اللہ تعالیٰ
نے قرآن کریم میں متعدد جگہ بندوں کو شیطان کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے،
جیسا کہ ارشاد فرمایا : فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ
باللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ [ النحل : ٩٨ ] ’’
پس جب تو قرآن پڑھے تو مردود شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کر۔‘‘ اور فرمایا :
وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ باللّٰهِ ۭاِنَّهٗ
سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ [ الأعراف : ٢٠٠ ] ’’ اور اگر کبھی شیطان
کی طرف سے کوئی اکساہٹ تجھے ابھار ہی دے تو اللہ کی پناہ طلب کر، بے شک وہ سب کچھ
سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘ اور فرمایا : وَقُلْ رَّبِّ
اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ وَاَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ
يَّحْضُرُوْنِ [ المؤمنون : ٩٧، ٩٨ ] ’’ اور تو کہہ اے میرے
رب! میں شیطانوں کی اکساہٹوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اور اے میرے رب! میں اس سے بھی
تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آموجود ہوں۔‘‘
اَعُوْذُ
باللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖ
وَنَفْخِہٖ وَنَفْثِہٖ ’’ میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں جو سننے
والا، جاننے والا ہے شیطان مردود سے، یعنی اس کے وسوسے سے اور اس کی پھونک اور اس
کے جادو سے۔‘‘ [ مسند أحمد : ٣؍٥٠، ح : ١١٤٧٩۔ أبو داوٗد، کتاب الصلوۃ، باب من
رأی الاستفتاح بسبحانک اللھم و بحمدک : ٧٧٥۔ ترمذی، کتاب الصلوۃ، باب ما یقول عند
افتتاح الصلوۃ : ٢٤٢ ]
( اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخُبُثِ
وَالْخَبَاءِثِ )’’ اے
اللہ! میں ناپاک جنوں اور ناپاک جننیوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‘‘ [ بخاری، کتاب بالوضوء،
باب ما یقول عند الخلاء : ١٤٢۔ مسلم، کتاب الحیض، باب ما یقول إذا أراد دخول
الخلاء : ٣٧٥
No comments:
Post a Comment