بواسیر کے اسباب:
ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان اور ہندوستان
کے لوگ تیزابی غذا بہت زیادہ کھاتے ہیں۔ نظامِ زندگی میں تواتر، تسلسل، ربط اور
توازن کا فقدان اس بیماری کا ایک بڑا سبب ہے۔ لوگ نہیں جانتے کہ عمر کے کس حصے میں
انہیں کیسی خوراک کھانی چاہئیے۔ مختلف اشیاء خورد و نوش کی کیا اہمیت و نقائص ہیں۔
معاشرتی تغیر و تبدل، طبقاتی نظام، امیر و غریب کا فرق اور احساس کمتری وغیرہ کا
اس مرض سے براہِ راست تعلق ہے۔ اس کا ثبوت اسی مضمون میں آگے چل کر آپ پڑھیں گے۔
بواسیر کے دیگر اسباب ۔
غیر متوازن خوراک، وقت بے وقت کھاتے رہنا،
بغیر بھوک کے کھانا۔
پانی تھوڑی مقدار میں پینا۔
ذہنی پریشانیاں یا ڈیپریشن۔
یرقان کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے کہ یرقان
میں جگر تازہ خون نہیں بناتا۔
ذیابیطس/شوگر کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے۔
زیادہ دیر تک کرسی پر بیٹھے رہنا۔
قبض اس کی سب سے پہلی علامت ہے۔ قبض سے ہی
بات آگے بڑھتی ہے۔
خواتین میں حمل کے دوران سستی اور کاہلی کی
وجہ سے جسمانی حرکت کا نا کرنا۔
دوران حمل خواتین کام کرنا نقصان دہ سمجھتی
ہیں، غیر ضروری آرام حمل میں بواسیر کا سبب بنتا ہے۔
نوجوان لڑکے اور لڑکیوں میں مجامعت اور جلق
بھی اس کا ایک اہم سبب ہے (معاذاللہ)۔
تنہائی پسند، خاموش طبع لوگ جو ہر وقت
اندھیرے میں رہنا پسند کریں، وہ بھی اس مرض کا شکار ہو سکتے ہیں۔
بڑھاپے میں جسمانی حرکت میں کمی اور تازہ
خون کی عدم پیداوار۔
غیر فطری جنسی عمل اور اس کی زیادتی بھی
ایک سبب ہے ۔
بازاری کھانے۔ خصوصاً ریڑیوں پر لگے ہوئے کھانے، کہ ان میں حفظانِ صحت کے اصولوں کی
صریح خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ہوٹلوں اور ریستورانوں کے اکثر کھانے باسی ہوتے ہیں۔ تازہ
اجزاء سے تیار نہیں کئیے جاتے۔
تیل اور گھی سے بھرپور کھانے۔ مثلاً پکوڑا،
سموسہ، کچوری، بازاری نان/کلچہ اور پراٹھا وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں بواسیر کے مریض کے
لئیے زہر قاتل ہیں۔
کالی اور سرخ مرچ، مصالحہ جات۔
مچھلی، بازاری مرغی اور دیگر تمام بھنے
ہوئے گوشت۔ مثلاً چکن اور مٹن کی ہانڈی و کڑاہی وغیرہ۔ تاہم شوربہ و یخنی بغیر مرچ
مصالحہ کے استعمال کی جاسکتی ہے۔
بواسیر کا علاج:
علاج کے سلسلے میں ہم یہاں کسی دوائی کا
نام نہیں لکھیں گے، کیونکہ ہم "نیم حکیم" کے بہت خلاف ہیں۔ اگر کوئی
نسخہ مرتب کر دیا تو ہو سکتا ہے قارئین کو خود سے بنانے میں مشکل پیش آئے اور
تجربہ کرتے ہوئے نقصان نا ہو جائے۔ ادویاتی مرکبات کی تیاری صرف اور صرف وہی شخص
کر سکتا ہے جو اس کی اثرات، استعمالات اور اجزائے ترکیبی کے تمام خواص سے آگاہ
ہو۔ اس لئیے ہمارا مشورہ ہے کہ جب تک آپ کو کسی بھی دوا کے بارے مکمل معلومات نا
ہوں، آپ ہرگز استعمال کریں نا تیار کریں۔ ہمیشہ کسی ماہر سے مشاورت کے بعد ہی
کوئی دوا استعمال کریں۔ لہٰذا ہم غذا کے ذریعے سادہ اور عام فہم علاج آپ کے لئیے
پیش کرتے ہیں۔
بواسیر کے علاج کے لئیے ضروری ہے کہ اوپر
لکھے گئے اس کے اسباب کا رد اور تدارک کریں۔ اس بیماری کی وجوہات جو ہم نے پہلے رقم
کر دی ہیں ان پر غور کریں اور ان اسباب و وجوہات کو اپنے نزدیک نا آنے دیں۔ ذیل
میں کچھ علاج کے لئیے کچھ تارکیب ہیں۔
تازہ اور صاف پانی سوا لیٹر یعنی 1250 ملی لیٹر نہار منہ پینے کی عادت اپنائیں۔ کچھ لوگ
شکایت کرتے ہیں کہ اتنی مقدار میں پانی پینے سے پیٹ میں درد اٹھتا ہے۔ نہار منہ
پانی کے استعمال کا بھی خاص طریقہ ہے۔ آپ صبح شتاب اٹھیں۔ اٹھنے کے فوری بعد ایک
گلاس پئیں، پھر وضو یا غسل کے بعد پئیں، نمازِ فجر ادا کریں پھر پئیں، یوں وقفے سے
پیتے رہیں۔ ایک ہفتے میں سوا لیٹر پانی پینا آپ کا معمول بن جائے گا۔ اس عمل کا
سب سے بڑا فائد یہ ہو گا کہ آپ کا پیٹ بشمول معدہ ، جگر اور مثانہ ایک دم صاف
ستھرا اور تازہ دم ہو جائے گا۔ ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ اس عمل کی برکت سے آپ کی
پرانی سے پرانی قبض بیس سے پچیس دنوں میں کاملاً ختم ہو جائے گی۔ اور قبض ہی
بواسیر کی بنیادی وجہ ہے۔ پانی کی اس ترکیب سے شوگر، یرقان ، مثانہ و پتے کی پتھری
کا علاج بھی کامیابی سے کیا جا چکا ہے۔ خواتین جن کو حیض اور رحم کی تکالیف ہوں،
پانی کو اسی ترکیب سے استعمال کریں۔
ہری سبزیاں،
خصوصاً پالک، شلجم اور گاجر بھی مفید ہے۔ پودینہ کے پتے اور اس کی چٹنی بہت مفید
ہے کہ اس سے معدہ کو تقویت ملتی ہے۔
بواسیر کے مریضوں کے لئیے انجیر ایک نعمت
بے بہا ہے۔ کائنات کے سب سے بڑے حکیم و طبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے انجیر کی یہاں
تک تعریف فرمائی کہ اسے جنت کا میوہ قرار دیا۔ چنانچہ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالٰی
عنہ روایت کرتے ہیں کہ تاجدار انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ “انجیر
کھایا کرو۔ اگر مجھ سے کہا جائے کہ کیا کوئی پھل جنت سے زمین پر آ سکتا ہے تو میں
کہوں گا کہ ہاں یہی ہے۔ یہ بلاشبہ جنت کا پھل ہے اسے کھایا کرو کہ یہ بواسیر کو
کاٹ کر رکھ دیتا ہے اور گھنٹیا میں مفید ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ بواسیر پُرانی قبض، جگر کی
خرابیاں اور پیٹ کے آخری حصہ میں خون کی نالیوں میں دوران خون سست پڑ جانے سے
پیدا ہوتی ہے۔ جب یہ ان کا علاج ہے تو مطلب یہ ہوا کہ انجیر قبض کو دور کرتی ہے۔
جگر کے لئے مصلح ہے اور خون کی نالیوں میں دوران خون کو دُرست کرتی ہے۔
انجیر کی ساخت میں موجود چھوٹے چھوٹے دانے پیٹ میں جاکر پھول جاتے ہیں۔ ان
کا اسبغول کی مانند پھولنا بھی قبض کو دور کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔رات سونے سے
قبل انجیر پانچ عدد انجیر خشک گرم دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔ جب تک مکمل افاقہ نا
ہو جائے جاری رکھیں۔ بلکہ معدہ کی درستگی کے لئیے ہمیشہ استعمال کریں گے تو بہت
نافع پائیں گے۔
ہڑ ہڑ جس کو ہریڑ بھی کہا جاتا ہے، اس کا مربہ رات سونے سے قبل پانچ عدد
گرم دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔ یاد رکھیں انجیر یا ہریڑ بیک وقت استعمال کرنا
ٹھیک نہیں۔ اگر دونوں کا استعادل کرنا ہو تو کسی ایک کو دوپہر کے کھانے کے بعد اور
دوسری کو رات کے وقت ۔
زیتون اللہ تعالیٰ کے عظیم نعمت ہے۔ اس کا تیل بواسیر میں خصوصی اہمیت کا
حامل ہے۔ اگر بواسیر کے مسؔے اور دانے بن جائیں تو زیتون کا تیل ان کے اوپر
لگائیں۔ دن میں کم از کم تین بار تواتر کے ساتھ مقعد پر لگائیں۔ جلن، خارش اور درد
میں افاقہ ہو جائے گا۔ کھانے میں زیتون کا تیل استعمال کریں۔ صبح یا شام میں کسی
ایک وقت چائے کا ایک چمچ زیتون تیل پی لیں۔ قبض کشا اور مقوی معدہ و آنت ہے۔
کھانے میں دلیہ بہت مفید ہے۔ طبیبوں کے طبیب اللہ تعالیٰ کے حبیب صلی اللہ علیہ وا
لہ وسلم نے فرمایا " یہ پیٹ کو اس طرح صاف کر دیتا ہے کہ جیسے تم میں سے کوئی
اپنے چہرے کو پانی سے دھو کر اس سے غلاظت کو اتار دیتا ہے"۔
یہ ایک بڑی خوبصورت مثال ہے کہ کیونکہ جو
میں باریک ریشہ کثیر مقدار میں ہوتا ہے۔ یہ پیٹ میں جاکر پھولتا ہے اور آنتوں میں
بوجھ کی کیفیت پیدا کرکے اجابت کے عمل کو تیز کرتا ہے۔ جو میں لحمیات کے اجزاء بھی
ہوتے ہیں جو جسم کو توانائی مہیا کرتے ہیں۔ اگر کسی کو کمزوری کی وجہ سے قبض محسوس
ہو رہی ہو تو جو کھانے سے اس کا مداوا بھی ہو جائے گا۔
ناشتہ میں جو کا دلیا آنتوں کو صاف کرتا
اور بواسیر میں مفید ہے۔
آٹا چھان کر نہ پکایا جائے کیونکہ اس کی
بھوسی قبض اور دل کا علاج ہے۔
بواسیر
بواسیر ان کثیر الوقوع
امراض میں سے ایک ہے جو ایک طویل مدت سے پاک و ہند میں وبا کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔
ذیل میں اس کے لیے کچھ آسان اور مجرب نسخے درج کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے قوی امید
ہے کہ افادئہ عام کا باعث بنیں گے۔ بواسیر کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ ایک وہ جس میں خون
اور بعض اوقات زرد رنگ کا پانی پاخانہ کے راستہ مسوں سے خارج ہوتا ہے۔ اسے خونی
بواسیر کہتے ہیں۔
دوسری قسم
میں خون وغیرہ بالکل نہیں نکلتا لیکن مقام مقعد پر خارش ہوتی رہتی ہے۔ اسے بادی
بواسیر کہتے ہیں۔ خونی بواسیر میں بدہضمی اور قبض کی شکایت رہتی ہے پاخانہ نہایت
تکلیف سے تھوڑا تھوڑا آتا ہے۔ خون کبھی تو پاخانہ کے ساتھ مل کر اور کبھی قطرہ
قطرہ ٹپکنے لگاتا ہے۔ مسوں میں شدت سے درد رہتا ہے۔ مقعد پر ورم آ جاتا ہے۔ بادی
بواسیر میں خون تو نہیں نکلتا لیکن اس کی تکلیف خونی بواسیرسے کم نہیں ہوتی۔ پیٹ میں
ریح پھرتی رہتی ہے اور ازحد قبض ہو جاتی ہے۔
بدن ہر
وقت ٹوٹتا رہتا ہے۔ کمر اور رانوں میں درد رہتا ہے۔ ہاضمہ خراب اور بھوک کم ہو جاتی
ہیں چہرہ اور بدن کی رنگت پھیکی پڑ جاتی ہے۔
ابا جان مرحوم حکیم محمد عبداللہ نے اپنی کتاب کنزالمجربات میں ایک نسخہ
اور واقعہ درج کیا ہے۔ جو یہاں پر من و عن لکھ رہاہوں۔
مشہور
معالج بواسیر کا راز طشت ازبام:
میرے محب
مخلص جناب حکیم محبوب عالم فرسٹ کلاس مجسٹریٹ لداخ نے اپنے خط کے اندر بیان فرمایا
کہ ہمارے علاقے میں ایک حجام بواسیر کے علاج میں خاص شہرت رکھتا تھا لیکن وہ نسخہ
نہیں بتاتا تھا۔ وہ ایک گولی مسوں پر گھس کر لگانے کے لیے دیا کرتا تھا جس سے مریض
بفضلہ تعالیٰ شفایاب ہو جاتا۔ وہ ایک بار بیمار ہوا تو میں نے ایک شخص کو خاص طور
پر اس کے پاس بھیجا تاکہ کم از کم مرتے وقت تو نسخہ بتلا جائے تاکہ خلق خدا کو
فائدہ پہنچتا رہے۔ چونکہ وہ بھی زندگی سے مایوس ہو چکا تھا اور بہت ہی ضعیف العمر
تھا اس لیے اس نے ذیل کا نسخہ بیان کیا جو درج ذیل ہے۔
بواسیر کی
اکسیری گولی:
ھوالشافی:رسونت،
سہاگا، دونوں مساوی الوزن لے کر پانی کی مدد سے ریٹھہ کے برابر گولیاں بنا رکھیں
اور مسوں پر گھس کر لگائیں یا لگوائیں۔ اس کے بعد کہنے لگا بس یہی نسخہ ہے جس کو
بنا کر میں تمام عمر دیتا رہا ہوں چونکہ نسخہ بظاہر معمولی معلوم ہوتا تھا اس لیے
میں نے کسی کو نہیں بتایا حالانکہ بہت سے لوگ پوچھنے کے درپے تھے۔
ھوالشافی:
رسونت عمدہ خالص، قلمی شورہ برابر وزن لے کر اس میں سولہ گنا مولی کا پانی ملا کر
آگ پر پکائیں۔ جب گاڑھا ہو جائے تو مونگ کے برابر گولیاں بنا لیں۔ ایک گولی صبح ایک
شام تازہ پانی سے دیا کریں۔ نہایت مختصر اور فوری اثر نسخہ ہے۔
ھوالشافی:
مسوں کو دور کرنے کے لیے ایک نہایت آسان نسخہ درج کرتا ہوں۔ گائے کے مکھن کو کسی
پتھر کی سل پر رکھ کر اوپر سکہ (سیسہ) کا ٹکڑا اتنا گھسیں کہ مکھن کا رنگ سیاہ ہو
جائے۔ بس مرہم تیار ہے۔ کسی پیچ دار کھلے منہ کی ڈبیا میں سنبھال رکھیں۔ دن میں دو
بار مسوں پر لگاتے رہیں۔ نہایت عجیب الاثر مرہم ہے چند ہی روز میں مسوں کو خشک کر
دیتا ہے۔
ھوالشافی:
اگر بواسیر میں خون کی شدت ہو تو ہلدی3 حصہ۔ گیرو ایک حصہ باریک پیس کر کپڑ چھان
کر لیں۔ چائے کے چمچ کا تیسرا حصہ دن میں دو تا 3 بار سادہ پانی یا شربت انجبار سے
پینا ایک سے دو خوراک ہی میں خون کو روک دے گا۔ اگر زیادہ شدت ہو تو چاول کی پچ کے
ساتھ استعمال کریں۔
ھوالشافی:
دادا جان ولی ٔ کامل مولانا محمد سلیمان بواسیر کے لیے ایک روحانی علاج بتایا کرتے
تھے لگے ہاتھوں وہ بھی درج کیے دیتا ہوں۔
بواسیر کا
مریض ہر روز فجر اور مغرب کی نماز سے فارغ ہو کر قبلہ رخ بیٹھ کر سات سات بار اَللّٰھُمَّ
اِنَّنِیْ ھَدَانِیْ رَبِّیْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٌ پڑھے
اور اوّل آخر ایک ایک بار درود ابراہیمی پڑھے۔ اللہ تعالیٰ صحت عطا فرمائیں گے۔
بواسیر کے مریض کو تیز مرچ مسالا اور انڈا، مچھلی، گوشت، کریلے و دیگر گرم اشیاسے
پرہیز کرنا چاہیے۔۔
ہمیں کامل یقین ہے کہ اس مضمون میں لکھے
گئے پرہیز اور علاج کے پچیس فیصد پر بھی اگر عمل کر لیا جائے تو بواسیر سے نجات مل
جائے گی۔
No comments:
Post a Comment