ان سے درد کم نہیں ہوتا۔بعد میں علم ہوتا ہے کہ اس کا سبب پتے میں
خرابی تھا۔اس کے علاوہ لوگ میرے پاس پتے میں پیپ پڑ جانے یا اس کے اندر یا باہر
انفیکشن کی وجہ سے بھی آتے ہیں۔
٭ پتھریاںپتے
کو کس حد تک نقصان پہنچاتی ہیں؟
٭٭ پتھریاںپتے
کے اندربھی انفیکشن کرتی ہیں اور اس کے باہربھی۔پتے میںپیپ پڑ جاتی ہے جسے گال بلیڈر
ایمپائما (gallbladder empyema)کہتے ہیں۔ بعض
لوگوں کے خیال میں آپریشن کے بغیر ادویات کے ذریعے پتھری نکل جائے تو بہترہوتا
ہے۔ تاہم بتاتا چلوں کہ اس طرح سے پتھری کا نکلنا بہت خطرناک ہے۔گردے سے پتھری بغیرآپریشن
کے نکل جائے تو اس میں حرج نہیں لیکن پتے میں سے نکلی ہوئی پتھری آگے چل کر جگر کی
نالی کوبلاک کردیتی ہے جس سے بائل ٹھیک طرح سے آنتوں میں نہیںجاسکتا ۔ اس طرح مریض
کو مزید پیچیدگیوںکا سامنا کرنا پڑے گا۔ جب یہ پتھری لبلبے میں جائے گی توسوزش پیداکرے
گی۔اس سے انفیکشن ہونے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے جو جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ بعض
اوقات بڑی عمر میںانفیکشن کی وجہ سے پتہ گل سڑ جاتا ہے یا اس میں پیپ پڑ جاتی ہے
جو خون میں شامل ہو سکتی ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ آپ وقت پر کسی مستندمعالج کی
نگرانی میں علاج کروا لیں۔
٭پتھری بننے
کی اصل وجہ کیا ہے؟
٭٭پتھری
بننے کی مختلف وجوہات ہو تی ہیں۔بعض لوگو ں میں زیادہ کولیسٹرول، موٹاپااور حد سے
زیادہ کی جانے والی ڈائیٹنگ اس کا سبب بن سکتی ہے۔خواتین میں کچھ ہارمونز کی تبدیلی
کی وجہ سے پتھریاں بن جاتی ہیں۔ شوگر کے مریض اورایسے افرادجن کا تھائی رائیڈ
ہارمونز لیول کم ہو‘ ان میں بھی یہ بنتی ہے۔کسی وجہ سے بائل کے زیادہ دیرتک پتے میںرہنے
کی وجہ سے بھی پتھریاں بن جاتی ہیں۔
٭ پتے اور
معدے کے درد میں فرق کیسے پتا چلے گا ؟
٭٭اس کا طریقہ
بہت ہی آسان طریقہ ہے اور اس کیلئے کوئی مشکل ٹیسٹ نہیںکیے جاتے۔ آپ کو ایک
الٹراسائونڈ کروانا ہو گا۔ اس میں اگر پتاسوجا ہوا پایا گیا تو پھر پتھری کا امکان
ہو سکتا ہے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ دردمعدے میں ہے یا اس کا سبب پتے میں
پتھری ہے۔اس لیے لیبارٹری ٹیسٹ کروائے بغیر علاج مت شروع کریں۔اگر مریض یہ کہے کہ
اس کے معدے میں درد ہے تو اس کی بات کو اہمیت دیں اور الٹراسائونڈ ضرور کروائیں۔معدے
کے درد اور پتے میں پتھری کی علامات ملتی جلتی ہوتی ہیں اور ان میں فرق اسی ایک ٹیسٹ
کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔اگرنتائج ٹھیک آئیںاور پتا بالکل ٹھیک ہو تو پھر آپ معدے
کا علاج کریں۔
٭پتے کی
پتھری کی علامات کیا ہوں گی؟
٭٭اس صورت میں
پسلیوں کے نیچے دائیں طرف درد ہوتا ہے اورمعدے میں جلن محسوس ہوتی ہے۔بعض دفعہ پتے
کی سوزش زیادہ ہونے سے پیٹ پھول جاتا اورکھانا کھاتے ہی الٹی آجاتی ہے۔اگر درد
چار سے پانچ گھنٹے کے بعد بھی کم نہ ہو رہاہو تو آپ کو فوراً ہسپتال جانے کی
ضرورت ہوتی ہے کیونکہ تشخیص نہ ہونے کی صورت میں پیچیدگیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
٭کس عمر یا جنس میں
پتھری بننے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں؟
٭٭پہلے کہا
جاتا تھا کہ پتے کی پتھری ہونے کے امکانات پانچ ایف(5F) لوگوں میں زیادہ ہوتے ہیں جن میں خواتین (female)، موٹے افراد (fatty)، گوری رنگت والے
(fair)، ایسی شادی شدہ خواتین جن کے بچے ہوں
(fertile) اور 40 سال سے زائد عمر(forty)میں ہوتی ہیں۔ تاہم میرے20سالہ تجربے میں یہ مسئلہ ہر عمر کے
افراد میں سامنے آیا ہے۔میں نے چار سال کی عمر کے بچے کا کامیاب آپریشن کیا ہے
جو دنیا کا سب سے کم عمر ی میں کیاجانے والا آپریشن ہے اور عمر رسیدہ خاتون کا بھی
جن کی عمر 107سال تھی۔ عمر کے انتہائی حصوں( یعنی کم عمر بچوں اور بڑی عمرکے لوگوں)
میں اس کے آپریشن کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں یہ بیماری بہت عام ہے
اوراس کی سرجریز بھی سب سے زیادہ ہو رہی ہیں۔
٭خواتین اور
مردوں میں اس کے ہونے کی شرح کتنی ہے؟
٭٭خواتین میں
اس کے ہونے کی شرح زیادہ ہے ۔پتے پر میری ایک سٹڈی کے مطابق 500مریضوں میں سے 350خواتین
اور 150مرد تھے۔ جو مرد حضرات علاج کے لیے میرے پاس آئے‘ ان میں اس کی پیچیدگیاں
زیادہ تھیں اوراس کی ایک وجہ خود علاجی اور غیرمصدقہ دیسی ادویات کااندھا دھند استعمال
ہے۔ وقت کی کمی یا کسی اور وجہ سے لوگ علاج میں تاخیر کرتے ہیں اور جب مسئلہ پیچیدہ
ہوجائے تو پھر شارٹ کٹ ڈھونڈتے ہیں۔اس سے مسئلہ اور بگڑ جاتا ہے ۔اس لیے پتھریوں کی
تشخیص کی صورت میں جلد از جلد علاج کروائیں۔
٭کیادیسی
ادویات سے پتھری کو ختم کیا جا سکتا ہے ؟
٭٭بعض اوقات
پتے میںریت کی طرح چھوٹے ذرے بن جاتے ہیںجو خود ہی نکل جاتے ہیں تاہم بڑے پتھر
نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ ہمیں خود علاجی یا نیم حکیمی سے بچنا چاہئے اورانہیں بھی
چاہئے کہ انسانوں پر ایسے تجربات نہ کریں ۔حکمت کا مکمل علم جس شخص کے پاس ہو گا،
وہ اگر دیانتدار ہوا تواپنے مریض کو وقت پر بتا دے گاکہ اب اسے آپریشن کی ضرورت
ہے۔ انسانی زندگی بہت قیمتی ہوتی ہے‘ اس لیے صرف اپنے مالی مفاد کی خاطر اسے دائو
پر نہیں لگانا چاہئے ۔ہر فرد اپنے گھر میں بہت اہم ہے۔
٭پاکستان میں
اس بیماری کی شرح کیا ہے؟
٭٭ امریکہ جیسے
ملک میں ایک سال میںاس کے 50لاکھ آپریشن ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاںزیادہ تر لوگوں کا
ہسپتال میں اندراج ہی نہیں ہے۔ اس لیے اس کے صحیح اعدادوشمار معلوم نہیں‘ تاہم ایک
اندازے کے مطابق سال میں تقریباً ایک لاکھ سے دو لاکھ سرجریز کی جاتی ہیں۔
٭پتھریوں کی
تشخیص کے بعد کس مرحلے میں آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے؟
٭٭جب علامات
ظاہر ہو جائیں اور الٹراسائونڈ میں بھی پتھریاں نظر آئیںتومریض کی صحت کو مدِ نظر
رکھتے ہوئے آپریشن کیاجاتا ہے۔
٭آپریشن کے
لیے کون سی عمر زیادہ موزوں ہے؟
٭٭آپریشن
کے لیے بچے اور بڑی عمر کے لوگ موزوں نہیں ہیں‘ اس لئے کہ ان میں قوتِ مدافعت کم
ہوتی ہے۔پتھریاں اگر تکلیف کا باعث نہیں بن رہیں تو آپریشن کرنے سے گریز کیاجاتا
ہے‘ اس لئے کہ اس کے ساتھ کئی قسم کی پیچیدگیاں ہوتی ہیں۔ اگر اس سے مریض کی زندگی
متاثر ہو رہی ہو یا اس کے پیٹ میں موجود انفیکشن جان لیوا ہو سکتاہو تو پھر ہم اس
کا آپریشن کرتے ہیں۔
٭پتے کی
سرجری کی کتنی اقسام ہیں؟
٭٭ اس کی
سرجری دو طرح کی ہوتی ہے ۔ایک اوپن سرجری اور دوسری لیپروسکوپک جو کیمرے کے ذریعے
کی جاتی ہے۔اس میںایک معمولی سوراخ کے ذریعے پتھری نکال دی جاتی ہے۔ اس آپریشن سے
مریض 24گھنٹوں میں ٹھیک ہو کر نہ صرف گھر جا سکتا ہے بلکہ اپنے معمول کے کام سر
انجام دے سکتا ہے۔ اوپن سرجری میں پیٹ کے پٹھے کا ٹ کر آپریشن کیاجاتا ہے۔ اس میںخون
ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے اوربعدمیں مریض کو تکلیف بھی سہنی پڑتی ہے۔اس کے علاوہ
سرجری کی ایک تیسری قسم بھی ہے جس میں پیٹ پر تین سینٹی میٹر کا کٹ لگا کر پتھریاں
نکالی جا سکتی ہیں۔ پاکستان میں اب کیمرے
کے ذریعے آپریشن ہو رہا ہے۔ جہاں نہیں ہو
رہا‘ وہاں اس کی وجہ ڈاکٹروں کا کم تجربہ یا پریکٹس کاکم ہوناہے۔ میں آپریشن ناف
کے ذریعے کرتا ہوں‘ خاص طور پر خواتین کا، اس لئے کہ وہ ٹانکوں کے نشان پڑ جانے سے
بہت پریشان ہوتی ہیں۔ ناف کے اندر ہلکا سا کٹ لگایا جاتا ہے جوبعد میںنظر بھی نہیں
آتا۔
٭آپریشن سے
پہلے دیگر بیماریوں مثلاً شوگر اور بلڈ پریشر وغیرہ کا کنٹرول ہونا کتنا ضروری ہے
؟
٭٭اس بات کا
جاننا بہت ضروری ہے کہ آپریشن سے پہلے مریض کو پتے کے علاوہ اور کون کون سی بیماریاںہیں۔بعض
لوگوں کو دمہ، شوگر،بلڈ پریشر اور دل وغیرہ کا مسئلہ ہوتا ہے۔ اگر شوگر 200سے زیادہ
ہو تو اسے کم کر کے 150تک لائیں ۔اسی طرح تمام بیماریوں کو کنٹرول کر نے کے بعد
آپریشن کیا جاتا ہے۔ادویات کے ذریعے وقتی طور پردرد کو کم کیا جاتا ہے لیکن جب تک
اوپر ذکر کی گئی بیماریاں کنٹرول نہ ہوں‘ آپریشن نہ کریں ۔
٭اگر پتا
سوجا ہوا ہو تو کیا اس کا آپریشن کیا جا سکتا ہے؟
٭٭ پہلے
وقتوں میں اگر کسی کا پتاسوجا ہوتا تو اس کا آپریشن چھ ماہ یا سال کے بعد کیا
جاتا تھا حالانکہ پتے کی پیچیدگی کی صورت میں اس کو جلدی نکالنا چاہیے۔ جس طرح اپینڈکس
بہتر علاج نہ ہونے کی وجہ سے خراب ہوتی ہے‘ اس طرح پتا بھی خراب ہوتا ہے ۔اگر آپ
اسے شارٹ کٹ کے ذریعے ختم کرنا چاہ رہے ہیں تو اس سے مسئلہ زیادہ پیچیدہ ہو جائے
گا ۔
٭پتے کے
آپریشن پر تقریباً کتنی لاگت آتی ہے ؟
٭٭اگر آپ
گورنمنٹ سیکٹرز میں علاج کرواتے ہیں تو وہاں صرف آپریشن کے لیے لائے جانے والے
سامان پر خرچ آتا ہے اور وہ 25سے30ہزار روپے تک ہے۔ پرائیویٹ اداروں میںیہ تقریباً
70ہزارروپوںیا اس سے کچھ زیادہ میں ہو رہا ہے۔ گورنمنٹ کے بعض اداروں میں یہ مفت
بھی ہو رہا ہے۔مریضوں کو چاہئے کہ جس ہسپتال میں بھی ممکن ہو‘ وقت پر اپنا علاج
ضرور کروائیں۔
٭آپریشن کے
بعد کیا پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں ؟
٭٭اگر پتے میں
کوئی پیچیدگی نہ ہو یعنی پتھر جگر میں نہ گئے ہوں تو آپریشن کے بعد اس میں کوئی پیچیدگی
نہیں ہوتی۔ آپریشن کیلئے سب سے اہم چیز آپ کا جسمانی طور پر صحت مند ہونا ہے کیونکہ
بے ہوشی دینے والے نے آپ کوسلا کر اٹھانا ہے۔ اس کے علاوہ اوپن سرجری میں خون
ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
٭آخر میںقارئین
کی راہنمائی کے لیے آپ کیا کہیں گے؟
٭٭ مجھے شفا
نیوز کی سب سے اچھی بات یہ لگی کہ آپ صحت کے شعبے میں لوگوں کی راہنمائی کے لیے
کام کررہے ہیں۔مریض کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسے اپنی بیماری کے بارے میں
آگہی ہو۔اسے معلوم ہوناچاہئے کہ اسے کیابیماری ہے‘ اس کا علاج کیا ہو گا اور علاج
کے بعد کیا پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں وغیرہ ۔ جب بیماری کا پتہ چل جائے تو اس کا علاج
جس ڈاکٹر سے کروا رہے ہیں‘ اس پر اعتماد کریں اوراس کی بتائی ہوئی ہدایات پر عمل
کریں۔ ہر ڈاکٹر اپنے مریض کو ٹھیک کرنے کے لیے ہی علاج کرتا ہے۔ اس بات پر بھروسہ
رکھیں کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔اس کے علاوہ خود علاجی سے گریز
کریں۔
http://www.shifanews.com/n_u.php?newsid=762
No comments:
Post a Comment