جادو کی انواع اقسام اور جنات چمٹنے کے اسباب ۔
جادو کی مختلف اعتبار سے اقسام اورصورتیں
دورِ جدید میں جادو کی کئی ايك صورتیں ہو سکتی ہیں، ذیل میں صرف اجمالاً اشارہ کیا جارہا ہے۔ اہل علم نے جادو کی کئی ایک اعتبارات سے اقسام وصورتیں بیان کی ہیں:
جادو کی پہلی تقسیم
a العزیمة:جادوگر جنات کو ایسے ناموں کی
قسم ڈالتا ہے جو اس کے خیال میں ان فرشتوں کے نام ہیں جنہیں حضرت سلیمان علیہ
السلام نے جنات کے قبیلوں پر مقرر کیا تھا، لہٰذا جب وہ ایک معین نام کی قسم ڈال
دیتا ہے تو گویا جن پر وہ کام کرنا لازم کر دیتا ہے جو وہ کروانا چاہ رہا ہوتا ہے۔ (1)
b الطّلسم: طلسمات سے مراد ایسے خاص نام ہیں جن کے متعلق جادوگر سمجھتے ہیں کہ
ان کا ستاروں سے تعلق ہے۔ یہ جادو معدنیات پر کیا جاتا ہے اور جادوگروں کے مطابق
اس کا خاص اثر ہوتا ہے۔ (2)
c الأوفاق: اوفاق سے مراد ایسے اعداد ہیں جنہیں مخصوص شکل میں ہندسوں کی صورت
میں لکھا جاتا ہے۔ جادوگر سمجھتے ہیں کہ کاغذ پر یہ لکھنے سے یا گلے میں پہننے سے
بچے کی ولادت آسان ہو جاتی ہے، یا کسی کے خلاف مدد ملتی ہے، یا قیدی کی رہائی کے
اسباب پیدا ہو جاتے ہیں۔(3)
d التنجیم:اس سے مراد علم نجوم ہے۔
جادوگر فلکیاتی تبدیلیوں کے ذریعے زمینی واقعات کے متعلق راہنمائی دیتا ہے۔(4)
جادو کی دوسری تقسیم
a سفلی
وشیطانی جادو: وہ جادو جو بذاتِ خود شیطان کی طرف سے کیا جاتا ہے، اسے سفلی جادو
کہتے ہیں۔ یہ سب سے زیادہ مہلک اور خطرناک ترین صورت ہے کیونکہ اس میں شیطان خود
دلچسپی سے عمل کر رہے ہوتے ہیں اور وہ عمل کرنے میں کسی کے محتاج نہیں۔
b جناتی و خبیث روحوں کا جادو: وہ جادو جو انسان جادوگر شیطانوں اورخبیث جناتی روحوں سے خاص کیفیت میں مدد حاصل کر کے کرتے ہیں ۔ یہ پہلی صورت سے کمزور ہوتا ہے کیونکہ بسا اوقات شیطان مدد کرتے ہیں اور کبھی مدد نہیں بھی کرتے۔
c اعداد
وشمار (ستاروں
وسیاروں سے مدد) کا جادو: وہ جادو جس میں جادوگر حروفِ ہجائیہ ،اعداد وشمار اور ستاروں سیاروں
کی غیر مرئی (دکھائی نہ دینے والی قوتوں) سے مدد طلب کر کے کرتا ہے۔ یہ سب سے
کمزور صورت ہے کیونکہ اس میں اکثر جادوگر اس میدان کے ماہر نہیں ہوتے ہیں ، ٹوٹکے
استعمال کرتے ہیں۔۔(5)
d فکری و نظری اور قلبی تشویش کا جادو:جادوگر اور شعبدہ باز خوش نما قسم کے کرشمے اور کرتب دِکھا کر لوگوں کو اپنا گرویدہ کرتا ہے۔ اس میں جادوگر دراصل لوگوں کی نظر کو اپنے قابو میں لے لیتا ہے، جس کے ذریعے وہ غیرواقعی اور خیالی چیز کو حقیقت بنا کر پیش کرتا ہے۔
جادو کی تیسری تقسیم:
سفید وسیاہ ہونے کے اعتبار سے
سفید جادو: وہ جادو جس کے ذریعے غلط طریقے سے مثبت کام کیے جائیں یعنی کسی کو نفع پہنچایا جائے، میاں بیوی یا دیگر کی آپس میں محبت پیدا کی جائے، کاروبار کی ترقی وغیرہ کے لیے۔
کالا جادو: وہ جادو جس کے ذریعے منفی، غیر شرعی اور اخلاقی کام کیے جائے مثلاً لڑائی جھگڑا، جانی ومالی نقصان وغیرہ کیا جائے۔(6)
جادوکی چوتھی تقسیم:
حقیقی اور خیالی ہونے کے اعتبار سے
a حقیقی جادو: وہ جادو جو انسانی جسم کو حقیقت میں متاثر کرتا ہے، مثلاً بیماری پیدا کرنا، قتل کرنا، دو آدمیوں کے درمیان محبت، نفرت اور تفریق ڈالنا۔یاد رہے کہ یہ سب کچھ اللّٰہ کے حکم سے بطور آزمائش ہوتا ہے۔
b خیالی جادو:وہ جادو جس کا تعلق صرف خیالات اور تصورات سے ہوتا ہے اور یہ صرف آنکھوں پر ہوتا ہے مثلاً اشیا کو ان کی اصل حقیقت کے علاوہ تصور کرنا، منجمد کو متحرک اور متحرک کو منجمد کرنا، چھوٹی کو بڑی اور بڑی کو چھوٹی وغیرہ۔ کسی جگہ آگ اور کسی جگہ پانی وغیرہ دیکھنا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿ قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ
اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْيُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ
بِسِحْرٍ عَظِيْمٍ۰۰۱۱۶﴾(7)
(موسیٰ نے) کہا تم ہی ڈالو۔ جب انہوں نے (جادو کی چیزیں) ڈالیں
تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا (یعنی نظربندی کردی) اور (لاٹھیوں اور رسیوں کے
سانپ بنا بنا کر) انہیں ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا ۔(8)
جادوکی پانچویں تقسیم:
اُسلوب کے اعتبار سے
a شعبدہ
بازی: وہ جادو جس کے ذریعے
ایک غیر واقعی اور محض خیالی چیز کو افراد کے سامنے واقعی اورحقیقی بنا کر پیش
کرنا۔ اصل میں مسحور شخص کی فکر ونظر اور دل و دماغ پر جنات وشیاطین مسلط ہو جاتے
ہیں جس کی وجہ سے وہ اشیا کی حقیقت کو دیکھ نہیں پاتا۔ ارشاد ہے:
قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِمَّآ اَنْ تُلْقِيَ وَاِمَّآ اَنْ نَّكُوْنَ
اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰي۔ قَالَ بَلْ اَلْقُوْا۔ فَاِذَا حِبَالُہُمْ
وَعِصِيُّہُمْ يُخَيَّلُ اِلَيْہِ مِنْ سِحْرِہِمْ اَنَّہَا تَسْعٰي۔(9)
بولے کہ موسیٰ یا تم (اپنی چیز) ڈالو یا ہم (اپنی چیزیں) پہلے ڈالتے
ہیں۔ موسیٰ نے کہا نہیں تم ہی ڈالو۔ (جب انہوں نے چیزیں ڈالیں) تو ناگہاں ان
کی رسیاں اور لاٹھیاں موسی کے خیال میں ایسی آنے لگیں کہ وہ (میدان) میں ادھر
اُدھر دوڑ رہی ہیں۔
قالت عائشة: سُحر رسول الله ﷺ حتى انه ليخيّل إليه أنه فعل الشيء وما فعله۔(10)
’’رسول اللّٰہﷺ پر
جادو کیا گیا، اس کا اثر یوں ہوا کہ آپ اپنے خیال کے مطابق ایک کام کرچکے ہوتے
تھے، حالانکہ آپ نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا۔‘‘
b سحر المؤثرات: وہ جادو جو ستاروں اور سیاروں کے ذریعہ کیا جاتا ہے، اس کے ذریعہ نفوس انسانی میں وہم جیسی بیماری مسلط کر دی جاتی ہے۔
تیل، کھانے پینے کی اشیا پر خاص قسم کا خاص طریقے سے شیطانی عمل کیا
جاتا ہے جو کہ انسان کے لیے بسا اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے۔
c خبیث روحوں کے مسلط ہونے کا جادو :وہ جادو جس میں مسحور شخص پر خاص اغراض ومقاصد کے لیے لعین ومردود قسم کے جنات شیاطین مسلط کر دیے جاتے ہیں۔ جب تک وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوتے تب تک وہ اس پر مسلط رہتے ہیں۔
جادو کی چھٹی تقسیم
تاثیر کے اعتبار سے
معاشرے میں یہ جادو اس قدر عام ہو چکا ہے کہ ہر تیسرا آدمی اس سے
متاثر ہے، کسی نے گلے میں تعویذ لٹکایا یا گھر میں رکھا ہوتا ہے، تو کسی نے اپنے
دفتر ، دوکان، فیکٹری میں حروفِ مقطعات اور اعداد وغیرہ سے لکھے کاغذات لگائے ہوتے
ہیں جس سے عقلی اعتبار سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جادو نہ صرف موجود ہے بلکہ شدت سے
موجود ہے۔ کتنے ہی افراد اس مرض کی وجہ سے انتہائی پریشان ہیں، کچھ جادو کی وجہ
سے، تو کچھ عاملین کے غیر شرعی وغیر اخلاقی طریقوں کی وجہ سے ، جو اس مرض میں
مبتلا ہے وہی جانتا ہے کہ جادو کا مرض کس کو کہتے ہیں۔
جادو گراور اس کے غیرشرعی معالج
کے پاس جانے کے سنگین نقصانات
جادو گرکے پاس جانا دین ودنیا کا نقصان اور سراسر گھاٹے کا سودا ہے،
اگر جادو حقیقت میں کوئی فائدہ دیتا تو
جادوگر دنیا میں سب سے زیادہ خوشگوار اور پرتعیش زندگی گزارتے۔ ایسے ہی جادو کا
علاج کرنے والے غیرشرعی عاملین کے پاس جانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے، البتہ
نقصانات کئی اعتبار سے بہت زیادہ ہیں، جن میں ہر نقصان دوسرے سے بڑھ کر ہے۔ ان
نقصانات میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
مذہبی نقصانات حقیقی مسلمان کے لیے دنیا کا سب سے بڑا قیمتی ورثہ ہدایت اور ایمان ہے جس کے لیے ہر قیمتی شے قربان کی جا سکتی ہے لیکن بیماری سے شفا یابی کے لیے ان کی قربانی ہرگز نہیں دی جا سکتی لیکن افسوس ہے کہ غیر شرعی طریقے سے جادو کا علاج کرنے والے عامل اکثر انسان کے ایمان اور عقائد کوخراب کرتے ہیں جس کی ہم سرے سے پرواہ نہیں کرتے۔ ذیل میں چند ایک وجوہات کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے جوکہ دنیاو آخرت کی تباہی کا سبب بنتی ہیں:
a جادوگر کفر کا ارتکاب کرواتا ہے، جیسا کہ رسول اللّٰہ ﷺ کا ارشاد ہے:
’’جو کسی کاہن (جادو گر) کے پاس آیا اور اس کی باتوں کی تصدیق کی
تو یقینا اس نے محمد ﷺ پر نازل ہونے والی شریعت کا
انکارکیا۔‘‘(11)
b جادوگر نمازوں کی قبولیت میں رُکاوٹ بنتا ہے، جیسا کہ نبیﷺ نے فرمایا:
’’جو آدمی کاہن کے پاس آیا اور اس سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا
تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں کی جائے گی۔‘‘‘‘(12)
c جادوگر اور غیرشرعی عامل معاشرے کو بے دِین بناتا ہے۔
d غیبی اُمور کی خبریں دے کر لوگوں کے ایمان برباد کرتا ہے جن میں اکثر جھوٹ ہوتی ہیں۔
e جادو زدہ لوگوں کو قرآن کی تلاوت سے منع کرتا ہے تاکہ وہ شیطانی طریقے کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں اپنا علاج کر سکے، یا پھر قرآن پڑھنے کے لیے اپنی اجازت کو شرط قرار دیتا ہے اور بلااجازت پڑھنے سے منع کرتا ہے اور بظاہر یہ فریب دیتا ہے کہ قرآن کی آیات گرم ہوتی ہیں، اس سے تمہیں زیادہ نقصان ہو سکتا ہے، وغیرہ
f تعویذات کے ذریعے کفر و شرک کی ترویج کرتا ہے۔
g بدعات و خرافات والے وظیفے کرواتا ہے، مثلاً یہ وظیفہ خاص وقت، خاص جگہ اور خاص عدد میں پڑھنا ہے، مثلاً رات کے وقت قبرستان میں، یا نہر کے قریب 313 مرتبہ فلاں وظیفہ پڑھنا ہے۔
h مسنون وظائف کا نام دے کر غیرشرعی عملیات کرواتا ہے۔
i شرعی وظائف کے نام پر غیرشعوری چلہ کشی کرواتا ہے، مثلاً فلاں وظیفہ، فلاں وقت اور فلاں جگہ میں چالیس دِن یا اکیس دِن تک پڑھنا ہے۔
j حلال امور و اشیا کو ترک کرنے اور حرام کو اپنانے کا مطالبہ کرتا ہے، مثلاً گائے کا گوشت کھانے سے منع کرنا۔ وفات والے گھر جانے سے روکنا۔ میاں بیوی کو وظیفے کی مدت کے دوران تعلقات قائم کرنے سے منع کرتا ہے، بالخصوص اولاد کے حصول کے لیے اور اٹھرا کے مرض میں۔
اخلاقی نقصانات a جادوگر اور غلط معالج عورتوں سے بے حیائی، بدنظری اور ناجائز تعلقات قائم کرتا ہے۔
b جھوٹ اور مکاری پر مبنی شعبدہ بازیوں کو کرامات بنا کر پیش کرتا ہے۔
c علم قیافہ، علم نجوم، علم جفر اور ٹیلی پیتھی کے ذریعے لوگوں کے دماغوں پر قبضہ کر لیتا ہے اور اُنہیں ذہنی طور پر اپنا غلام بنا لیتا ہے۔
d بسااوقات مریض کو چیک کرنے کے بہانے اس کے گھر جاتا ہے اور خود کسی طریقے سے یا اپنے جن کی مدد سے اُن کے گھر سے قیمتی سامان چوری کروا لیتا ہے۔ یہ محض ظن نہیں ہے بلکہ مشاہدے سے ثابت شدہ امر ہے۔
e بعض نام نہاد پیر اپنی مریدعورتوں سے مصافحہ کرنے، بغل گیر ہونے، بوس و کنار اور دیگر قبیح حرکات سے بالکل عار اور شرم محسوس نہیں کرتے اور المیہ یہ ہے کہ بعض جاہل عورتیں ایسے پیر کی اس جیسی گھٹیا حرکات کو اپنے لیے سعادت سمجھ رہی ہوتی ہیں۔
عائلی نقصانات a جادوگر اور غیرشرعی عامل شادی ہونے میں رُکاوٹیں ڈالتا ہے اور شادی ہو جانے کے بعد اسے ناکام کرنے کے ذرائع پیدا کرتا ہے۔
b میاں بیوی، ساس بہو، والدین، اولاد، بھائیوں، بہنوں، دوستوں اور رشتہ داروں کے درمیان نفرت پیدا کر کے تفریق ڈالتا ہے ، رِشتوں اور خاندانوں کے ٹوٹنے کے اسباب پیدا کرتا ہے۔
c خاندانوں اور گھروں میں لڑائی، نااتفاقی اور بے چینی کی فضا پیدا کرتا ہے۔
d حاملہ عورتوں کے حمل ضائع کردیتا ہے۔
e جنسی طاقت کو ختم یا کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
معاشی نقصانات a جادوگر اور غیرشرعی عامل کاروبار وغیرہ میں رُکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔
b لوگوں کے مال ناجائز طریقے، جھوٹ ، دھوکے اور شعبدہ بازیوں سے ہتھیاتا ہے۔
c جادو کے ذریعے تجارتی سامان اور زراعت کو تباہ کرتا ہے۔
d مریض کو جادوئی عمل کے ذریعے اپنا مستقل مرید بنا کر مالی فوائد حاصل کرتا ہے۔
معاشرتی نقصانات a جادوگر اور غیرشرعی عامل معاشرے میں ہر طرح کا فساد اور گندگی پھیلاتا ہے۔
b جادوگر مریض کو باقاعدہ حکم دیتا ہے کہ اتنے دِن تک بند کمرے میں معاشرے سے کٹ کے رہتا ہے، کسی سے بات چیت اور ملاقات نہیں کرنا، نیز نہانے دھونے سے بھی اجتناب کرنا ہے۔ اس کا مقصد مریض کو صفائی ستھرائی سے دور رکھنا ہوتا ہے تاکہ شیاطین اس کی طرف بآسانی مائل ہو سکیں۔
c لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرتا ہے، مثلاً مریض کو کہنا کہ یہ جادو جان لیوا ہے، یا تم ذرا سا دیر سے آتے تو مر جاتے، یا تم ایسا نہ کرو گے تو ایسا ہو جائے گا، یا مریض کو کسی اور سے دم کروانے سے ڈراتا ہے۔
d انسانوں اور جانوروں کو طرح طرح کی تکالیف میں مبتلا کرتا ہے۔جس کے سبب معاشرے میں بدعتیں اور خرافات پیدا ہوتی ہیں۔
e شعبدہ بازیوں کے ذریعے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکتا ہے، مثلاً مریض کے گھر سے سوئیاں، انڈے اورپتلے وغیرہ نکالنا، کسی کو متاثر کرنے کے لیے اس کا نام اور شہر بتا دینا، یا اسے یہ بتلاتا ہے کہ اس نے کیا کھایا ہے۔
f مریض کو چمٹے ہوئے چھوٹے جنات نکال کر وقتی افاقہ دے کر بڑے جنات اس پر مسلط کر کے مستقل طور پر مال بٹورنے کے لیے اپنا محتاج بنا لیتا ہے۔
آسیب زدگی اور جنات کے چمٹنے کے اسباب
جنات کے چمٹنے کے درج ذیل اسباب ہوتے ہیں:
جنات کے چمٹنے کے درج ذیل اسباب ہوتے ہیں:
a دشمنی کے سبب، یعنی انسان اور شیطان کی ازلی و ابدی دشمنی کی وجہ سے شیاطین اور جنات؛ انسانوں کو تنگ کرتے رہتے ہیں۔
b انتقام کے سبب: اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان لاشعوری اور غیرارادی طور پر جنات کو تکلیف دے بیٹھتا ہے۔ اس کی درج ذیل صورتیں ہوتی ہیں:
1۔ کسی جگہ دعا پڑھے بغیر پیشاب کر دینا۔
2۔مخصوص مقامات کے علاوہ دوسری جگہوں پر کوڑا کرکٹ پھینکنا۔
3۔عرصہ دراز سے خالی مکانات میں تلاوتِ قرآن، ذکرالٰہی اور دعا وغیرہ کے اہتمام کے بغیر اچانک رہائش اختیار کر لینا۔
c خواہشات کی پیروی کی وجہ سے: جیسا کہ امام ابن قیم فرماتے ہیں کہ جو دِل ایمان اور خیر کے جذبے سے خالی ہو اس میں شیطان اپنا گھر بنا لیتے ہیں اور اسے طرح طرح کے وسوسوں اور خیالات کے ذریعے پریشان کرتے ہیں۔(13)
d ظلم کی وجہ سے: کیونکہ شیاطین بلاکسی وجہ وسبب بھی انسانوں کو تنگ کرتے رہتے ہیں۔
e عشق کے سبب، جنات کسی کے حسن و جمال کی وجہ سے اس پر فریفتہ ہو جاتے ہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ جنات کا انسان کو چمٹنا کبھی شہوات اور خواہشات کی وجہ سے ہوتا ہے اور کبھی عشق کی وجہ سے۔(14)
f چِلہ کشی کے سبب:شیخ اُسامہ العوضی فرماتے ہیں کہ یہ قسم سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اس کے ذریعے جنات کو اپنے قبضے میں کرنے کی کوشش کرتا ہے اور بہت سے غیرشرعی کاموں کے ارتکاب سے گریز نہیں کرتا اور اگر اس میں ناکام ہو جائے تو اپنی جان تک گنوا بیٹھتا ہے۔۔(15)
g جادوگروں سے دوستی لگانے کے سبب: اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض احباب ایسے لوگوں کے ہاتھ پر بیعت کر لیتے ہیں جو غیرشرعی کام کرتے ہوتے ہیں، تو اُن کے ذریعے اِن پر جنات مسلط ہو جاتے ہیں۔
h جادوئی لٹریچر اور جادوئی وظائف پڑھنے کی وجہ سے۔
i جناتی اور مرگی زدہ افراد کا علاج و معالجہ کرنے کی وجہ سے۔
j گھروں میں اگربتیاں جلانے یا خاص دِنوں میں چراغاں کرنے کی وجہ سے۔
k خاص وظیفہ، خاص وقت اور خاص جگہ پر پڑھنے کی وجہ سے۔
l غیرشرعی تعویذات پہننے کی وجہ سے:سادہ لوح عوام علاج کی غرض سے تعویذ پہن لیتے ہیں جبکہ ظالم معالج درحقیقت چھوٹے جنات نکالنے کی بجائے بڑے جنات ان پر مسلط کر دیتے ہیں تاکہ وہ مستقل طور ان کے محتاج ہو جائیں۔
m غیرشرعی عاملین سے رابطے کی وجہ سے: ایسے عاملین اپنے ساتھ وابستہ لوگوں پر ایک دو جنات کی ڈیوٹی لگا دیتے ہیں جو انہیں مستقل طور پر عامل کی طرف مائل رکھتے ہیں۔
n خلوت پسندی اور اندھیرے کی وجہ سے: بسااوقات آدمی زیادہ وقت خلوت میں گزارنے لگتا ہے اور اندھیرے میں رہنا پسند کرتا ہے، جس کی وجہ سے اس کا دِل عجیب و غریب خیالات، وسوسوں اور باطل خواہشات کا شکار ہو جاتا ہے اور شیاطین اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے دِل کو اپنی آماجگاہ بنا لیتے ہیں،
بالخصوص جب نوجوان اکیلے اپنے بیڈرُوم وغیرہ میں انٹرنیٹ میں مشغول
ہوں۔
o دِل جاری کرنے کی وجہ سے: اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ لوگ اپنے دِل کو نیکی کی طرف مائل کرنے کی غرض سے جاہل لوگوں کے بتلائے ہوئے وظیفے کو خاص کیفیت، خاص انداز اور خاص عدد میں پڑھتے رہتے ہیں جس سے دِل تو جاری نہیں ہوتا، البتہ شیطان ضرور طاری ہو جاتا ہے۔
p اسمائے حسنیٰ کو کسی مذموم مقصد کے لیے غلط انداز میں پڑھنا: لوگ اسمائے حسنیٰ میں سے کسی ایک اسم مبارک کو خاص جگہ، خاص کیفیت اور خاص عدد میں پڑھتے ہیں، اس صورت میں اُنہیں اپنا مقصد تو حاصل نہیں ہوتا البتہ غیرشعوری طور پر چِلہ کشی والا عمل ہو جاتا ہے اور ایک جن اس پر مسلط ہو جاتا ہے، مثلاً یَا وَدُوْدُ یا یَا جَبَّارُ وغیرہ پڑھنا۔ اس طرح کے نام جنات کے بھی ہوتے ہیں، اس لیے وہ حاضر ہو جاتے ہیں اور پھر انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔
q عقیدۂ توحید کی کمزوری اور اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان و توکل نہ ہونے کی وجہ سے۔
r ذکرالٰہی سے دِل اور زبان کے خالی ہونے کی وجہ سے۔
s کسی جگہ گرم پانی پھینکنے یا جنات کو قتل کروانے، جلانے یا تکلیف پہنچانے کی وجہ سے۔
t شیطانوں کا حملہ صرف اسی شخص پر ہوتا ہے جو اپنے ایمان و عقیدہ کی کمزوری کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ سے دُور ہو جاتا ہے۔
u عورت کا زیب و زینت کے ساتھ بے پردہ ہو کر بازاروں میں یا غیرمحرم لوگوں کے سامنے آنے کی وجہ سے۔
v گرمی کے موسم میں مرد یا عورت کا رات کو باریک ترین لباس پہن کر اذکار وغیرہ پڑھے بغیر سونا بھی جنات کے حملے کا سبب بن جاتا ہے۔
w بیت الخلا میں پیشاب یا غسل کرنے کے لیے دعا پڑھے بغیر جانے کی وجہ سے۔
x بیوی سے دعا پڑھے بغیر مباشرت کرنے کی وجہ سے۔
y شدید غفلت، غصے اور خوف کی وجہ سے۔
No comments:
Post a Comment