Featured Post

اسماء الحسنیٰ ۔ انسان کی تمام پریشانیوں اور مصیبتوں، تکالیف اور بیماریوں کا شافی علاج

اسماء الحسنیٰ  انسان کی تمام پریشانیوں اور مصیبتوں، تکالیف اور بیماریوں کا شافی علاج بسم اللہ الرحمن الرحیم دنیا کبھ...

Wednesday, December 23, 2015

ہم اللہ تعالیٰ کے نام اور اس کےاہم صفات کی تصدیق کس طرح کریں؟

ہم اللہ تعالیٰ کے نام اور اس کےاہم صفات کی تصدیق کس طرح کریں؟
مفہوم کے اعتبار سے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء و صفات اس طرح ہیں:

۱-اللہ تعالیٰ کا اسم ذات

لفظ ’’اللہ‘‘ باری تعالیٰ کا اسم عَلَمْ ہے،  یعنی وہ اسم جو اللہ تعالیٰ کی ذات پر دلالت کرتاہے، اسی اسم سے تمام دیگر اسماء و صفات منسوب کئے جاتے ہیں ، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے دیگر تمام صفاتی ناموں کو ’’اللہ‘‘ کی صفت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، چنانچہ کہا جاتا ہے رحمن اﷲ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، یہ نہیں کہا جاتا کہ اﷲ رحمن کے ناموں میں سے ہے، یا اسی طرح کہا جاتا ہے عالم الغیب  اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، یہ نہیں کہا جاتا کہ اللہ عالم الغیب کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
هُوَ اللَّهُ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ * هُوَ اللَّهُ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ * هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الأسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الحشر: ۲۲ -۲۴) وللهِ الأسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا (الأعراف : ۱۸۰) عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إن لله تسعة وتسعين اسما، مائة إلا واحدًا من أحصاها دخل الجنة"۔  (رواہ الشیخین)

’’اللہ‘‘ باری تعالیٰ  کا ایسا اسم ذات ہے جس سے کسی اور کو موسوم نہیں کیا جاتا، یہ اسم صرف باری تعالیٰ جلّ جلالہ  کے لئے خاص  ہے، اس اسم کے متعدد معانی ہیں :
(۱) وہ ہستی جس کے آگے عقلیں حیران رہ جاتی ہیں ۔
(۲) وہ ہستی جس سے چمٹا جاتا اور اسی کی جانب رجوع کیا جاتا ہے
(۳) وہ ہستی جس کی پناہ لی جاتی ہے۔
(۴) وہ ہستی جس کے آگے حقیقی سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے
(۵) وہ ہستی  جو حقیقتاً بلند تر ین ہے جس کے آگے ہر کوئی ہیچ ہے۔ اللہ اسم ذات ہونے کے ساتھ ان تمام معانی و صفات سے متصف ہے۔
وهو اسم لم يسم به غيره تبارك وتعالى…هو مشتق من وله: إذا تحير، والوله ذهاب العقل؛ يقال: رجل واله، وامرأة ولهى، وماء موله: إذا أرسل في الصحاري، فالله تعالى تتحير أولو الألباب والفكر في حقائق صفاته…وقيل: إنه مشتق من ألهت إلى فلان، أي: سكنت إليه، فالعقول لا تسكن إلا إلى ذكره، والأرواح لا تفرح إلا بمعرفته…وقيل: اشتقاقه من أله الفصيل، إذ ولع بأمه، والمعنى: أن العباد مألوهون مولعون بالتضرع إليه في كل الأحوال، قال: وقيل: مشتق من أله الرجل يأله: إذا فزع من أمر نزل به فألهه، أي: أجاره، فالمجير لجميع الخلائق من كل المضار هو الله سبحانه؛ لقوله تعالى…وقيل: إنه مشتق من الارتفاع.(ابن کثیر:۱/۱۲۴،۱۲۳)

۲-امہات الصفات
          وہ اسماء جو ذات باری تعالی کےلئے ثابت ہیں ان کو  صفات ذات  اور امہات الصفات کہتے ہیں ، یعنی وہ صفات جن کے بغیر باری تعالیٰ کی ذات کا تصور ممکن ہی نہیں ہے۔یہ صفات  حیات، علم، ارادہ، قدرت، سماعت، بصارت، کلام ہیں۔ ان صفات کے لئے اسماء مثلاً : الحیی العلیم، القدیر البصیر السمیع وغیرہ ہیں۔اور اسی قسم میں صفات مثلاً وجہ ، عین، ید، رجل ، اصابع  وغیرہ بھی شامل ہیں ۔

حیات /الحیی :
حیات اللہ تعالیٰ کی صفت بھی ہے اور اس صفت سے اللہ تعالیٰ کا نام  الحیی ہے، اللہ تعالیٰ کی حیات بذاتہ ہے، یعنی وہ خود سے الحیی ہے اس کی حیات کسی کی عطاء نہیں ہے، اور اس کی حیات کامل و مکمل درجہ کی ہے۔ اور اس کی حیات ایسی ہے کہ نہ اس کو موت ہے، اور نہ وہ ہلاک ہونے والا ہے۔
اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ(البقرۃ:۲۵۵)اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ (آل عمران:۲)وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِهِ وَكَفَى بِهِ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِيرًا (الفرقان:۵۸)كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ۔  (القصص: ۸۸)

مخلوقات کی حیات اللہ کی تخلیق ہے، چنانچہ اللہ کے علاوہ جس کو بھی حیات حاصل ہے اللہ کی عطاء سے ہے، وہ جسے چاہتا ہےاور جب تک چاہتا ہے زندگی دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے جب چاہتا موت دیتا ہے۔ وہی الحیی اس لائق ہے کہ اسی کی عبادت ہو، اس کے علاوہ کوئی الہ نہیں ہے۔
تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (۱) الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ (۲)(سورۃ الملک)تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (۲۷)(آل عمران)إِنَّ اللَّهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَى يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ ذَلِكُمُ اللَّهُ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ (۹۵)(الأنعام)قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَنْ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ (۳۱)(یونس)يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَيُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَكَذَلِكَ تُخْرَجُونَ (۱۹)(الروم)هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (۶۵)۔  (الغافر)

اللہ ازلی و ابدی ہیں:
اللہ کو الحیی ماننے میں یہ بھی ماننا ہے کہ اللہ ہمیشہ سے ہیں، اور ہمیشہ رہیں گے، اللہ نے اپنی اس صفت کو اس طرح بیان کیا ہے کہ وہی اول ہے وہی آخر ہے، اس سے پہلے کوئی نہیں اور اس سے آخر کوئی نہیں ، یعنی ایسا ممکن نہیں کہ وہ کبھی ہلاک ہوجائے اور اس کے بعد کچھ باقی رہ جائے بلکہ باقی رہ جانے والی ہستی صرف اللہ کی ہے، اس کے علاوہ سب کو فنا ہے۔

ہاں جنت و جہنم ابدی ہیں، مگر ازلی نہیں ہیں، اللہ کے پیدا کرنے سے پیدا ہوئے ہیں، اور ان کا ابدی ہونا بھی اللہ کی مشیت کا مرہون منت ہیں، اللہ ان کو ہمیشہ رکھیں گے اس لئے وہ ابدی ہیں ، اسی طرح اہل جنت اور اہل جہنم بھی ازلی نہیں ہیں بلکہ ابدی ہیں، اور ان کا ہمیشہ رہنا اللہ کی عطا٫ سے ہے ذاتی نہیں ہے، اللہ میں قدرت ہے کہ جس وقت چاہے ان کو پھر فنا کردے۔
هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (الحدید:۳) كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ (۲۶) وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ (الرحمن:۲۷)كَانَ أَبُو صَالِحٍ يَأْمُرُنَا إِذَا أَرَادَ أَحَدُنَا أَنْ يَنَامَ أَنْ يَضْطَجِعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنْ الْفَقْرِ وَكَانَ يَرْوِي ذَلِكَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
(صحیح مسلم:۴۸۸۸،و عن عائشۃ و ام سلمۃ بمعناہ)

اللہ کی صفت حیات میں شرک:
غیر اللہ میں سے جس کسی کو بھی ان مذکورہ معانی میں سے کسی ایک معنی میں ذی حیات مانا جائے یہ اللہ کی صفت حیات میں شرک کرنا ہے، مثلاً یہ ماننا کہ کسی کی حیات ذاتی ہے اللہ کی عطائی نہیں یہ اللہ کی ذات میں شرک کرنا ہے، یا یہ ماننا کہ وہ ازلی ہے یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، یا کسی کےلئے یہ ماننا کہ اس کو موت یا فنا نہیں ہے یہ بھی اللہ کی صفت حیات میں شرک کرنا ہے، یا یہ ماننا کہ اللہ کے علاوہ کوئی حیات و موت دے سکتا ہے، یا اللہ کے علاوہ کوئی مردہ کو زندہ کر سکتا ہےیہ بھی اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، یہ سارے ناقابل معافی جرم ہیں، ان کا بدلہ ہمیشہ ہمیش کی جہنم ہے۔
قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَنْ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ (یونس:۳۱)ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّهُ يُحْيِ الْمَوْتَى وَأَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (الحج:۶) أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ فَاللَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ وَهُوَ يُحْيِ الْمَوْتَى وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔(الشوری:۹)

علم:
علم اللہ کی صفت بھی ہے اور اس صفت سے اللہ تعالیٰ کا نام  العلیم بھی ہے، اللہ تعالیٰ کےلئے اضافت کی شکل میں عالم الغیب و الشھادۃ  نام بھی قرآن میں وارد ہوا ہے، اسی طرح  علیم بذات الصدور بھی قرآن میں اسم وارد ہوا ہے، اللہ تعالیٰ کی صفت علم کی جو تفصیلات قرآن وحدیث میں وارد ہوئی ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ:
أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (المائدۃ:۹۷) إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ۔(آل عمران:۱۱۹)

اللہ تعالیٰ کا علم ذاتی ہے، اللہ تعالیٰ کا علم لا محدود ہے، اور اللہ تعالیٰ کا علم ازلی ہے، اللہ تعالیٰ کا علم تمام کلیات و جزئیات کو شامل ہے، اللہ نے اپنے علم کے مطابق مخلوقات کو پیدا کیا ہے، ان کو پیدا کرنے سے پہلے اس کو ان کا علم حاصل تھا، اور پیدا کرنے کے بعد مخلوقات کی ہر بڑی اور چھوٹی چیز اللہ کے علم میں ہے، کائنات میں ایک ذرہ کے برابر شے بھی اس کے علم سے باہر نہیں ہے، ایک درخت سے ایک پتہ بھی گرتا ہے تو وہ اللہ کے علم میں ہے۔جو کام اور باتیں لوگ علانیہ کرتے ہیں اللہ ان کو بھی جانتا ہے ، اور جو کام اور باتیں بندے چُھپ کر کرتے ہیں ان کو بھی اللہ جانتا ہے، بندہ جو بات زبان سے ظاہر کرتا ہے اللہ اس کو بھی جانتے ہیں اور جو بات دل میں چھپا رکھا ہے اس کو بھی جانتے ہیں۔
يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ(البقرۃ:۲۵۵) إِنَّمَا إِلَهُكُمُ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَسِعَ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا (طہ:۹۸) وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (البقرۃ:۲۸۲) يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (ھود:۵) وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (۱۳) أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ (الملک:۱۴) إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (النحل:۲۸)وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ (النور:۴۱) إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (فاطر:۸) قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ۔(یس:۷۹)

جو باتیں پیش آچکی ہیں اللہ ان کو بھی جانتے ہیں، اور جو باتیں پیش آنے والی ہیں اللہ کو ان کا بھی علم ہے، بندوں کے اعمال، بندوں کا سعادت یا شقاوت پر مرنا، ان کے حشر و نشر کے احوال، جنتیوں اور جہنمیوں کی تفصیل اور ابد الآباد تک کے معاملات سب اللہ کے علم کا حصہ ہیں۔قیامت  کب واقع ہوگی، بیج بونے کے بعد کھیتی کیسے ہوگی، درخت سے پھل کیسے نکلیں گے، رحم مادر میں پرورش پانے والا جنین شقی ہے یا سعید ہے، اور جنین زندہ پیدا ہوگا اور کب پیدا ہوگا یہ سب اللہ ہی جانتے ہیں۔
يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ(البقرۃ:۲۵۵)إِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ وَمَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرَاتٍ مِنْ أَكْمَامِهَا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنْثَى وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ أَيْنَ شُرَكَائِي قَالُوا آذَنَّاكَ مَا مِنَّا مِنْ شَهِيدٍ (فصلت:۴۷) فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِمْ بِعِلْمٍ وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ (الأعراف:۶) وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا۔(غافر:۷)

اللہ تعالیٰ سب کے احوال اور ان کے معاملات کے علم کا احاطہ رکھتے ہیں، اللہ کا علم سب کو محیط ہے، کوئی نہیں ہے جو اللہ کے علم کا احاطہ کر سکے، مخلوقات اور کوئی بھی بندہ اللہ کے علم سے صرف وہی معلوم کر سکتا ہے جو اللہ اسے بتلانا چاہیں، اللہ تعالیٰ جو نہ بتلانا چاہیں کوئی بندہ ، ولی نبی اس کو معلوم نہیں کر سکتے۔
وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ۔(البقرۃ:۲۵۵)

اللہ کی صفت علم میں شرک:
اللہ کے علاوہ سب میں علم : عطائی ، محدود اور حادث ہے، اللہ کےلئے صفت علم مذکورہ بالا جن معانی استعمال ہوا ہے اس کو غیر اللہ کےلئے ماننا اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، مثلاً غیر اللہ میں سے کسی کےلئے یہ ماننا کہ : اس کا علم ذاتی ہے یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، یا غیر اللہ کےلئے یہ ماننا کہ : اس کا علم لا محدود ہے یہ بھی اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔ یا غیر اللہ کےلئے یہ ماننا کہ اس کا علم قدیم ہے حادث نہیں ہے یہ بھی اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، یا یہ ماننا کہ غیر اللہ میں کسی کا علم کلیات و جزئیات سبھی کو شامل ہے یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔ یا غیر اللہ میں سے کسی کےلئے یہ ماننا کہ اس کا علم ماضی و مستقل سبھی کو محیط ہے یہ اللہ کے ساتھ اس کو شریک کرنا ہے۔ اور شرک ناقابل معافی جرم ہے ، جس کی سزاء ابد الآباد یعنی ہمیشہ ہمیش کی جہنم ہے۔
قَالَ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللَّهِ وَأُبَلِّغُكُمْ مَا أُرْسِلْتُ بِهِ وَلَكِنِّي أَرَاكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ۔(الأحقاف:۲۳)

غیر اللہ کےلئے صفت علم کو اس طرح ماننا شرک نہیں ہے:
ان معانی سے ہٹ کر صفت علم کو غیر اللہ کےلئے ایسے استعمال کرنا جیسے اللہ اور اس کے رسول نے استعمال کیا ہے شرک نہیں ہے، مثلاً یہ ماننا کہ : بندہ کا علم اللہ کا عطائی ہے، محدود ہے، اور حادث ہے یہ ماننا شرک نہیں ہے۔

بندوں میں معلومات کی سطح الگ الگ ہوتی ہیں، کسی کی کم کسی کی زیادہ، عام آدمی کے مقابلہ میں علماء کا علم زیادہ ہوتا ہے، خیر القرون کا علم بعد والوں کے مقابلہ میں زیادہ راسخ تھا، اور ان میں صحابہ کا علم غیر صحابہ سے زیادہ گہرا اور زیادہ مستحکم تھا، صحابہ سے زیادہ علم انبیاء و رسل کا علم ہے، اور انبیاء و رسل میں سب سے زیادہ علم محمد رسول اللہ کا علم ہے، مخلوقات میں کسی کا علم آپ کے علم جیسا نہیں ہے، آپ کا علم سب سے فائق تر ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم اولین و علم آخرین سے نوازا ہے، ………………جو شخص نبی کے علم کی صفت میں یہ مانتا ہو کہ آپ کا علم اللہ کا عطاء کردہ ہے، اللہ کے علم کے مقابلہ میں آپ کا علم محدود اور حادث ہے تو وہ اللہ کی صفت علم میں شرک کا مرتکب نہیں ہوتا۔

علم غیب:
علم غیب قرآن و سنت کی ایک اصطلاح ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ :’’وہ امور جو اللہ کے علاوہ مخلوقات سے چھپے ہوئے ہوں، مثلاً کل کیا ہونے والا ہے، کسی کی موت کا وقت کیا ہے، قیامت کب واقع ہوگی، مرنے کے بعد  کے احوال کیا ہیں ، قیامت کے احوال کیا ہیں ، اور حشر و نشر کے احوال  کیا ہیں وغیرہ سب غیبی امور میں سے ہیں۔

غیب کا مکمل علم صرف اللہ کو ہے، یعنی کائن و ما یکون کی کوئی بات اللہ کے علم سے باہر نہیں ہے، اللہ تعالیٰ پیش آ چکی اور پیش آنے والی ہر بات کو اس کی جملہ تفصیلات کے ساتھ جانتے ہیں، جبکہ اللہ کے علاوہ سبھی اتنا ہی جانتے ہیں جتنا اللہ ان کے علم میں لانا چاہتا ہے۔

اس لحاظ سے ’’عالم الغیب‘‘ صرف اللہ کا نام اور صرف اللہ کی صفت ہے، قرآن مجید میں یہ اصطلاح صرف اللہ تعالیٰ کےلئے استعمال ہوئی ہے، اور غیر اللہ سے مطلقاً اس صفت اور اسم کی نفی کی گئی ہے کہ غیب کا علم سوائے اللہ کے کوئی نہیں رکھتا، نہ فرشتے نہ جن، یہاں تک کہ قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ یہ کہا گیا ہے کہ علم غیب نبیوں کو بھی حاصل نہیں تھا، چنانچہ اولو العزم رسولوں میں سے سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام نے اس کا اعتراف اپنی قوم سے کیا، جبکہ ان کی قوم ان سے عذاب کا مطالبہ کررہی تھی،انہوں نے اپنی قوم سے خطاب کرکےفرمایا: کہ میرے پاس غیب کا علم نہیں ہے، یہ اللہ جانتا ہے کہ تم پر عذاب بھیجا جائے یا نہیں؟ اور بھیجا جائے تو کب بھیجا جائے۔اسی طرح اولو العزم رسولوں میں سے آخری رسول ، انبیاء و رسل میں سب سے افضل، خاتم النبیین محمد الامین کابھی یہی اعتراف قرآن نے نقل کیا ہے:۔اب جب  انبیاء و رسل اور اولو العزم رسولوں اور افضل الأنبیاء و علیہم السلام غیب کی باتوں کو نہیں جانتے تھے تو پھر دیگر کا کیا شما ر ہے،چنانچہ اس صفت اور نام میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر اللہ کے اسم ’’عالم الغیب‘‘ کا اطلاق جس معنی میں اللہ کےلئے ہوتا ہے اس معنی میں کسی اور کےلئے کیاجائے جیسا کہ بعض غالی لوگ نبی کی جانب ، اور شیعہ ان کے ائمہ کی جانب اس اسم اور صفت کی نسبت کرتے ہیں یہ صریح شرک ہے۔
قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ (النمل:۶۵)هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ (الحشر:۲۲)فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَأَتَهُ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَنْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ (سبأ:۱۴)عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ (۹) سَوَاءٌ مِنْكُمْ مَنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ (الرعد:۱۰) وَلَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ إِنِّي مَلَكٌ وَلَا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ لَنْ يُؤْتِيَهُمُ اللَّهُ خَيْرًا اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا فِي أَنْفُسِهِمْ إِنِّي إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ (ھود:۳۱)قُلْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ (الأنعام:۵۰)وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ (الأنعام:۵۹)قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ۔(الأعراف:۱۸۸)

کیا اللہ کے علاوہ کسی کو غیب کی باتوں کا علم ہوتا ہے؟
جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے کہ: غیبی امور کا ایک حصہ وہ جن کو سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا، دوسرے وہ امور ہیں جن کا علم اللہ نے کسی کو دیا ہے اور کسی کو نہیں دیا ہے۔مثلاً ’’فرشتے‘‘ عام انسانوں کے لئے عالَم غیب کا حصہ ہیں، جن پر ایمان لانا عام مؤمن کےلئے غیب پر ایمان لانا ہے، لیکن انہیں ’’فرشتوں‘‘ میں بعض انبیاء کے لئے عالَم غیب کا حصہ نہیں ہیں، مثلاً حضرت جبرئیل علیہ السلام وغیرہ ، بلکہ وہ انبیاء کے لئے مشہود تھے، اللہ تعالیٰ انہیں پیغام دے کر انبیاء و رسولوں کے پاس بھیجتے تھے، گویا انبیاء کو غیب کے اس حصہ کا علم دیا گیا تھا، ایسا ہی حال چند اور مغیبات کا ہے، جن کا علم اللہ نے اپنے بعض بندوں کو دیا ہے، کسی کو کم کسی کو زیادہ، لیکن اس کے باوجود مغیبات میں سے کسی کو کتنا ہی بڑا حصہ بتلایا گیاہو، اس کے بعد بھی علم کا ایک درجہ وہ ہے جو صرف اللہ کے پاس ہے، اس لحاظ سے مغیبات میں سے تعداد اور مقدار میں کتنی ہی باتیں کوئی جانتا ہو اس کا علم ’’جزئی‘‘ ہے، اور اس کے مقابلہ میں مغیبات کا اللہ کا علم ’’کلی‘‘ ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ہر طرح کا علم اللہ کا ہی عطا کردہ ہوتا ہے، کوئی خود سے غیب پر اللہ کی رضا و مشیت کے بغیر مطلع نہیں ہو سکتا، اللہ جس کو چاہتا ہے اپنے نبیوں اور فرشتوں میں سے جتنا چاہتا ہے غیب پر مطلع کرتا ہے، لیکن کسی کو کتنا ہی علم دے دیا جائے وہ اللہ کے علم کا احاطہ نہیں کر سکتا، اس کا علم بہر حال اللہ کے علم کے مقابلہ میں محدود ہی ہوگا۔
مَا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَإِنْ تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ (آل عمران:۱۷۹)عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا (۲۶) إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا (۲۷) لِيَعْلَمَ أَنْ قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا
(الجن:۲۸)

مخلوقات میں مغیبات کا سب سے زیادہ علم سیدنا محمد رسول اللہ کو دیا گیا ہے:

جس طرح انبیاء میں سب سے افضل نبی اور تمام رسولوں کے سردار ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ہیں اسی طرح اللہ کی جانب سے آپ ہی کو مغیبات کا سب سے زیادہ علم دیا گیا ہے، آپ نے خود فرمایا : مجھ کو اولین و آخرین کا علم دیا گیا ہے۔

آپ کو وقتاً فوقتاً آپ کے زمانہ میں پیش آنے والے واقعات بتلادئیے گئے، مثلاً بنی ہاشم سے مقاطعہ کا مکہ والوں کا معاہدہ جس کے بارے میں آپ نے پیش گوئی فرمائی کہ اس کی عبارت کو دیمک نے کھالیا ہے، اور صرف اللہ کا نام باقی رہ گیا ہے، آپ کی یہ بات بالکل صحیح ثابت ہوئی، یہ مغیبات کا حصہ تھا۔

آپ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی، اور اہل سموت کا آپ نے مشاہدہ کیا،  آپ کو جنت و جہنم کا مشاہدہ کرایا گیا، آپ سدرۃ المنتہی سے آگے تشریف لے گئے ، جس کے آگے کے امور حضرت جبرئیل علیہ السلام کےلئے مغیبات میں سے ہیں ان امور کو آپ کےلئے مشہود بنایا گیا، جن تک آپ کے علاوہ کسی اور نبی و رسول کی بھی رسائی نہیں ہوئی ۔

ہجرت سے قبل ہی آپ کو قیصر روم کی ایران کے مقابلہ میں فتح کی خبر دی گئی اور اس خبر میں مضمر فتح مکہ کا علم آپ کو دے دیا گیا ، خندق کی کھدائی کے موقع پر ایران  اور روم کے علاقوں کا اسلام و مسلمانوں کے زیر نگین آنا آپ کو بتلادیا گیا، جس کی آپ نے پیشین گوئی کی اور وہ صحیح ثابت ہوئیں، یہ آپ کی پیش گوئی کے وقت مغیبات کا حصہ تھا۔

آپ نے اپنے وصال کے بعد فتنوں کے رو نما ہونے کی پیش گوئی کی، وہ ایسے ہی برحق ثابت ہوئی یہ پیش گوئی کے وقت مغیبات کا حصہ تھا۔ آپ نے حضرت عمر و حضرت عثمان کی شہادت کی پیش گوئی کی اور وہ صحیح ثابت ہوئی، پیش گوئی کے وقت یہ باتیں مغیبات کا حصہ تھیں۔

قیامت تک پیش آنے والے کتنے ہی واقعات کی آپ نے پیشین گوئی فرمائی ہے، جن میں سے کئی پیش آچکے ہیں، آپ کی پیش گوئی کے وقت وہ واقعات مغیبات کا حصہ تھے، اور کتنے ہی ہیں جنہیں ابھی پیش آنا ہے، وہ ابھی بھی ہمارے لئے مغیبات میں سے ہیں لیکن آپ کو ان کا علم پہلے ہی دے دیا گیا تھا۔

قیامت کے احوال ، ما بعد الموت احوال، حشر و نشر کے ہولناک احوال میں سے بہت ساری باتوں کا آپ کو علم دیا گیا تھا، آپ نے فرمایا کہ اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور اکثر روتے رہتے، یہ سب عالم غیب کے امور کا علم تھا جو آپ کے لئے غیب نہیں رہا تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کا علم دے دیا تھا۔

مغیبات کے ا س علم میں آپ تمام مخلوقات میں سب سے ممتاز ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام مخلوقات، انبیاء و رسول سب سے لائق اور فائق تر ہیں۔

کیا آپ پر عالم الغیب کا اطلاق درست ہے؟

قرآن و حدیث میں عالم الغیب کا طلاق صرف اللہ کےلئے ہوا ہے، باوجود یہ کہ رسول اللہ کو مغیبات میں سے ایک بہت بڑے حصہ کا علم دیا گیا ہے لیکن عالم الغیب کا نام آپ کو نہیں دیا گیا ہے، کیونکہ یہ نام اس ہستی کے لئے ہے جس سے کچھ بھی چھپا ہوا اور پوشیدہ نہیں ہےیعنی اللہ تبارک و تعالیٰ، باوجود یہ کہ آپ کو مخلوقات میں مغیبات پر سب سے زیادہ مطلع کیا گیا تھا لیکن علم الہیٰ کے مقابلہ میں آپ کا علمِ مغیبات جزئی اور عطائی ہی ہے، جبکہ اللہ رب العزت کا علم مغیبات کلی اور ذاتی ہے، جن میں سے ہر جزئیہ رسول اللہ کے علم میں نہیں تھا اور نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن میں آپ سے علم غیب کی نفی کی گئی ہے، جیسا اوپر آیت مبارکہ گذری کہ آپ نے فرمایا: ۔ اسی طرح خود آپ کا ارشاد ہے کہ:۔ حشر کے میدان میں شفاعت کبری کے موقع پر جب آپ اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوں گے، اللہ تعالیٰ آپ کے قلب مبارک پر اپنے ایسے ناموں کا القاء فرمائے گا کہ اس سے پہلے آپ ان کو نہ جانتے ہوں، آپ ان کے ذریعہ اللہ سے دعاء مانگیں گے اور اللہ آپ کی شفاعت کو قبو ل فرمائیں گے۔اس لحاظ سے آپ کےلئے ’’عالم الغیب‘‘ نام کا استعمال درست نہیں ہے۔
قَالَ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ : مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ ، وَسَأُخْبِرُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا إِذَا وَلَدَتِ الأَمَةُ رَبَّهَا ، وَإِذَا تَطَاوَلَ رُعَاةُ الإِبِلِ الْبُهْمُ فِى الْبُنْيَانِ ، فِى خَمْسٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ اللَّهُ  . ثُمَّ تَلاَ النَّبِىُّ - صلى الله عليه وسلم - ( إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ ) الآيَةَ . ثُمَّ أَدْبَرَ فَقَالَ ئ رُدُّوهُ  . فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا . فَقَالَ : هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَ يُعَلِّمُ النَّاسَ دِينَهُمْ  . قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ جَعَلَ ذَلِكَ كُلَّهُ مِنَ الإِيمَانِ .(صحیح البخاری:رقم حدیث :۵۰)

کیا آپ کو عالم الغیب کہنا شرک ہے؟

اگرکوئی آپ کے علم کو عطائی، اور اللہ کے علم کے مقابلہ میں محدود مانتا ہے، لیکن ساتھ ہی مغیبات کے عطائی علم کی بنیاد پر عالم الغیب کہتا ہے تو اس کا آپ کو عالم الغیب کہنا درست نہیں ہے (کیونکہ عالم الغیب کی اصطلاح صرف اللہ کےلئے روا ہے)لیکن یہ شرک بھی نہیں ہے، کیونکہ وہ آپ کے علم کو اللہ کا عطائی اور اللہ کے علم کے مقابلہ میں محدود مانتا ہے۔

اور اگر کوئی آپ کو عالم الغیب اس معنی کر مانتا ہے کہ آپ کا علم عطائی تو ہے لیکن محدود نہیں ہے، اور کہتا ہے کہ آپ کا علم ہر جزئیہ کو اس طرح شامل ہے جس طرح اللہ کا علم ہے تو اس معنی کر آپ کو عالم الغیب کہنا بلا شبہ شر ک ہے، کیونکہ علم کے لا محدود ہونے کی یہ صفت صرف اللہ کی ہے، اس کی نسبت اللہ کے علاوہ کسی اور کی جانب کرنا یقیناً شرک  مشرک ہے، جس سے خود آپ نے منع فرمایا ہے۔
قال في التاترخانية: وفي الحجة ذكر في الملتقط أنه لا يكفر لان الاشياء تعرض على روح النبي (ص)، وأن الرسل يعرفون بعض الغيب، قال تعالى: * (عالم الغيب فلا يظهر على غيبه أحدا إلا من ارتضى من رسول) * ا ه.قلت: بل ذكروا في كتب العقائد أن جملة كرامات الاولياء الاطلاع على بعض المغيبات، وردوا على المعتزلة المستدلين بهذه الآية على نفيها بأن المراد الاظهار بلا واسطة، والمراد من الرسول الملك: أي لا يظهر على غيبه بلا واسطة إلا الملك، أما النبي والاولياء فيظهرهم عليه بواسطة الملك أو غيره…والله تعالى أعلم.(شامی:۳/۳۰)ولا يصح الزواج بشهادة الله ورسوله، بل قيل: إنه يكفر؛ لأنه اعتقد أن رسول الله صلّى الله عليه وسلم عالم الغيب.(الفقه الاسلامى و ادلته:۹/۶۸)

دعویٰ علم ِغیب کا حکم:

 جو بھی شخص غیب کا دعوی کرے وہ شرک او رکفر ہے، اور جو مدعی علم غیب کی تصدیق بھی شرک اور کفر ہے، جو شخص مال مسروقہ کےعلم کا دعوی کرے علماء نے اس کو بھی اسی حکم میں رکھا ہے، اور جو شخص اس کی تصدیق کرے اس کو بھی شرک اور کفر قرار دیا ہے۔او رجو شخص اس بات کا دعوی کرے کہ اس کے پاس جن ہے جو غیب کی باتیں جانتا ہے اور جو کچھ پیش آنے والا ہے وہ اس کی خبر دیتا ہے یہ بھی شرک ہے اور ایسا ماننے والے کی تصدیق کرنا بھی شرک ہے۔
أن الكاهن من يدعي معرفة الغيب بأسباب وهي مختلفة، فلذا انقسم إلى أنواع متعددة كالعراف، والرمال، والمنجم: وهو الذي يخبر عن المستقبل بطلوع النجم وغروبه، والذي يضرب الحصى والذي يدعي أن له صاحبا من الجن يخبره عما سيكون، والكل مذموم شرعا، محكوم عليهم وعلى مصدقهم بالكفر.وفي البزازية: يكفر بادعاء علم الغيب وبإتيان الكاهن وتصديقه.
وفي التتارخانية: يكفر بقوله أنا أعلم المسروقات أو أنا أخبر عن إخبار الجن إياي اه.قلت: فعلى هذا أرباب التقاويم من أنواع الكاهن لادعائهم العلم بالحوادث الكائنة. وحاصله أن دعوى علم الغيب معارضة لنص القرآن فيكفر بها، إلا إذا أسند ذلك صريحا أو دلالة إلى سبب من الله تعالى كوحي أو إلهام، وكذا لو أسنده إلى أمارة عادية بجعل الله تعالى.(شامی:۴/۲۲۹،۲۲۸)

ارادہ:
ارادہ اللہ کی صفت ذات ہے، لیکن اس  صفت سے اللہ کےلئے کوئی ’’اسم‘‘ قرآن وحدیث میں استعمال نہیں ہوا ہے، اس لئے اس صفت سے اللہ کےلئے کوئی ’’اسم‘‘ ہمیں اپنی جانب سے بنانا جائز نہیں ہے، ہاں ’’ارادہ ‘‘اللہ کی صفت کے طور پر قرآن و حدیث میں بے شمار جگہوں پر آیا ہے، تکوین، تخلیق ، تقدیر اور ربوبیت کا ہر کام اللہ کے ارادہ سے جڑا ہوا ہے، کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے اللہ کے ارادہ سے ہور ہا ہے، اللہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے وہ نہ چاہے تو کچھ نہیں ہوتا۔
عن أنس بن مالك ، رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال : « إذا أراد الله بعبده الخير عجل له العقوبة في الدنيا ، وإذا أراد بعبده الشر أمسك عنه بذنبه حتى يوافيه به يوم القيامة۔(الاسما٫ و الصفات للبیہقی:۱/۳۴۰)

ہر قسم کا نفع و نقصان اللہ کے ارادہ اور مشیت کے تابع ہے:
ہر قسم کا نفع و نقصان اللہ کے ارادہ اور مشیت کے تابع ہے، دنیا میں کسی چیز کا حاصل ہونا یا کسی چیز سے محروم ہونا انسان کی اپنی محنت و عقل سے جڑی ہوئی نہیں بلکہ اللہ کے ارادہ کے تحت ہے، اللہ جس کو چاہے نفع دے جس کو چاہے نقصان پہنچائے، بغیر اللہ کے ارادہ کے کوئی شے کسی کو نہیں ملتی، اور بغیر اللہ کے ارادہ کے کوئی کسی شے سے محروم نہیں ہوتا۔
مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا۔(الإسرا٫:۱۸)

کوئی شے اللہ کےارادہ کے بغیر نافذ ہی نہیں ہوتی:
کائنات اللہ کی مملکت ہے، یہاں کوئی شے اللہ کے ارادہ اور اس کی مشیت کے بغیر پوری نہیں ہوتی، کوئی چیز اس کے ارادہ کے بغیر وجود میں نہیں آتی ، کوئی چیز اللہ کے ارادہ کے بغیر پیدا نہیں ہوتی، حتی کے بندوں کے اعمال بھی پورا ہونے کےلئے ضروری ہے کہ اللہ ان کے پورا ہونے کا ارادہ فرمائے، اور ان کو پورا ہونے کا موقع دے، ارادہ میں اللہ کا کمال یہی ہے کہ ہر چیز اللہ کے ارادہ کے بعد ہی پوری ہو ، اس اعتبار سے اللہ کے ارادہ کی اقسام ہیں۔

ارادہ کی اقسام:
اللہ تعالیٰ کا ارادہ دو طرح کا ہے(۱) ارادہ کونی (۲) ارادہ شرعی
(۱)ارادہ کونی، خلقی و قدری:
اللہ تعالیٰ کا ایک ارادہ وہ ہے جو اس نے اس کائنات کو بنانے ، تخلیق کرنے، مخلوقات کی تقدیر بنانےکےلئے کیا ہے، اس کو ’’ارادہ کونی/ یا ارادہ تکوینی‘‘ کہتے ہیں، اور اسی معنی میں لفظ ’’مشیت‘‘ بھی استعمال ہوتا ہے، کسی بھی چیز کا وجود اللہ کے ارادہ کے بغیر نہیں ہوتا، یہ اللہ کی مملکت ہے یہاں ہر چیز وجود میں آنے کےلئے اللہ کی مشیت اور اس کے ارادہ کی تابع ہے۔

جس طرح ہر حرکت و سکون اللہ تعالیٰ کے ارادہ و مشیت کے تابع ہیں، اسی طرح بندوں کے افعال و اعمال بھی اللہ تعالیٰ کے ارادہ و مشیت سے پورے ہوتے ہیں، بندوں کو چاہنے اور اعمال کا اختیار دیا گیا ہے لیکن ان کی چاہت اس وقت تک پوری نہیں ہوتی جب تک کہ اللہ اپنی مملکت میں ان کی چاہت کے پوری ہونے کا ارادہ  نہ کرے۔

ایمان ، کفر ، عمل صالح اور سیئات سب کے پورا ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ کےارادہ کونی کی ضرورت ہے، یعنی اللہ کی مملکت میں کسی بھی شخص کا ارادہ اس وقت تک پورا نہیں ہوتا جب تک کہ خود اللہ کی مشیت اس کے ساتھ نہ جڑ جائے۔

(۲) ارادہ شرعی:

مؤمن کے ایمان اور کافر کے کفر کا ارادہ دونوں کےپورا ہونے کےلئے یہ ضرروی ہے کہ اللہ کا ارادہ بھی اس کو قبول کرے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایمان و کفر دونوں اللہ کی نگاہ میں برابر ہیں، بلکہ اللہ ایمان کو پسند کرتا ہے، اور اس سے راضی ہوتا ہے، اور اس معنی کر ایمان اور عمل صالح کے پورا ہونے کےلئے اللہ کا ارادہ ’’ارادۂ شرعی‘‘ ہے، اور کافر کے کفر کےلئے اللہ تعالیٰ کا ’’ارادہ تکوینی‘‘ہوتا ہے، کہ کافر کے ارادہ کے مطابق اس کی خواہش کو پورا کیا جائے تاکہ بندوں کا امتحان پورا ہو۔

مشیت و تقدیر کو گناہوں کےلئے ڈھال بنانا کفر ہے:

اس سے یہ واضح ہوگیا کہ شر کی تکوین اللہ نے امتحان اور آزمائش کی غرض سے کی ہے، اگر خیر کے ساتھ شر کی تخلیق ہی نہیں ہوتی تو امتحان کیسے ہوتا ؟اس لحاظ سے شر کی تخلیق اور اس کا تکوینی ارادہ غلط نہیں ہے، ہاں شر کو اختیار کرنا اور اس کا ارتکاب کرنا غلط ہے، یعنی بندہ اللہ کی پیدا کردہ خیر اور شر کی اقسام میں سے کسی ایک قسم کو اپنے اختیار سے کرتا ہے، اگر وہ شر کو اختیار کرتا ہے تو اس کا شر کو اختیار کرنا غلط ہے، اگر وہ شر کو اختیار کرنا چاہے تو اللہ تعالیٰ اس کو پورا کردیتا ہے، اس کو ذبردستی روکتا نہیں ہے، تاکہ امتحان پورا ہو۔

اس اعتبار سے کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ شر کو اختیار کرررہا ہے تو یہ اللہ کا ارادہ ہے، کیونکہ یہ اللہ کا ارادہ شرعی نہیں بلکہ تکوینی ہے، یعنی اس کے علم میں گناہ ہور ہا ہے تو وہ اس کو پورا ہونے دے رہا ہے، ذبردستی روک نہیں  رہا ہے، کیونکہ اس کو امتحان پورا کرانا ہے، باقی بندہ جو کچھ کررہا ہے اپنے اختیار سے کررہا ہے، اس لئے معاصی اور ذنوب کےلئے مشیت الہٰی کو آڑ بنانا درست نہیں ہے، اور اپنے اختیار سے کرنے والے سیئات /گناہوں کے بارے میں یہ کہنا کہ اللہ نے چاہا ہے اس لئے وہ گناہ کا ارتکاب کررہا ہے ایسا کہنا کفر ہے، کیونکہ اللہ کا ارادہ تکوینی کسی کےلئے جبر کی راہ نہیں کھولتا، جبکہ اس کا ارادہ شرعی اس کو گناہ سے باز رہنے کو بھی کہہ رہا ہے۔ ہاں غیر اختیاری حالات اور مصائب کی نسبت اللہ کی مشیت طرف ہی کی جائے گی، کہ وہ اللہ کی طرف سے ہیں، اور یہی ایمان کا تقاضہ ہے۔
فَإِنَّ الْقَدَرَ يُحْتَجُّ بِهِ عِنْدَ الْمَصَائِبِ، لَا عِنْدَ الْمَعَائِبِ.…… وَأَمَّا الذُّنُوبُ فَلَيْسَ لِلْعَبْدِ أَنْ يُذْنِبَ، وَإِذَا أَذْنَبَ فَعَلَيْهِ أَنْ يَسْتَغْفِرَ وَيَتُوبَ. فَيَتُوبَ مِنَ الْمَعَائِبِ، وَيَصْبِرَ عَلَى الْمَصَائِبِ.(شرح العقیدۃ الطحاویۃ لإبن أبی العز:۱/۷۰)

احکام شرعیہ میں اللہ کا ارادہ:

بندوں کو دیئے جانے والے احکام میں بھی اللہ کا ارادہ  کافرما ہوتا ہے، جو اللہ چاہے حکم دے سکتا ہے، اور دیتا ہے، کوئی بندہ اللہ کے حکم کے مقابلہ میں اپنا ارادہ اور اپنی خواہش کو لانے کا حق دار نہیں ہے، ہاں اللہ بندوں کو ہر طرح کے احکام میں تخفیف ہی کا ارادہ کرتا ہے، وہ ان کی طاقت سے زیادہ احکام کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ، وہ ان کے حق میں یسر ہی چاہتا ہے، عسر نہیں چاہتا۔
إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ (المائدۃ:۱) يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النسا٫:۲۸) يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ(البقرۃ:۱۸۵)وَاللَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِيدُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ أَنْ تَمِيلُوا مَيْلًا عَظِيمًا (۲۷) يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا۔(النسا٫:۲۸)

صفت ارادہ و مشیت میں شرک:

مذکورہ بالا معانی میں اللہ کی صفت ارادہ و مشیت کسی میں ماننا شرک ہے، کسی کے ارادہ و مشیت کے بارے میں ماننا کہ وہ اللہ کی طرح نافذ ہوتی ہے اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، اسی طرح یہ ماننا کہ کسی کے ارادہ یا مشیت کا نفاذ اللہ کی اجازت کے تابع نہیں ہے یہ بھی شرک ہے۔

یہ ماننا کہ بندوں کے افعال کے پورا ہونے کےلئے اللہ کی مشیت کی ضرورت نہیں ہے، اللہ  کی صفت اردہ  میں کمال  اور ’’ارادہ تکوینی ‘‘کی نفی کرنا ہے، اور یہ نفی کرنا یہ ماننا ہے کہ اللہ کی مملکت میں کوئی اس کے اردہ کے بغیر بھی اپنا ارادہ چلا سکتا ہے، ایسا ماننا شرک ہے۔  تاریخ اسلامی میں ایسا ماننے والے قدریہ کہلائے۔

اسی طرح یہ کہنا کہ بندوں کی اپنی کوئی مشیت ہے ہی نہیں ، مشیت تو صرف اللہ کی ہے، اور بندہ اپنے ارادہ اور اختیار کے بغیر حرکت کرتا ہے جیسا کہ کوئی مشین حرکت کررہی ہو، جس کا اختیار کسی اور کے ہاتھ میں ہےیہ اللہ کے’’ارادہ  شرعی‘‘ کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے عدل کی نفی کرنا ہے، کہ اللہ ظالم ہے اور بندوں پر جبر کرتا ہے ایسا ماننا کفر ہے۔ تاریخ اسلامی میں ایسا ماننے والے جبریہ کہلائے۔

اسی طرح  احکام الہٰی میں اپنے ارادہ کو دخل دینا اور سمجھنا کہ ہم بھی آزاد ہیں اپنے ارادہ کو احکام کے مقابلہ میں رکھ سکتے ہیں یہ بھی شرک ہے، کوئی اللہ کے ارادہ کے نفاذ میں مانع نہیں ہو سکتا، غیر اللہ  میں کسی کو خواہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو اللہ کے ارادہ سے آزاد ماننا شرک ہے۔

کسی غیر اللہ میں ارادہ اور مشیت کی صفت کو ان معانی میں ماننا جن معانی میں اللہ اور اس کے رسول نے مانا ہے یہ شرک نہیں ہے، کسی کے بارے میں یہ ماننا کہ: اس کی صفت ارادہ کی عطاء ہے، محدود ہے اور حادث ہے شرک نہیں ہے۔
إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ (المائدۃ:۱)لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ قُلْ فَمَنْ يَمْلِكُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ أَنْ يُهْلِكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (المائدۃ :۱۷)وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَالٍ (الرعد:۱۱)عن ابن عباس ، رضي الله عنهما قال : جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يكلمه في بعض الأمر فقال الرجل لرسول الله صلى الله عليه وسلم : ما شاء الله وشئت ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « أجعلتني لله عدلا ؟ بل شاء الله وحده۔(الاسماء و الصفات:۱/۳۱۵)

قدرت:

قدرت اللہ کی صفت ذات ہے، اور اس صفت سے اللہ کا اسم القدیر ، القادر، المقتدر وغیرہ ہیں، اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر مکمل قدرت حاصل ہے، کوئی شے اس کو عاجز نہیں کر سکتی، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، جو چاہتا ہے تخلیق کرتا ہے، اور سبھی کی تدبیر وہی کرتا ہے، کائنات کی تمام عظیم اور حیرت انگیز مخلوقات کو اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم ’’کن‘‘ سے پیدا کیا، اور وہی اس کائنات کی تدبیر کررہا ہے، ہر کوئی اس کے آگے مقہور  ہے، کوئی اس کے حکم سے باہر نہیں ہے، آسمان و زمین ، سورج و چاند ، خلاؤں میں بکھرے ہوئے سیارے، فضاءیں اور سمندر، پہاڑ و دریا چرند و پرند سب اللہ کے حکم کے تابع فرمان  اور مسخر ہیں، کوئی مخلوق اس حد سے آگے نہیں بڑھ سکتی جس میں اللہ نے اس کو رکھا ہے ۔اللہ تعالیٰ کی صفت قدرت کو ظاہر کرنے والی قرآن و حدیث میں اور کئی اسماء و صفت استعمال ہوئے ہیں، مثلاً:القیوم اللہ کی اسم و صفت قدرت ہے، اسی طرح القوی، القھار، القاھر، عزت دینا اور ذلت دینا اور ہر طرح کے خیر و شرکا تنہاء مالک ہونا، العزیز، الجبار، المتکبر، ذو القوۃ المتین وغیرہ سبھی اللہ کے اسماءو صفات قدرت ہیں۔
وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (الأعراف:۵۴)وَآيَةٌ لَهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُمْ مُظْلِمُونَ (۳۷۳۸) وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتَّى عَادَ كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ (۳۹) لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (۴۰) (سورۃ یس)إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ (الذاریات:۵۸) إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (سورة الْبَقَرَةِ آية: ۲۰) وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مُقْتَدِرًا۔( سورة الْكَهْفِ: ۴۵)
عن جابر بن عبد الله ، رضي الله عنهما قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة في الأمور كلها كما يعلمنا السورة من القرآن يقول : إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة ثم ليقل : اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك ، وأسألك من فضلك العظيم ، فإنك تقدر ولا أقدر ، وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب ، اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ودنياي ومعاشي وعاقبة أمري - أو قال في عاجل أمري وآجله - فاقدره لي ويسره لي ، ثم بارك لي فيه ، وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري أو قال : في عاجل أمري وآجله فاصرفه عني ، واصرفني عنه ، وعجل لي الخير حيث كان ثم أرضني به۔(رواه البخاري)

اللہ کی قدرت میں کمال :

اللہ کی قدرت میں کمال ہے کوئی نقص و عیب نہیں ہے،  وہ سوتا اونگھتا یا تھکتا نہیں ہے، اس کو کوئی عاجز نہیں کر سکتا، سب اس کے تدبیر کے محتاج ہیں اور ان کی تدبیر و انتظام اس کو تھکاتی نہیں ہے، اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا ، سب اس کے آگے مسخر اور مقہور ہیں ، اور اللہ کی صفت قدرت کی مظہر ہیں۔
وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعْجِزَهُ مِنْ شَيْءٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرًا ( سورة فَاطِرٍ: ۴۴) وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (سورة الْبَقَرَةِ: ۲۵۵)عن ابن مسعود ، رضي الله عنه قال : من قال : الحمد لله الذي تواضع كل شيء لعظمته ، والحمد لله الذي ذل كل شيء لعزته ، والحمد لله الذي استسلم كل شيء لقدرته ، والحمد لله الذي خضع كل شيء لملكه ، كتب الله تعالى له بها ثمانين ألف حسنة ، ومحا عنه بها ثمانين ألف سيئة ورفع له بها ثمانين ألف درجة۔(الاسماء و الصفات:۱/۲۶۷)

قائم بنفسہ و مقیم لغیرہ:

اللہ تعالیٰ خود سے قائم ہے، کوئی اس کو تھامے ہوئے نہیں ہے، اس کا وجود و حیات اور بقاء کسی اور کی مرہون منت نہیں ہے بلکہ اس کا وجود و بقاء ذاتی ہے، جبکہ اس کے علاوہ سب اس کے محتاج ہیں، اللہ کے عطاء سے موجود، اور اللہ کی مشیت سے قائم ہیں، وہی ان کو تھامے ہوئے ہے، اور کبھی ان سے غافل نہی ہوتا، اگر اللہ ان سے اپنی توجہ ہٹا لے تو کوئی شے باقی نہ رہے سب فنا ہوجائیں، اسی کی قدرت سے سب کچھ جاری ہے۔

آسمان و وزمین اپنی اپنی جگہ اللہ کی قدرت سے موجود ہیں، پانی سمندر تک اللہ کی قدرت سے محدود ہے، سورج اور چاند اللہ کی قدرت سے مسخر ہیں، پرندے فضاء میں اللہ کی قدرت سے پر پھیلائے اڑتے ہیں، رات اور دن اللہ کی قدرت سے بدلتے ہیں، سب کچھ اللہ کی قدرت کے تابع ہے۔
القائم بنفسه والمقيم لغيره، القائم بنفسه فلا يحتاج إلى شيء، وغني عن كل شيء، المقيم لغيره، كل شيء فقير إليه يحتاج إلى إقامته له سبحانه وتعالى، فلولا إقامة الله للسموات والأرض والمخلوقات لتدمرت وفنيت، ولكن الله يقيمها ويحفظها ويمدها بما يصلحها.فجميع الخلق في حاجة إليه (إن الله يمسك السموات والأرض أن تزولا ولئن زالتا إن أمسكهما من أحد من بعده)۔  [فاطر: ۴۱](شرح العقیدۃ الطحاویۃ للفوزان:۱/۱۴)

افعالِ عبادُاللہ کی قدرت میں شامل ہیں:

بندے جو کچھ کرتے ہیں اللہ ان کو پہلے سے جانتا ہے، اور ان کے ارتکاب کا جب بندے ارادہ کرتے ہیں تو ان کے وجود میں آنے کےلئے خود اللہ کی مشیت ضروری ہے، بندوں کی مشیت پر اللہ کی مشیت سے اجازت مل جائے تو وہ اس کو کر سکتے ہیں ورنہ اللہ کی مشیت نہ ہو تو وہ کچھ نہیں کر سکتے، اس لحاظ سے افعال عباد بھی اللہ کی قدرت کے تحت ہیں۔
ذَلِكَ بِأَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَكُلُّ شَىْءٍ إِلَيْهِ فَقِيرٌ، وَكُلُّ أَمْرٍ إليه يَسِيرٌ۔  (شرح العقیدۃ الطحاویۃ لإبن أبی العز:۱/۵۹)

اللہ کی صفت قدرت میں شرک:

اللہ کی صفت قدرت میں کوئی شریک نہیں ہے، کسی کو  اللہ کی صفت قدرت میں مذکور بالا معانی میں ماننا شرک ہے، کسی غیر اللہ کے بارے میں یہ ماننا کہ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے شرک ہے، یہ ماننا کہ ہر چیز غیر اللہ کے تابع فرمان ہے یہ بھی شرک ہے، یہ ماننا کہ خود اللہ نے کسی میں ہر چیز کی قدرت دی ہے یہ کفر ہے، کسی غیر اللہ کے بارے میں یہ ماننا کہ کوئی اس کو عاجز نہیں کر سکتا، یا کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا یہ بھی شرک ہے، یا یہ ماننا کہ وہ اللہ کے آگے عاجز مقہور اور مغلوب نہیں ہے یہ بھی شرک ہے، اور افعال عباد کو اللہ کی قدرت سے خارج ماننا کفر و شرک ہے، اور شرک نا قابل معافی جرم ہے جس کی سزاء ابد الآباد یعنی ہمیشہ ہمیش کی جہنم ہے۔

کس درجہ قدرت غیر اللہ میں ماننا شرک نہیں ہے:

غیر اللہ میں سے کسی میں صفت قدرت اس معنی میں ماننا جس معنی میں اللہ اور اس کے رسول نے ثابت مانی ہے شرک نہیں ہے، مثلاً یہ ماننا کہ : کسی مخلوق میں صفت قدرت ہے لیکن اللہ کی عطاء سے ہے، محدود ہے، اور حادث ہے یہ شرک نہیں ہے، ان شرائط کے ساتھ کسی میں قدرت کا کتنا ہی اونچا درجہ مانا جائے وہ شرک نہیں ہوگا۔

سماعت و بصارت /السمیع و البصیر:

سماعت و بصارت اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں، اور ان سے بنے السمیع اور البصیر اللہ کے نام ہیں، اللہ تعالیٰ ہر چیز دیکھتا ہے اور ہر چیز سنتا ہے۔جو کوئی اللہ کو پکارتا ہے اللہ اس کی پکار سنتا ہے، اور ان کے اعمال دیکھ رہا ہے۔
إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ (غافر:۲۰) إِنَّ اللَّهَ بِعِبَادِهِ لَخَبِيرٌ بَصِيرٌ (فاطر:۳۱) وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا بَصِيرًا (النسا٫:۱۳۴)قَالَ لَا تَخَافَا إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَى۔(طہ:۴۶ش)

اللہ کی صفات سماعت و بصارت کا امتیاز:

بندوں میں بھی سماعت و بصارت اللہ کی پید کی ہوئی ہے، تبھی وہ دیکھ اور سن سکتے ہیں، لیکن بندوں کی سماعت و بصارت اللہ کی سماعت و بصارت کی طرح نہیں ہے، اللہ کی سماعت و بصارت اس کے لائق شان ہے، اللہ کی یہ صفات ذاتی، لامحدود، اور ہمیشہ سے ہیں، اور اس کو سماعت و بصارت کے لئے کسی آلے /اعضاء و جوارح کی حاجت نہیں ہے، جبکہ  بندوں کی یہ صفات عطائی، محدود، اور حادث ہیں، اور بندہ سماعت و بصارت کےلئے اعضاء و جوارح اور دیگر اسباب کا محتاج ہے۔

سماعت و بصارت ان دونوں صفات پر کچھ کلام آگے ’’صفات متشابہات‘‘عنوان کے تحت بھی آئے گا۔
لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ، وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ۔(الشوری:۱۱)

اللہ کی صفات سماعت و بصارت میں کفر وشرک:

اللہ تعالیٰ کے لئے سماعت و بصارت ثابت ہے، نصوص ان کے ذکر سے بھری ہوئی ہیں، ان کا انکار کرنا کفر ہے(جیسا کہ معطلہ نے کیا ہے)،  اللہ تعالیٰ اپنی صفات کےلئے اعضا٫ و اسباب کا محتاج نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی سماعت و بصارت بندوں کی طرح سے نہیں ہے، یعنی ان میں اللہ کو اعضا٫ و جوراح کا محتاج ماننا بھی کفر ہے(جیسا کہ مشبہ نے کہا ہے)، وہ کسی کا محتاج نہیں  ہے، وہ لا محدود ہے، اور ہمیشہ سے ان صفات سے متصف ہے، اللہ تعالیٰ کےلئے جن معانی میں صفات سماعت و بصارت استعمال ہوتی ہیں ان کو غیر اللہ میں ماننا شرک ہے، اللہ کی صفت سماعت اور بصارت ذاتی ، لا محدود، اور قدیم ہیں، غیر اللہ میں سماعت و بصارت عطائی (یعنی اللہ کی عطاء کردہ)، محدود اور حادث ہیں، غیر اللہ میں سماعت و بصارت کی صفات ذاتی ، لا محدود، اور غیر حادث ماننا شرک ہے۔ شرک نا قابل معافی جرم ہے، جس کی سزاء ہمیشہ ہمیش کی جہنم ہے۔
عن عائشة ، رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في سجوده بالليل مرارا : « سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته(الاسماء و الصفات:۱/۲۷۲)عن أبي موسى الأشعري ، رضي الله عنه ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « إن الله عز وجل لا ينام ولا ينبغي له أن ينام ، يخفض القسط (۱) ويرفعه ، يرفع إليه عمل الليل قبل النهار ، وعمل النهار قبل الليل ، وحجابه النار لو كشفها لأحرقت سبحات وجهه كل شيء أدركه بصره(الاسماء و الصفات:۱/۴۱۶)عن عمر بن الخطاب ، رضي الله عنه ، عن النبي صلى الله عليه وسلم في حديث الإيمان ، قال : يا محمد ، ما الإحسان ؟ ، قال : أن تعبد الله كأنك تراه ، فإنك إن لم تكن تراه ، فإنه يراك۔(رواہ مسلم )

 کلام:

کلام اللہ کی صفت ذات ہے، البتہ صفت کلام سے اللہ کا کوئی اسم نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کلام فرماتے ہیں، فرشتوں سے کلام فرماتے ہیں، انبیاء کرام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا ہے، حضرت موسی سے اللہ نے کلام کیا ہے، معراج میں نبی پاک سے اللہ نے کلام فرمایا ہے۔
وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْلَمُونَ (التوبة :۶) وَلَوْ شِئْنَا لَآتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدَاهَا وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (السجدۃ:۱۳)وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا (النسا٫:۱۲۲)قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ (ص:۸۴)وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا (النسا٫:۱۶۴)تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنْهُمْ مَنْ كَلَّمَ اللَّهُ…… (البقرة: ۲۵۳) وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ (الشوری:۵۱) وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ۔(سبأ:۲۳)

عالم ارواح میں اللہ تعالیٰ کا بندوں سے کلام:

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی صلب سے ان کی تمام ذریت کو ارواح کی شکل میں نکال کر ان سے کلام فرمایا، اور دنیا میں ان وک بھیجنے سے قبل ان سے اپنی ربوبیت کا عہد لیا، جہاں تمام بنی نوع آدم نے اللہ کی ربویت کا اقرار کیاہے، کل کو قیامت کے دن بندے اگر شرک میں مبتلا ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اس عہد کی بنیاد پر بھی ان سے مؤاخذہ فرمائیں گے۔
وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ (۱۷۲) أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ۔(الأعراف:۱۷۳)
عن ابن عباس ، رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : « أخذ الله الميثاق من ظهر آدم عليه السلام فأخرج من صلبه ذرية ذراها فنثرهم نثرا بين يديه كالذر ثم كلمهم ، فقال : ( ألست بربكم قالوا بلى شهدنا أن تقولوا يوم القيامة إنا كنا عن هذا غافلين أوتقولوا إنما أشرك آباؤنا من قبل وكنا ذرية من بعدهم أفتهلكنا بما فعل المبطلون۔(الاسماء و الصفات:۱/۴۶۳)

اللہ کے کلام کا آسمان والوں پر اثر:

جب اللہ تعالیٰ جب وحی کا ارادہ فرماتے ہیں تو وحی کے ذریعہ کلام فرماتے ہیں ، اور جب اللہ تعالیٰ کلام فرماتے ہیں تب تمام آسمانوں پر خوف سے ایک لرزہ طاری ہو جاتا ہے، اور وہ کانپنے لگتے ہیں، اورآسمان والے جب اس وحی کو سنتے ہیں تو ان پر اس کی گرج کی وجہ سے غشی طاری ہو جاتی ہے،  اور وہ سب سجدہ میں گر پڑتے ہیں،  اس کے اثر سے باہر نکلنے والے سب سے پہلے حضرت جبرئیل ہوتے ہیں، وہ اپنا سر اٹھاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے جو چاہتا ہے کلام فرماتا ہے، حضرت جبرئیل سے اس وحی کو لے کر جب کسی آسمان سے گذرتے ہیں وہ پوچھتے ہیں کہ اللہ نے کیا فرمایا ہے؟ حضرت حبرئیل جواب میں فرماتے ہیں: قال الحق وهو العلي الكبير، اللہ نے جو کچھ فرمایا ہے وہ حق ہے، اور وہ بہت بلند و برتر ہے، جواب میں آسمان والے بھی وہی کہتے ہیں جو حضرت جبرئیل نے فرمایا ہے، اور حضرت جبرئیل اللہ کی وحی وہاں پہنچاتے ہیں جس کا انہیں حکم ہوا ہے۔
عن النواس بن سمعان ، رضي الله عنه ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « إذا أراد الله عز وجل أن يوحي بأمره تكلم بالوحي ، فإذا تكلم أخذت السماوات رجفة - أو قال رعدة - شديدة خوفا من الله عز وجل ، فإذا سمع بذلك أهل السماوات صعقوا ، وخروا لله سجدا ، فيكون أول من يرفع رأسه جبريل عليه الصلاة والسلام ، فيكلمه الله تعالى من وحيه ما أراد فيمضي جبريل عليه السلام على الملائكة كلما مر بسماء يسأله ملائكتها : ماذا قال ربنا يا جبريل ؟ فيقول جبريل : قال الحق وهو العلي الكبير ، قال : فيقولون كلهم مثل ما قال جبريل ، فينتهي جبريل بالوحي حيث أمره الله عز وجل من السماء والأرض۔(الاسماء و الصفات:۱/۴۶۳)

امر و نہی الہٰی:

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو امر و نہی کرتا ہے، اور انہیں موعظت کرتا ہے، انہیں اچھائی ، امانتوں کی ادائیگی اور عدل و احسان کا حکم دیتا ، اور فواحش اور منکرات سے روکتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اوامر و نواہی اور موعظت اپنے کلام /اور وحی کے ذریعہ سے کرتا ہے۔
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا (النسا٫:۵۸)إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ۔  (النحل:۹۰)
وَأَمَرَهُمْ بِطَاعَتِهِ، وَنَهَاهُمْ عَنْ مَعْصِيَتِهِ ۔  (العقیدۃ الطحاویۃ مع شرحہ لإبن أبی العز:۱/۶۸)

قرآن مجید اللہ کا کلام ہے:

(قرآن مجید ، اور آسمانی کتابوں سے متعلق عقائد آگے مستقل عنوان کے تحت آئیں گے)

قیامت کے دن اللہ کا اپنے بندوں سے کلام:

قیامت کے دن اللہ پاک اپنے بندوں سے کلام فرمائیں گے، انبیا٫  و رسولوں سے خطاب فرمائیں گے، فرشتوں سے خطاب فرمائیں گے، بعض بندے وہ بھی ہوں گے جن کے برے کرتوتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نہ ان کی جانب نظر رحمت فرمائیں گے اور نہ ہی ان سے کلام فرمائیں گے۔
إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (آل عمران:۷۷) وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ إِنْ كُنْتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ  ۔  (المائدۃ :۱۶۶)
أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا أَنَّ النَّاسَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ « هَلْ تُمَارُونَ فِى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ » . قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ « فَهَلْ تُمَارُونَ فِى الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ » . قَالُوا لاَ . قَالَ « فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ ، يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَقُولُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْ . فَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الشَّمْسَ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الْقَمَرَ وَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الطَّوَاغِيتَ ، وَتَبْقَى هَذِهِ الأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا ، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ فَيَقُولُونَ هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا ، فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ . فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ . فَيَقُولُونَ أَنْتَ رَبُّنَا . فَيَدْعُوهُمْ فَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَانَىْ جَهَنَّمَ ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَجُوزُ مِنَ الرُّسُلِ بِأُمَّتِهِ ، وَلاَ يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ إِلاَّ الرُّسُلُ ، وَكَلاَمُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ .  (صحیح البخاری)
فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّى فَيُؤْذَنُ لِى وَيُلْهِمُنِى مَحَامِدَ أَحْمَدُهُ بِهَا لاَ تَحْضُرُنِى الآنَ ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ وَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ ، وَسَلْ تُعْطَ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ۔  (صحیح البخاری:کتاب التوحید)

اہل جنت سے اللہ تعالیٰ کا کلام:

اہل جنت جب جنت میں داخل ہوجائیں گے اور انہیں وہاں ہر طرح کا عیش و آرام اور جنت کی نعمتیں میسر  ہوں گی، اللہ تعالیٰ جنتیوں سے خطاب کریں گے، اہل جنت لبیک و سعدیک و الخیر فی یدیک کہہ کر اللہ کے خطاب کی جانب متوجہ ہوں گے، جو کچھ تمہیں ملا ہے، اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا : جو کچھ تمہیں ملا ہے کیا تم اس سے راضی  اور خوش ہو، جنتی کہیں گے : ائے اللہ !ہم کیوں خوش نہیں ہوں گے، ہمیں تو وہ نعمتیں ملی ہیں جو کسی مخلوق کو نہیں ملیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں اس سے بھی زیادہ بڑی نعمت اور افضل شے تمہیں دوں گا۔ جنتی کہیں گے : ائے اللہ ! اس سے زیادہ افضل شے اور کیا ہوگی؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: میں تمہیں اپنی ایسی رضا سے نواز رہا ہوں کہ اس کے بعد میں کبھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔
أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ النَّبِىُّ - صلى الله عليه وسلم - « إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لأَهْلِ الْجَنَّةِ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ . فَيَقُولُونَ لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِى يَدَيْكَ . فَيَقُولُ هَلْ رَضِيتُمْ فَيَقُولُونَ وَمَا لَنَا لاَ نَرْضَى يَا رَبِّ وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ . فَيَقُولُ أَلاَ أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ . فَيَقُولُونَ يَا رَبِّ وَأَىُّ شَىْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ فَيَقُولُ أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِى فَلاَ أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا » .

جہنم اور اہل جہنم سے اللہ تعالیٰ کا کلام:

جہنمیوں کو جہنم میں داخل کرایا جائے گا، جب بھی کوئی نئی قوم اس میں داخل ہوگی، اور جب بھی  جہنم میں کوئی نیا گروہ داخل ہوگا وہ پہلے والوں کے بارے میں اللہ سے خطاب کرکے کہے گا، ائے ہمارے رب! انہوں نے ہی ہمیں گمراہ کیا تھا انہیں دوہرا عذاب دیجئے، اللہ تعالیٰ جواب میں فرمائیں گے: ہر ایک لئے دوگنا عذاب ہے۔

اور جب سب جہنمی جہنم میں چلیں جائیں گے ، اللہ تعالیٰ جہنم سے خطاب کرکے کہیں گے: کیا تو بھر گئی، جہنم جواب میں کہیں گی، اور لاؤ۔
يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ (ق:۳۰)قَالَ ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ فِي النَّارِ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا حَتَّى إِذَا ادَّارَكُوا فِيهَا جَمِيعًا قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولَاهُمْ رَبَّنَا هَؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَكِنْ لَا تَعْلَمُونَ (۳۸) وَقَالَتْ أُولَاهُمْ لِأُخْرَاهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُونَ۔  (الأعراف:۳۹)


http://www.anwar-e-islam.org/node/2668?view=normal#.VntmKk9ayZg



No comments:

Post a Comment