Featured Post

اسماء الحسنیٰ ۔ انسان کی تمام پریشانیوں اور مصیبتوں، تکالیف اور بیماریوں کا شافی علاج

اسماء الحسنیٰ  انسان کی تمام پریشانیوں اور مصیبتوں، تکالیف اور بیماریوں کا شافی علاج بسم اللہ الرحمن الرحیم دنیا کبھ...

Thursday, November 26, 2015

جادو قرآن وسنت کے آئینے میں

جادو قرآن وسنت کے آئینے میں
 جادو اور ٹونے کا اثر  زائل کروانے کے لئے بہت سے مسلمان جادوگروں اور فاجروں کے پاس جاتے ہیں اور اپنا ایمان و عقیدہ بگاڑ لیتے ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ انہیں جادو کا شرعی علاج بتایا جائے ۔ 
جن اور جادوگر کے  درمیان قوی تعلق ہوتاہے، بلکہ جن وشیاطین جادوکے بنیادی عوامل ہیں۔ بعض لوگوں نے جنات کے وجود کا انکار کیا جس کے نتیجہ میں جادو کا بھی انکار کیا اس لئے مناسب معلوم ہوتاہے کہ مختصرا جن و شیاطین کے وجود پر دلائل پیش کروں۔

 قرآنی دلائل۔



2- حدیث نبوی سے دلائل
(1)          حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک رات ہم لوگ رسول اللہ کے پاس تھے کہ آپ ہمارے بیچ سے کہیں چلے گئے ہم لوگوں نے آپ کو وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا لیکن آپ نہ ملے ۔ تو ہم نے کہا کہ آپ کو اڑالے جایا گیا، یا آپ کے ساتھ دھوکہ  کیا گیا  ۔ چناں چہ ہماری وہ رات بڑی  بری طرح گذری ۔ جب صبح ہوئی تو ہم کیا دیکھتے ہیں کہ آپ بطحاء کی جانب سے تشریف لارہے ہیں ۔ہم نے کہا :ائے اللہ کے رسول جب آپ ہم سے اوجھل ہوگئے تو ہم نے آپ کو خوب تلاشا، اور نہ ملنے پر  ہم نے بری حالت میں رات گذاری ۔ تو آپ نے فرمایا : ‘‘أتانی داعی الجن فذھبت معہ وقرأت علیھم القرآن’’۔
یعنی میرے پاس جنات کا قاصد آیا تو میں اس کے ساتھ چلا گیا اور ان پر قرآن پیش کیا۔ (رواہ مسلم)۔
(2)          حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے ۔  انہوں نے کہا کہ رسول اللہ نے مجھ سے فرمایا کہ میں تم کو بکری اور جنگل سے دل چسپی لینے والا دیکھتا ہوں۔ چناں چہ تم جب اپنی بکریوں کے ساتھ کسی سنسان میدان میں ہوتو اذان کہوتو اپنی آواز بلند کرو ۔ کیوں کہ مؤذن کی آواز  جن ، انسان اور کوئی چیز نہیں سنے گی مگر قیامت کے دن اس کی شہادت دے گی۔ (رواہ البخاری)۔
(3)         حضرت عائشہ ؓ  سے روایت ہے ۔ وہ فرماتی  ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ :خلقت الملا ئکۃ من نور و خلق الجان من مارج من نار و خلق آدم مما وصف لکم (احمد و مسلم)  یعنی فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا اور جنات کو آگ کی لپیٹ سے اور آدم کو اس چیز سے جس کی صفت تم سے بتائی گئی یعنی مٹی سے۔
(4)          حضرت صفیہ بنت حیی سے مروی ہے کہ آنحضرت نے ارشاد فرمایا کہ ‘‘ان الشیطان یجری من ابن آدم مجری الدم ’’ (رواہ البخاری) یعنی بیشک شیطان ابن آدم کے خون جاری ہونے کی جگہ میں جاری ہوتا ہے (دوڑ تا ہے)۔
(5)         حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ تم میں سے جب کوئی کھانا کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب پیئے تو دائیں ہاتھ سے پیئے۔ کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے۔
جنوں کے بارے میں افراط و تفریط:
کچھ لوگ جنوں کی حقیقت سے انکار کرتے ہیں اور وہ اس انکار میں اتنے متشدد ہیں کہ جنات کے ثبوت کی ہر دلیل کو نظر انداز کردیتے ہیں کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر کسی پر جن یا شیطان کا اثر ہوتا ہے تو اسے ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے ہیں۔ اور جس پر ایسی مصیبت پڑتی ہے اس کی سخت نکیر کرتے ہیں۔ اب وہ بے چارہ جس کو اثر لاحق ہوتا ہے وہ خاموشی سے کسی غلط آدمی کے پاس چلا جاتا ہے اور غلط طریقہ سے علاج کرواتاہے۔ جس میں کبھی غیراللہ کی دہائی ہوتی ہے اور کبھی شرکیہ منتروں سے علاج ہوتا ہے ۔ بسااوقات مریض تو ٹھیک ہوجاتا ہے لیکن ایمان و عقیدہ سے تہی دامن ہوجاتا ہے۔ اس کے بر عکس کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ کسی کو بخار بھی ہو اور شدت بخار سے اول فول بک رہا ہو تو برجستہ بول دیتے ہیں آسیب کا اثر ہے، اسی طرح اگر کسی کے بدن میں درد ہو تو کہہ دیتے ہیں کہ جن وشیطان کا اثرہے، غرض یہ کہ ان کو ہرہر چیز میں جن، شیطان اور آسیب ہی نظر آتا ہے۔
  جادو کے اثبات میں قرآنی دلائل:

(4)          اللہ تعالیٰ نے سورہ فلق میں فرمایا : (وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِي الْعُقَدِ) امام قرطبی کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ جادو گرنیاں ہیں جو دھاگے میں پھونک کر گرہ لگاتی تھیں ۔ نیز حافظ ابن کثیرفرماتے ہیں کہ مجاہد، عکرمہ، حسن، قتادہ اور ضحاک نے کہا کہ النفّٰثٰت سے مراد سواحر(جادوگرنیاں) ہیں۔

یہ چند آیتیں مثال کے طور پر ذکر کی گئی ہیں ورنہ جادو اور جادو گروں کے متعلق اور بھی بہت سی مشہور آیتیں ہیں جو دین کی ادنیٰ سمجھ رکھنے والوں پر بھی مخفی نہیں ہیں۔

جادو حدیث نبویؐ کی روشنی میں:
(1)         حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ پربنی زندیق کے لبید بن أعصم نامی شخص نے جادو کیا تھا، جس کے اثر سے آپ کا حال یہ ہو گیاتھا کہ آپ کا خیال ہوتا کہ فلاں کام میں نے کرلیا حالانکہ اسے نہ کئے ہوتے تھے، ایک دن یا ایک رات آپ میرے پاس تھے تو آپ نے خوب دعائیں کیں، پھر فرمایا: عائشہ تمہیں معلوم ہے ؟ میں نے جس بارے میں اللہ سے دعاء کی اسے اللہ نے قبول فرمائی، جس کے نتیجہ میں میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں سے ایک میرے سرہانے اور دوسرا پیتانہ بیٹھا۔ ایک نے دوسرے سے کہا: اس آدمی (محمدؐ) کو کیا تکلیف ہے؟ تو اس نے جواب دیا سحر زدہ ہیں ۔ پھر پہلے شخص نے سوال کیا: کس نے جادو کیا؟ تو دوسرے نے جواب دیا لبید بن اعصم نے، پھر سوال کیا کس چیز میں جادو کیا؟ تو دوسرے نے جواب دیا کہ کنگھے سے لئے گئے آپؐ کی داڑھی یا سر کے بال اور کھجور کے پیڑ میں، پھرپوچھا وہ اس وقت کہاں ہے؟ تو جواب دیا بئر ذروان میں۔ چناں چہ حضور اپنے اصحاب کی معیت میں اس کنویں کے پاس تشریف لے گئے اور وہاں سے واپس لوٹنے کے بعدفرمایا: عائشہ! اس کنویں کا پانی گویا مہندی کا عرق ہے اور اس کے پاس کے کھجور کے پیڑ کا سرا گویا شیاطین کے سر ہیں، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول آپ نے اس کو نکلوایا نہیںؓ تو آپ نے فرمایا اللہ نے مجھے عافیت دی چنانچہ میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ لوگوں کیلئے کوئی شر ابھاروں۔ پھر آپ نے حکم دیا تو اس کنویں کو پاٹ دیا گیا(بخاری و مسلم)۔

(2)         حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا سات ہلاک کن چیزوں سے اجتناب کرو! صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ سات چیزیں کیا ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، جادو ، ان نفسوں کو قتل کرنا جن کو اللہ نے حرام قرار دیا، سود کھانا، یتیم کامال کھانا، میدان جہاد سے بھاگ کھڑا ہونا اورر پاکد امن عورتوں پر تہمت لگانا (البخاری)۔

(3)         حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضور نے فرمایا کہ جس نے علم نجوم حاصل کیا اس نے جادو کا ایک شعبہ حاصل کیا چنانچہ وہ علم نجوم کا حصول جتنا زیادہ کریگا وہ اتنا جادوہی کے حصول میں اضافہ کریگا۔ (ابوداؤد، علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح قراردیا)۔

(4)         حضرت عمران بن حصینؓ سے روایت ہے کہ حضور نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جس نے پرندہ اڑایا اور جس کیلئے اسے اڑایا گیا (یعنی شگون نکالا) اور جس نے کہانت کی یا جس کیلئے کیا گیا اور جس نے جادو کیا یا جس کے لئے جادو کیا گیا۔ اور جو شخص کاہن کے پاس آیا اور اس کی بات کی تصدیق کی تو اس نے محمد پر نازل کی گئی چیز کو ٹھکرایا (علامہ البانی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن لغیرہ کے درجہ میں ہے)۔

اوپر مذکور قرآنی آیتوں اور احادیث رسول سے یہ حقیقت بے نقاب ہوجاتی ہے کہ جادو ایک حقیقت ہے، لہٰذا اس کا انکار ایک بدیہی حقیقت کا انکار ہے، یہ اور بات ہے کہ جادو کا اثر بغیر مشیئت الٰہی کے نہیں ہو سکتا ہے۔

قرطبی کہتے ہیں کہ اہل سنت وجماعت کا مذہب یہ ہے کہ جادو ثابت ہے اور اس کی ایک حقیقت ہے، اور معتزلہ و بعض شوافع کامذہب یہ ہے کہ جادو کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ نیز مازری کہتے ہیں کہ جادو ایک امر ثابت ہے اور دیگر أشیاء کی مانند اس کی حقیقت ہے، اور مسحور (جس پر جادو کیا گیا) اس کا اثر ہوتا ہے۔

امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ جادو کی ایک حقیقت ہے، جمہور قطعیت کے ساتھ اس حقیقت کے قائل ہیں، عام علماء کا مسلک بھی یہی ہے اور کتاب اللہ و سنت صحیحہ اس پر دال ہیں۔ ابو القاسم المقدسی کہتے ہیں کہ سحر کچھ عزائم و منتروں سے عبارت ہے جو دل اور جسم پر اثرانداز ہوتا ہے پھر وہ سحر زدہ شخص کو بیمار کردیتا ہے اور مار ڈالتا ہے۔ نیز وہ شوہر اور بیوی کے درمیان تفریق کردیتا ہے ، نیز کہتے ہیں کہ اگر جادو کی حقیقت نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس سے پناہ مانگنے کا حکم نہ دیتا جیساکہ اس کا فرمان ہے (وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِي الْعُقَدِ) (الفلق)
علامہ ابن قیم بدائع الفوئد میں فرماتے ہیں کہ اللہ کا قول (وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِي الْعُقَدِ) اور حضرت عائشہ کی حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جادو کا اثر ہوتا ہے اس کی حقیقت ہے۔

قارئین کرام مذکورہ تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جادوایک حقیقت ہے اور اس کا بر اثر ہونا نقلاً و عقلاً ثابت ہے۔ نیز آپ میں سے بہت سوں کو جادو کے مضر اثرات کا تجربہ بھی ہوا ہوگا۔ ان اثرات کو زائل کرنے کا شرعی طریقہ کیاہے؟ وہ انشاء اللہ اپنی جگہ میں آئے گا۔



No comments:

Post a Comment